حکومت نے وائی فائی نیٹ ورکس کو غیر محفوظ قرار دیدیا
اشاعت کی تاریخ: 10th, January 2025 GMT
اسلام آباد:
حکومت نے وائی فائی نیٹ ورکس کو غیر محفوظ قراردیدیا۔اس حوالے سے نیشنل انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ نے تمام اداروں کو وائرلیس نیٹ ورکس بارے سیکیورٹی تھریٹ سے متعلق ایڈوائزری جاری کردی ہے۔
ایڈوائزری میں وائی فائی نیٹ ورکس کے استعمال میں درپیش سائبر سیکیورٹی خطرات اور حفاظتی تدابیربارے آگاہ کرتے ہوئے تمام اداروں سے کہا گیا ہے کہ وائی فائی استعمال کرتے وقت حفاظتی تدابیر اختیار کی جائیں.
سائبر سیکیورٹی خطرات کے تناظر میں یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ ڈیفالٹ سیکیورٹی کنفیگریشنز، اور صارفین کی آگاہی کی کمی کی وجہ سے بدنیتی پر مبنی افراد نیٹ ورک یا سسٹمز تک مستقل رسائی حاصل کر سکتے ہیں، مالویئر انسٹال کر سکتے ہیں اور حساس معلومات چوری کرسکتے ہیں۔
تجاویز میں کہاگیا ہے کہ ڈیفالٹ اسناد تبدیل کریں اورراؤٹر کے ویب یا سی ایل آئی انٹرفیس تک رسائی کے لیے مضبوط اور منفرد پاس ورڈز کا استعمال کیا جائے اور سیکورٹی کو موثر و مضبوط بنانے کیلئے پاس ورڈر کی زیادہ سے زیادہ لمبائی اور پیچیدگی کو یقینی بنائیں اسی طرح محفوظ انکرپشن پروٹوکول کا استعمال کریں اور ڈبلیو پی اے تھری( WPA3 )پروٹوکول اپنائیں.
ڈیفالٹ ایس ایس آئی ڈی تبدیل کرتے رہیں اور اس آئی ڈی کو چھپائیں، وائی فائی کا نام نشر نہ کریں۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل، سپریم کورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا
سپریم کورٹ نے نیب قانون میں کی گئی ترامیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق اہم مقدمے کا محفوظ شدہ فیصلہ سنا دیتے ہوئے قرار دیا ہے کہ قومی احتساب بیورو (نیب) سے متعلق تمام مقدمات اب وفاقی آئینی عدالت میں سنے جائیں گے۔
جسٹس محمد علی مظہر نے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ نیب قانون میں ترامیم کے بعد سپریم کورٹ کو نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار حاصل نہیں رہا، اس لیے نیب سے متعلق تمام زیر التوا اور آئندہ مقدمات وفاقی آئینی عدالت کو منتقل کیے جائیں گے۔
یہ بھی پڑھیں:ایرانی ڈیزل اسمگلنگ کیس: وفاقی آئینی عدالت نے اہم سوالات اٹھا دیے
سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں نیب اور وفاقی حکومت کا مؤقف درست قرار دیتے ہوئے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 175، نیب آرڈیننس کے سیکشن 32 اور 32 اے کے تحت نیب مقدمات کی سماعت کے لیے وفاقی آئینی عدالت ہی مجاز فورم ہے۔
سپریم کورٹ نے اس معاملے پر فریقین کے تفصیلی دلائل سننے کے بعد 16 جولائی کو فیصلہ محفوظ کیا تھا، جو جمعہ کو سنایا گیا۔
اس فیصلے کے بعد نیب سے متعلق تمام مقدمات کی سماعت اب وفاقی آئینی عدالت میں ہوگی، جبکہ سپریم کورٹ ان مقدمات کی سماعت نہیں کرے گی۔ یہ فیصلہ نیب مقدمات کے عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق ایک اہم آئینی نظیر قرار دیا جا رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں