توشہ خانہ 2 کیس:کیس کی سماعت 14 جنوری تک ملتوی
اشاعت کی تاریخ: 10th, January 2025 GMT
اسلام آ باد : توشہ خانہ 2 کیس میں بشریٰ بی بی کی عدم پیشی پر عدالت نے برہمی کا اظہار کردیا۔
زرائع کے مطابق اڈیالہ جیل راولپنڈی میں بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کے خلاف توشہ خانہ 2 کیس کی سماعت ہوئی۔ اسپشل جج سینٹرل شاہ رخ ارجمند نے کیس کی سماعت کی۔
توشہ خانہ 2 کیس کی سماعت میں بشریٰ بی بی اور ان کے وکلا پیش نہیں ہوئے۔
عدالت نے بشریٰ بی بی اور ان کے وکلا کی عدم حاضری پر برہمی کا اظہار کیا۔ عدالت نے آئندہ سماعت پر بشریٰ بی بی کے وکلا کی جانب سے گواہ پر جرح مکمل نہ کرنے پر تادیبی کارروائی کی ہدایت کی۔
سماعت کے دوران مزید ایک گواہ پر جرح مکمل کی گئی۔ جرح کیبنٹ ڈویژن کے ڈپٹی ڈائریکٹر کوارڈینیشن محمد احد پر کی گئی۔
عمران خان کے وکیل نے جرح کی۔ دوران سماعت استغاثہ کے گواہ طلعت کا بیان بھی ریکارڈ کرلیا گیا۔
عدالت نے آئندہ سماعت پر مجموعی طور پر مزید 5 گواہ طلب کر لیے۔ محمد شفقت،قیصر،عمر صدیق،محسن اور فہیم کو بیان ریکارڈ کرانے کے لیے طلب کیا گیا۔
کیس کی سماعت 14 جنوری تک ملتوی کر دی گئی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: توشہ خانہ 2 کیس کیس کی سماعت عدالت نے
پڑھیں:
نیب کیسز کی مرکزی اپیلوں اور ضمانت کی درخواستوں کی سماعت سے متعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ جاری کردیاگیا
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)نیب کیسز کی مرکزی اپیلوں اور ضمانت کی درخواستوں کی سماعت سے متعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ جاری کردیاگیا۔
نجی ٹی وی چینل جیونیوز کے مطابق سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ عدالتیں میڈیا کی پذیرائی یا عوامی مقبولیت کے کیلئے فیصلے نہیں کرسکتیں ،عدالت کا بنیادی فرض آئین اور قانون کے مطابق فیصلے کرنا ہے،قانون سے ہٹ کردائرہ اختیار کو اختیار کرنا یافرض کر لینا عدالتی اصولوں کے منافی ہے،عدالت نہ غیرقانونی دائرہ اختیار استعمال کر سکتی ہے، نہ قانونی دائرہ اختیار سے دستبردار ہو سکتی ہے،دائرہ اختیار کا تعین صرف آئین اور قانون کرتے ہیں۔
سندھ حکومت پولیس فورس کو جدید خطوط پر استوار کرنے کیلئے پرعزم ہے، وزیراعلیٰ سندھ
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ آرٹیکل 175کے تحت ہر عدالت صرف وہی دائرہ اختیار استعمال کرسکتی ہے جو آئین یا قانون نے دیا ہو، آئین اور قانون کی مقررہ حدود سے تجاوز اختیارات سے ناجاز تجاوز کے مترادف ہے،دائرہ اختیار کے بغیر دیا گیا فیصلہ کالعدم اورغیرموثر ہوتا ہے،دائرہ اختیار کے بغیر فیصلے کو رم نان جوڈائس کے اصول کی زد میں آتے ہیں،ہر عدالت اپنے آئینی اور قانونی دائرہ اختیار کی پابند ہے،وفاقی آئینی عدالت اور سپریم کورٹ کے دائرہ ہائے اختیار الگ الگ ہیں،وفاقی آئینی عدالت اور سپریم کورٹ کے اختیارات ایک دوسرے پر حاوی نہیں ،وفاقی آئینی عدالت اور سپریم کورٹ ایک دوسرے کے اختیار میں مداخلت بھی نہیں کر سکتے۔
اداکارہ روما مائیکل اداکار شان بیگ سے شادی کے بندھن میں بندھ گئیں
عدالت نے کہاکہ ایک ہی مقدمے پردو متوازی عدالتی دائرہ ہائے اختیار قانون میں قابل قبول نہیں،ایک ہی مقدمے میں ضمانت سپریم کورٹ اوراپیل وفاقی آئینی عدالت میں نہیں چل سکتی،جہاں قانون اپیل کا حق فراہم نہ کرے وہاں فریق اپنے پسند سے نیا قانونی راستہ اختیار نہیں کرسکتا، قانون فورم شاپنگ یعنی پسند کی عدالت منتخب کرنے کے رجحان کی اجازت نہیں دیتا، صرف فریقین کی خواہش یا رضا مندی سے عدالت دائرہ اختیار استعمال نہیں کرسکتی،عدالت فریقین کی منشاء یا خواہش پر لامحدود دائرہ اختیار استعمال نہیں کر سکتی۔
آپریشن العزم ؛مستونگ کے علاقہ کھڈکوچہ میں کارروائی، فتنہ الہندوستان کے 4دہشتگرد ہلاک
مزید :