لاہور (وقائع نگارخصوصی ) امیر جماعت اسلامی پنجاب وسطی محمد جاوید قصوری نے کہا ہے کہ میڈیا رپورٹس کے مطابق ایک دن میں سعودی عرب، یو اے ای، چین سمیت 7 ملکوں سے 258 پاکستانیوں کو بے دخل کرنا تشویشناک امر ہے۔ 7 بھکاریوں سمیت 232 افراد سعودی عرب جبکہ یو اے ای سے 21 پاکستانی ڈی پورٹ ہوئے، چین، قطر، انڈونیشیا، قبرص اور نائجیریا سے بھی پاکستانیوں کو بے دخل کیا گیاجو کہ ملکی بدنامی کا باعث ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہر سال ملکی حالات سے دلبرداشتہ لاکھوں افراد قانونی اور غیر قانونی دونوں طریقوں سے بیرون ملک جانے کی کوشش کرتے ہیں۔ غیر قانونی طریقوں سے باہر جاتے ہوئے ہزاروں لقمہ اجل بھی بن جاتے ہیں۔ سوچنے کی ضرورت ہے کہ ملک کو اس نہج پر کس نے پہنچایا ہے؟حالات دن بدن ابتر ہوتے چلے جا رہے ہیں۔ بحرانوں نے ملکی معیشت کا بیڑہ غرق کر کے رکھ دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ استحصالی نظام خون نچوڑ رہا ہے۔ قوم کو نجات کے لئے قوم کو حافظ نعیم الرحمان کا ساتھ دینا ہو گا۔ جماعت اسلامی بجلی کی قیمتوں میں کمی کے لئے 17جنوری کو بھرپور احتجاج کرے گی۔ پاکستان کو دیمک کی طرح چاٹنے والوں کا انجام بھی حسینہ واجد جیسا ہو گیا۔ ظلم کا نظام زیادہ دیر نہیں چل سکتا۔ وقت کا تقاضا ہے کہ حکومت عوام کو ریلیف فراہم کرے۔ محمد جاوید قصوری نے اس حوالے سے مزید کہا کہ21ماہ سے اڈیالہ جیل میں قید بانی تحریک انصاف پر حکومت 55کروڑ روپے خرچ کر چکی ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے حکومت بوکھلاہٹ کا شکار ہے۔اس کے پاس وڑن نام کی کوئی چیز ہے اور نہ ہی اہلیت، صلاحیت اور قابلیت ہے۔ڈنگ ٹپاؤ اقدامات سے درپیش مسائل حل نہیں ہو سکتے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔

ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل