UrduPoint:
2026-07-24@13:08:11 GMT

ناروے میں چینی الیکٹرک گاڑیوں کی دھوم

اشاعت کی تاریخ: 11th, January 2025 GMT

ناروے میں چینی الیکٹرک گاڑیوں کی دھوم

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 11 جنوری 2025ء) ناروے، جو اپنی مضبوط معیشت کے لیے مشہور ہے، وہ دنیا کے بیشتر ممالک کے مقابلے میں الیکٹرک گاڑیوں (ای وی) کی منتقلی میں کہیں آگے ہے۔ یورپی یونین اور امریکہ کے برعکس، ناروے نے چینی الیکٹرک گاڑیوں پر درآمدی ڈیوٹی عائد نہیں کی۔

یورپی یونین اور امریکی حکام کا دعویٰ ہے کہ چین کی ای وی انڈسٹری غیر منصفانہ سبسڈی سے فائدہ اٹھا رہی ہے، تاہم چین نے ان الزامات کو مسترد کیا ہے۔

مغربی کار ساز کمپنیاں سستی چینی درآمدات سے متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کرتی ہیں، مگر یہ سوال ابھی باقی ہے کہ آیا خریدار غیر مانوس برانڈز کو اپنانے پر آمادہ ہوں گے یا نہیں۔

چینی ای وی کا ناروے میں مارکیٹ شیئر

ناروے میں چینی کار ساز کمپنیوں، جیسے SAIC، BYDاور XPeng کا مشترکہ مارکیٹ شیئر 2021 کے 4.

1 فیصد سے بڑھ کر 2023 میں 5.1 فیصد اور 2024 میں 8.8 فیصد تک پہنچ گیا۔

(جاری ہے)

یہ اعداد و شمار او ایف وی کے ٹاپ 20 کار برانڈز کی فہرست پر مبنی ہیں۔

پہلی چینی الیکٹرک کار: جنوری 2020 میں

پہلی چینی الیکٹرک کار جنوری 2020 میں ناروے پہنچی تھی، جو ایم چی کمپنی کی تھی۔

ناروے کی ای وی ایسوسی ایشن کی سربراہ کرسٹینا بو کا کہنا ہے کہ "ناروے کی گاڑیوں کی مارکیٹ دنیا کی مشکل ترین مارکیٹوں میں سے ایک ہے، جہاں سخت مقابلہ ہوتا ہے۔

" یورپی یونین اور امریکہ کے سخت اقدامات

نومبر 2024 میں یورپی یونین نے چینی ای وی پر درآمدی ڈیوٹی 45.3 فیصد تک بڑھا دی۔ ناروے کی نائب وزیر برائے ٹرانسپورٹ، سیسیلی نیب کروگلند نے کہا کہ "ہم تمام ممالک کے ساتھ یکساں سلوک کرتے ہیں۔" یاد رہے کہ ناروے یورپی یونین کا حصہ نہیں ہے۔

امریکہ نے بھی 2024 میں چینی الیکٹرک گاڑیوں پر درآمدی ڈیوٹی 25 فیصد سے بڑھا کر 100 فیصد کر دی۔

چین 2023 میں دنیا کا سب سے بڑا کار برآمد کنندہ بن گیا، جس نے دنیا بھر میں تقریباً 1.2 ملین الیکٹرک گاڑیاں فروخت کیں۔

ش خ/ ص ز (روئٹرز)

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے یورپی یونین

پڑھیں:

حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)وزیراعظم کے اپنا گھر پروگرام کے تحت اپنا ذاتی گھر حاصل کرنے کے خواہشمند شہریوں کے لیے بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ حکومت نے اعلان کیا ہے کہ پروگرام کے تحت کمرشل بینک اب تک 160 ارب روپے مالیت کے ہاؤسنگ قرضے منظور کر چکے ہیں جبکہ کامیاب درخواست گزاروں کو قرضوں کی فراہمی کا عمل بھی تیزی سے جاری ہے۔

یہ بات وزیر خزانہ کے مشیر عدنان پاشا نے کراچی میں منعقدہ فرسٹ انٹرنیشنل انشورنس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتائی۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کا اپنا گھر پروگرام ملک میں تقریباً ایک کروڑ (10 ملین) گھروں کی کمی کو پورا کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے اور اس کے ذریعے کم آمدنی والے خاندانوں کو رعایتی شرائط پر اپنے گھر کا مالک بننے کا موقع فراہم کیا جا رہا ہے۔

عدنان پاشا نے بتایا کہ اس اسکیم کے تحت شہریوں کو صرف 5 فیصد رعایتی مارک اپ پر ہاؤسنگ قرض فراہم کیا جا رہا ہے جبکہ وزارت خزانہ اس منصوبے میں شامل بینکوں کے ممکنہ قرض نقصان کا 10 فیصد تک بوجھ خود برداشت کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ حکومت پہلے 10 سال تک مارک اپ سبسڈی بھی فراہم کر رہی ہے تاکہ ہاؤسنگ فنانس زیادہ سے زیادہ سستا اور عوام کی پہنچ میں رہ سکے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ زیادہ سے زیادہ مستحق خاندان اس سہولت سے فائدہ اٹھائیں، جس سے نہ صرف رہائشی مسائل میں کمی آئے گی بلکہ تعمیراتی شعبے، سیمنٹ، اسٹیل، ٹائلز، الیکٹریکل مصنوعات اور دیگر متعلقہ صنعتوں میں بھی معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔

اس موقع پر عدنان پاشا نے حکومت کے الیکٹرک موٹرسائیکل پروگرام پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت آئندہ برسوں میں 20 لاکھ الیکٹرک موٹرسائیکلیں متعارف کرانے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ ان کے مطابق پاکستان میں تقریباً 30 لاکھ رجسٹرڈ موٹرسائیکلیں ہر سال قریب 8 ارب ڈالر مالیت کا درآمدی پٹرول استعمال کرتی ہیں، جس سے نہ صرف قیمتی زرمبادلہ خرچ ہوتا ہے بلکہ ماحولیاتی آلودگی میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت شہریوں کو الیکٹرک بائیکس کی خریداری پر سبسڈی اور بلاسود فنانسنگ فراہم کر رہی ہے تاکہ ایندھن پر انحصار کم کیا جا سکے، تاہم ملک میں الیکٹرک بائیکس کی پیداوار اور سپلائی کے مسائل اب بھی موجود ہیں، جنہیں دور کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

عدنان پاشا نے زرعی شعبے کے حوالے سے بتایا کہ حکومت نے حال ہی میں زرخیزی اسکیم بھی متعارف کرائی ہے جس کے تحت 21 بینکوں پاکستان بینکس ایسوسی ایشن اور سپارکو کے تعاون سے کسانوں کو ڈیجیٹل زرعی قرضے فراہم کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبے میں سیٹلائٹ مانیٹرنگ اور ریئل ٹائم ڈیٹا کے ذریعے قرضوں کے استعمال کی نگرانی کی جائے گی تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے اور زرعی پیداوار میں اضافہ ہو۔

حکومتی حکام کے مطابق اپنا گھر پروگرام اور دیگر مالیاتی اسکیموں کا مقصد کم آمدنی والے طبقات کو سہولت فراہم کرنے معیشت کو متحرک کرنے، تعمیراتی سرگرمیوں کو فروغ دینے اور ملک میں پائیدار ترقی کی راہ ہموار کرنا ہے۔

مزید پڑھیں۔سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کے بعد پنشن میں بھی اضافہ

متعلقہ مضامین

  • میں نے اپنی قبر تیار کروا رکھی ہے، لیجنڈ گلوکار عطا اللہ عیسیٰ خیلوی کا انکشاف
  • فیفا ورلڈکپ: ٹرمپ کی مداخلت پر فیصلہ تبدیل، ناروے کا فیفا کیخلاف بڑا اقدام اٹھانے کا فیصلہ
  • ٹرمپ انتظامیہ نے 60 تجارتی شراکت داروں پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے
  • بيزوس، مسک اور زکربرگ جیسے ارب پتی ہر سال ایک خفیہ سمر کیمپ میں کیوں اکٹھے ہوتے ہیں؟
  • ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
  • چیری نے پاکستان میں اپنی گاڑیوں کے تمام ماڈلز کی قیمتیں بڑھا دیں
  • حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان
  • صرف 10 لاکھ روپے میں منی الیکٹرک کار، کیا یہ واقعی ممکن ہے؟
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
  • میڈ اِن پاکستان الیکٹرک گاڑی کی مارکیٹ میں آمد جلد متوقع، بی وائی ڈی نے اہم اعلان کردیا