Express News:
2026-06-03@08:45:53 GMT

ویت نام ایسا نہ تھا!

اشاعت کی تاریخ: 11th, January 2025 GMT

لگ بھگ 32 سال قبل کا ذکر ہے، ایک کاروباری سلسلے میں ویتنام جانے کا موقع ملا۔ ہوچی من شہر کے ایئرپورٹ پر اترے تو خستہ حال پرانی آرمی بیرک کا گمان گزرا۔کسی بھی طور پر بین الاقوامی ہوائی اڈے جیسا انفرااسٹرکچر نہ تھا۔ ایئرپورٹ کی جھلک سے اندازہ ہو رہا تھا کہ ملک میں مفلسی کا راج ہے۔

تین چار روز ہوچی من شہر میں رہنے اور گھومنے کا موقع ملا۔سڑکوں پر سب سے زیادہ ٹرانسپورٹ ہونڈا 50 موٹر سائیکلز اور ٹرائی سائیکل تھی۔ ہوٹل کی تلاش میں بھی کافی دقت پیش آئی۔ بمشکل ایک تھری اسٹار ہوٹل میں بکنگ مل سکی، ہوٹل کا انفرااسٹرکچر خاصہ پرانا اور واجبی سا تھا۔

بازاروں میں گھومتے ہوئے جا بجا 18 سال قبل ختم ہوئی ویتنام امریکا جنگ کے گھاؤ محسوس ہوئے۔ بازاروں میں یہ منظر عام پایا کہ دکانوں کے باہرا سٹول پر فقط بنیان اور پتلون پہنے لوگ گھنٹوں بیکار بیٹھے دکھائی دیے۔ چہروں ںسے بھوک اور اداسی صاف دکھائی دیتی تھی۔ ہم ایک کورین کمپنی کی میزبانی میں وہاں گئے تھے۔ شام کو ٹرائی سائیکل پر سوار شہر گھومنے نکلے تو جا بجا لڑکیوں نے پیچھا کیا، ون ڈالر مساج! ون ڈالر مساج!

90 کی دہائی کے آغاز میں جنوبی کوریا، تائیوان، سنگاپور، ہانگ کانگ اور جاپان دھڑا دھڑا معاشی ترقی کے زینے پھلانگ رہے تھے۔ ان تمام ممالک میں لیبر انڈسٹری کو سستے ممالک میں منتقل کرنے کا رجحان عام ہونے لگا۔ ممکنہ میزبان ملک کے طور پر بار بار ویت نام کا نام سنا۔نمایاں ترغیبات میں انتہائی آسان شرائط پر زمین اور انفرااسٹرکچر کی دستیابی، حکومت کی ہر طرح سے سہولت کاری، میزبان کلچر انتہائی موافق اور سستی لیبر شامل تھی۔

دیکھتے ہی دیکھتے 90 کی دہائی کے آخر تک اربوں ڈالرز کی سرمایہ کاری ویتنام میں ہونے لگی۔ ویت نام جس کا نام پچھلی کئی دہائیوں میں جنگ و جدل اور مارا ماری کے حوالے سے ہی دنیا میں گونج رہا تھا، 90 کی دہائی کے آخر تک ایک ابھرتے ہوئے صنعتی ملک کے طور پر گونجنے لگا۔

اپنے میزبان کے ہمراہ ہمیں ویت نام کے بہت سے دفاتر اور فیکٹریوں میں جانے کا موقع ملا۔ فیکٹریوں اور دفاتر کا حال عموما خستہ پایا۔انگریزی بولنے والے لوگ بہت کم دیکھے۔ تاہم لوگوں میں عالمی تجارت سے جڑنے کی شدید خواہش دیکھی۔

ہماری مترجم نے ایک گر کی بات بتائی کہ یہاں سینیئر مینجمنٹ کے اکثر لوگوں کی سیلری کے دو حصے ہیں، تنخواہ کا ایک حصہ جو وہ اپنی کمپنی سے وصول کرتے ہیں اور دوسرا وہ جو اپنے سپلائرز یا عالمی تجارت میں فیور کے طور پر حاصل کرتے ہیں، جسے مترجم نے مسکراتے ہوئے سافٹ انکم کے نام سے موسوم کیا۔گزشتہ ایک صدی سے زائد ویت نام بڑی طاقتوں کی چشمک اور پراکسی وار کا شکار رہا۔

یہاں جاپان نے بھی قبضہ کیے رکھا ،40 کی دہائی میں فرانسیسیوں نے اسے اپنی کالونی بنا لیا جس کی مزاحمت میں ایک طویل جنگ کا آغاز ہوا۔ ملک شمالی ویت نام اور جنوبی نام کی صورت میں تقسیم ہو گیا۔شمالی ویتنام پر کمیونسٹ حکومت قائم ہوئی۔انھوں نے بزور جنوبی ویت نام کو شامل کر کے متحدہ ویتنام بنانے کی کوشش کی۔

جنوبی ویتنام کی پشت پر امریکا موجود تھا اور مغربی ممالک اس کے حلیف۔ یوں سردجنگ کی پراکسی وار کے کھیل میں جنوبی اور شمالی ویتنام میں امریکا اور روس نے طویل عرصے تک خوفناک جنگ کے شعلے بھڑکائے رکھے۔1955 سے 1975 تک ویتنام وار جاری رہی جس نے امریکا کی چولیں ہلا کر رکھ دیں اور ویت نام کو بارود اور بربادی کا ڈھیر بنا دیا۔ اس جنگ میں 20 لاکھ سے زائد سویلنز اور دونوں اطراف سے 10 لاکھ سے زائد ویتنامی فوجی ہلاک ہوئے۔بالاخر شمالی ویتنام جنوبی ویتنام پر مکمل کنٹرول حاصل کرنے اور امریکا کو بے دخل کرنے میں کامیاب ہوا۔

فاسٹ فارورڈ 2024 ویت نام کی ایکسپورٹس 405 ارب ڈالرز جب کہ امپورٹس 380 ارب ڈالر تھی یوں 25 ارب ڈالر کا تجارتی سرپلس رہا۔ یہ سب کچھ کیسے ممکن ہوا؟ یہ داستان سبق آموز بھی ہے اور قابل غور بھی۔ تاریخ بدلاؤ کے اس عمل میں ویتنام کو کئی مشکل فیصلے کرنے پڑے جن کی مدد سے سو سال سے زائد بڑی طاقتوں کے لیے میدان جنگ بنے رہنے والا ویت نام اب ایک متوسط درجے کا خوشحال ملک ہے۔ ابھرتی ہوئی معیشتوں میں نمایاں مقام رکھتا ہے۔21 ویں صدی میں ابھرتے ہوئے معاشی منظر میں ویتنام نمایاں ترین نظر آرہا ہے۔

یہ سب کچھ کیسے اور کیوں کر ہوا؟ چند نکات قابل ذکر ہیں۔80 کی دہائی کے وسط میں ویت نام نے محسوس کیا کہ معاشی ترقی کے بغیر گذارا نہیں۔ 1986 میں معیشت میں بنیادی اصلاحات کا عمل شروع کیا گیا۔کچھ عرصے بعد زرعی اصلاحات کا عمل بھی شروع کیا گیا۔ 90 کی دہائی میں ویتنام کی حکومت نے عالمی تجارت کے ساتھ جڑنے کی کوششوں کا مسلسل جتن جاری رکھا۔

90 کی دہائی میں امریکا نے ویت نام پر عائد پابندیاں اٹھا لیں۔ 2000 میں امریکی صدر بل کلنٹن نے ویتنام کا دورہ کیا۔ دونوں ملکوں کے مابین ایک تجارتی معاہدہ طے پا گیا جس نے ویتنام کی ترقی کا راستہ کھول دیا۔ 2007 میں ویت نام ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن کا ممبر بنا۔ اس سے قبل 90 کی دہائی میں وہ آسیان کا ممبر بن چکا تھا۔ 90 کی دہائی اور 2000 کے بعد ویتنام کی سالانہ شرح نمو سات فی صد سے زائد رہی۔

ویت نام حکومت نے بالخصوص پرائمری تعلیم پر توجہ دی۔ ہیومن ریسورس ڈویلپمنٹ پر توجہ اور تعلیم پر انتہائی زیادہ فوکس کرنے کا نتیجہ یہ ہوا کہ صنعتی اور معاشی ترقی کے لیے درکار ہنر بند ویتنامی دھڑا دھڑ تیار ہونے لگے۔ ویتنام کا تمام تر فوکس معاشی ترقی پر رہا۔جیو پولیٹیکل صورتحال میں چین اور امریکا کے درمیان انڈو چائنہ اور ایشیا پیسیفک ریجن میں چپقلش نے ویتنام کو سنہری موقع عطا کیا۔ ویتنام نے امریکا اور یورپی ممالک کے ساتھ تجارتی اور جیو پولیٹیکل معاہدوں میں بہترین انداز میں اور عمدہ شرائط پر شرکت کی۔

ایسا نہیں کہ ویتنام میں مسائل کم ہیں، کرپشن عام ہے ،سنگل پارٹی حکومت ہے، اپوزیشن کا نام و نشان نہیں، سنگل پارٹی سوشلسٹ حکومت کا شکنجہ پورے نظام پر حاوی ہے۔فوج اور پارٹی طاقت کے سکے کے دو رخ ہیں۔ معروف معنوں میں ملک میں جمہوریت نہیں ہے لیکن پورے ریجن میں ویتنام ایک مستحکم معیشت اور ملک کے طور پر جانا جاتا ہے۔اس نہج پر پہنچنے میں چند بنیادی فیصلوں میں ایک فیصلہ یہ بھی تھا کہ تاریخ کے پرانے زخم بھلا دیے جائیں ، جنگ و جدل اور دشمنی پر مبنی تاریخ کا ملبہ دفن کر کے ایک نئے جہان کی تعبیر کرنے کا جذبہ تھا۔

پاکستان کی تاریخ اقتدار کی چپقلشوں سے بھرپور ہے۔ ویت نام کے تاریخ بدلاؤ عمل میں پاکستان جیسے ملک کے لیے بہت سے سبق پنہاں ہیں، عقل والوں کے لیے بہت سی نشانیاں ہیں، اگر کوئی سمجھنا چاہے…تو!

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: کی دہائی میں کی دہائی کے کے طور پر نام کو نام کی ملک کے

پڑھیں:

بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو

چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ ایران میں جاری جنگ کے اثرات کے باعث معاشی بحران نے جنم لیا ہے اور موجودہ معاشی چیلنجز سے نمٹنے کی صلاحیت صرف پیپلز پارٹی کے پاس ہے، گلگت بلتستان کے عوام 7 جون کو تیر پر مہر لگائیں۔

اسکردو میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے پاکستان کی جانب سے امن کے قیام کے لیے کی جانے والی کوششوں کو قابل فخر قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ جنگ بندی کے لیے کی جانے والی کاوشیں کامیاب ہوں گی۔

مزید پڑھیں: کسی پر تنقید کرکے نہیں بلکہ کارکردگی پر ووٹ مانگتا ہوں، نواز شریف کا گلگت میں خطاب

چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہاکہ ان کی جماعت ملک کے پسماندہ اور محروم طبقات کی حقیقی نمائندہ ہے۔ ایسی ترقی اور معاشی پالیسی کا کیا فائدہ جس میں امیر مزید امیر اور غریب مزید مشکلات کا شکار ہو جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام ملک کا واحد ایسا ادارہ ہے جو براہ راست مستحق خاندانوں تک پہنچتا ہے اور اس پروگرام کے خلاف ہونے والی سیاسی سازشیں ناکام ہوں گی۔

بدقسمتی اس ملک کی ہے کہ ہمارے سیاست دان ایسے ہیں کہ جب معاشی حالات خراب ہوتے ہیں تو وہ یہ نہیں سوچتے کہ ہم اپنے امیر دوستوں کی سبسڈی کیسے ختم کریں، وہ یہ نہیں سوچتے کہ کاروباری طبقہ کتنا ٹیکس دے رہا ہے، وہ سیدھا اس پر پہنچتے ہیں کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرو، مگر ہم یہ… pic.twitter.com/ioZikOPLZU

— WE News (@WENewsPk) June 2, 2026

انہوں نے دعویٰ کیا کہ بعض حکمران عناصر اس پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی اسے بچانے کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گی اور آئندہ بجٹ میں اس کے فنڈز میں اضافے کے لیے وزیراعظم سے بات کی جائے گی۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے کی بنیاد شہید ذوالفقار علی بھٹو نے رکھی جبکہ میزائل ٹیکنالوجی کے فروغ میں شہید محترمہ بینظیر بھٹو کا کردار نمایاں رہا۔

انہوں نے کہا کہ ماضی میں گلگت بلتستان کو شمالی علاقہ جات کہا جاتا تھا لیکن اس خطے کو موجودہ شناخت صدر آصف علی زرداری نے دی۔ ذوالفقار علی بھٹو نے بلتستان کی سرزمین سے پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے کا اعلان کیا تھا۔

انہوں نے کہاکہ اگر 18ویں آئینی ترمیم کے تحت صوبوں کو دیے گئے اختیارات گلگت بلتستان کو بھی منتقل کر دیے جائیں تو خطے کے متعدد مسائل حل ہو سکتے ہیں۔

بلاول بھٹو نے کہاکہ حق حاکمیت کے بعد عوام کو حق ملکیت بھی ملنا چاہیے اور اسلام آباد کو تسلیم کرنا ہوگا کہ گلگت بلتستان کے وسائل پر سب سے پہلا حق مقامی آبادی کا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب تک اس حقیقت کو تسلیم نہیں کیا جاتا، نہ گلگت بلتستان اور نہ ہی پاکستان حقیقی ترقی کر سکتا ہے۔

پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے سندھ حکومت کی کارکردگی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سیلاب سے متاثرہ خاندانوں کو گھر فراہم کیے گئے اور یہی عوامی خدمت پیپلز پارٹی کی سیاست کا بنیادی محور ہے۔

ان کے مطابق پارٹی ہمیشہ عام آدمی، مزدور اور محروم طبقات کے حقوق کی سیاست کرتی آئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ صدر آصف علی زرداری نے روٹی، کپڑا اور مکان کے نعرے کو بینظیر کارڈ کے ذریعے عملی شکل دی، جبکہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو دنیا کے کئی ممالک نے قابل تقلید ماڈل قرار دیا۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ مسلم دنیا میں ایٹمی صلاحیت رکھنے والا واحد ملک پاکستان ہے اور اس صلاحیت کا سہرا شہید ذوالفقار علی بھٹو کے سر جاتا ہے۔

انہوں نے کہاکہ آج بھی گڑھی خدا بخش سے پاکستان کے دفاع کی روایت جڑی ہوئی ہے۔ جنرل مشرف کے دور میں غیر ملکی ممالک کو پاکستان میں اڈے حاصل تھے، تاہم سلالہ واقعے کے بعد صدر آصف علی زرداری نے ان اڈوں کو بند کروا دیا۔

انہوں نے سی پیک کے تحت تھرکول منصوبے کو سب سے کامیاب منصوبہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہاں 80 فیصد ملازمتیں مقامی افراد کو فراہم کی گئیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کی کوشش ہوتی ہے کہ زیادہ سے زیادہ روزگار کے مواقع پیدا کیے جائیں، جبکہ دیگر سیاسی قوتیں لوگوں کو بے روزگار کرنے کی پالیسی اپناتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان کی جماعت غریب نوجوانوں کو روزگار فراہم کرکے معاشی طور پر مضبوط بنانا چاہتی ہے۔

مزید پڑھیں: کسی بھی نئی آئینی ترمیم میں گلگت بلتستان کے عوامی حقوق کا تحفظ یقینی بنانا چاہیے، بلاول بھٹو

چیئرمین پیپلز پارٹی نے سندھ میں سیلاب کے بعد بحالی کے اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے پورا صوبہ پانی میں ڈوب گیا ہو، تاہم حکومت 20 لاکھ متاثرہ گھروں کی تعمیر کر رہی ہے اور اتنے ہی خاندانوں کو مالکانہ حقوق کے ساتھ رہائش فراہم کی جا رہی ہے۔

بلاول بھٹو نے کہاکہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ سڑکوں کی تعمیر سے پہلے متاثرین کو گھر دیے جائیں۔ اس منصوبے کے نتیجے میں قریباً 10 لاکھ افراد کو روزگار ملا۔

انہوں نے گلگت بلتستان کے عوام سے اپیل کی کہ 7 جون کو تیر کے انتخابی نشان پر مہر لگائیں، پیپلز پارٹی یہاں بھی سندھ طرز کے عوامی فلاحی منصوبے متعارف کرائے گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews بلاول بھٹو چیئرمین پیپلز پارٹی گلگت بلتستان الیکشن وی نیوز

متعلقہ مضامین

  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • چاہتا ہوں کرنسی سے قائداعظم کی تصویر ہٹا دی جائے، شہزاد نواز نے ایسا کیوں کہا؟