لاس اینجلس آتشزدگی؛ انجلینا جولی نے اپنے گھر کے دروازے کھول دئیے
اشاعت کی تاریخ: 12th, January 2025 GMT
ہالی ووڈ کی مشہور اداکارہ انجلینا جولی نے لاس اینجلس آگ کے متاثرین کی مدد کےلیے اپنے گھر کے دروازے کھول دیے ہیں۔
کیلی فورنیا کے جنگلات میں لگنے والی آگ نے ہر طرف تباہی مچا رکھی ہے، جس سے لاس اینجلس میں ہزاروں گھر جل کر خاکستر ہوچکے ہیں۔
اداکارہ انجلینا جولی کا گھر بھی لاس اینجلس میں ہی واقع ہے لیکن وہ اس وقت آگ سے محفوظ ہے، اداکارہ نے آگ سے متاثرہ بے گھر افراد کے قیام کےلیے اپنے گھر کے دروازے کھول دیے ہیں۔
امریکی نشریاتی ادارے سی این این کے مطابق انجلینا جولی ہر ممکن کوشش کررہی ہیں کہ اس سنگین صورتحال میں متاثرین کی مدد کرسکیں۔
اس خطرناک آگ کو لاس اینجلس کی تاریخ کی سب سے زیادہ تباہ کن جنگلاتی آگ قرار دیا جارہا ہے۔ یہ آگ جس علاقے میں لگی ہے وہاں ہالی ووڈ کے کئی مشہور ستاروں کا مسکن ہے اور اسے لاس اینجلس کی تاریخ کی سب سے تباہ کن جنگلاتی آگ قرار دیا گیا ہے۔
لاس اینجلس کی اس خطرناک آگ سے اب تک دس ہزار سے زائد گھر شعلوں کی نذر ہوچکے ہیں۔ انجیلنا جولی کی طرح دیگر مشہور شخصیات بھی متاثرین کی مدد کےلیے سامنے آئے ہیں۔
میگھن مارکل اور پرنس ہیری نے بھی انجلینا جولی کی طرح بے گھر افراد کےلیے اپنے گھر کے دروازے کھول دیے ہیں تاکہ آگ سے بے گھر ہونے والوں کو پناہ دی جاسکے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: لاس اینجلس
پڑھیں:
لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں مبینہ زیادتی کا شکار ہونے والی 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جان کی بازی ہار گئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق لاہور کے علاقہ ماڈل ٹاؤن کے ایک گھر میں ملازمہ کے طور پر کام کرنے والی 18 سالہ لڑکی مبینہ طور پر گینگ ریپ اور بعد ازاں غیر قانونی طبی طریقہ کار کے باعث زندگی کی بازی ہار گئی ہے، متوفیہ نے ہسپتال میں دم توڑنے سے قبل اپنے بیانات ریکارڈ کرادیئے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ لڑکی کا حمل ضائع کرنے کے لیے اسے پہلے رائے ونڈ کے ایک نجی کلینک لے جایا گیا، جہاں حالت بگڑنے پر اسے سروسز ہسپتال منتقل کیا گیا، وہ دو روز تک سروسز ہسپتال میں زیرِ علاج رہنے کے بعد دم توڑ گئی، متاثرہ لڑکی نے اپنے تحریری اور ویڈیو بیانات میں مکان مالک کے بیٹے اور ڈرائیور پر اجتماعی زیادتی کا سنگین الزام عائد کیا تھا، بعد میں مبینہ دباؤ کے تحت لڑکی نے اپنے بیان میں تبدیلی کی اور اپنے آخری بیان میں صرف ڈرائیور کو ہی نامزد کیا۔(جاری ہے)
پولیس نے بتایا کہ لڑکی کے ابتدائی بیانات کی روشنی میں گینگ ریپ کا مقدمہ درج کیا گیا تھا، تاہم اس کی موت کے بعد مقدمے میں باقاعدہ طور پر قتل کی دفعات بھی شامل کر دی گئی ہیں، ایک نامزد ملزم ڈرائیور کو گرفتار کرکے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا ہے، قتل کی دفعات شامل ہونے کے بعد کیس کی تفتیش جینڈر سیل سے تبدیل کرکے انویسٹی گیشن ونگ کے سپرد کر دی گئی ہے، پولیس نے گھر کے مالکان سمیت ان تمام افراد کو دوبارہ شاملِ تفتیش کرنے کے لیے نوٹسز جاری کر دیئے ہیں جنہیں پہلے کلیئر کر دیا گیا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 164 کے تحت ریکارڈ کیے گئے بیانات کا دوبارہ باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا، متوفیہ کا پوسٹ مارٹم مکمل کر لیا گیا ہے اور موت کی اصل وجہ رپورٹ آنے کے بعد واضح ہوگی، اگر رائے ونڈ کے نجی کلینک کی جانب سے غفلت یا غیر قانونی طریقہ کار کے شواہد ملے تو اس کے خلاف بھی سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔