اب کے قسمت کام نہ آئی؛ دنیا کی سب سے بڑی لاٹری جیتنے والے کا بنگلہ بھی خاکستر
اشاعت کی تاریخ: 12th, January 2025 GMT
دنیا کی سب سے بڑی لاٹری جیتنے والے کیلی فورنیا کے شہری کا عظیم الشان بنگلہ بھی لاس اینجلس کے جنگلات میں لگنے والی آگ کی نذر ہوگیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی شہر لاس اینجلس کے جنگلات میں لگنے والی آگ میں بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی۔
اس تباہی میں خاص طور پر وہ علاقہ جل کر بھسم ہوگیا جہاں شوبز اور کاروباری شخصیات کے عالیشان گھر تھے جس کے باعث یہ علاقہ مہنگی ترین پراپڑتی والا علاقہ کہلاتا ہے۔
ایسے ہی ایک عالیشان گھر کو ایڈوِن کاسترو نے دنیا کی سب سے بڑی لاٹری ’’دو ارب چار کروڑ ڈالر‘‘ جیت کر خریدا تھا۔
خود کو دنیا کا خوش قسمت ترین شخص قرار دینے والے ایڈون کاسترو کو معلوم نہیں تھا کہ لاٹری کی رقم سے 2 کروڑ 55 لاکھ ڈالر کا خریدا گیا بنگلہ دیکھتے ہی دیکھتے یوں راکھ ڈھیر بن جائے گا۔
واضح رہے کہ لاس اینجلس کے جنگلات میں چار دن سے لگی آگ پر تاحال قابو نہیں پایا جا سکا ہے جب کہ ہلاکتوں کی تعداد 16 تک جا پہنچی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق 150 ارب ڈالر کا مالی نقصان ہوچکا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
اسلام آباد: مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعوؤں کی حقیقت سامنے آگئی ہے۔ مختلف پلیٹ فارمز پر یہ خبریں وائرل ہو رہی تھیں کہ عیدالاضحیٰ سے قبل مری میں غیر شادی شدہ مردوں یا بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے، تاہم سرکاری وضاحت نے ان دعوؤں کو غلط قرار دے دیا ہے۔
سوشل میڈیا پوسٹس میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ دفعہ 144 کے نفاذ کے بعد مری شہر میں صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت ہوگی جبکہ بیچلرز کو مکمل طور پر روک دیا گیا ہے۔ تاہم ضلعی انتظامیہ کے مطابق ایسی کوئی پابندی پورے مری شہر پر نافذ نہیں کی گئی۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود تھی، جہاں سیاحوں کے رش اور نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے لیے اکیلے آنے والے مردوں اور بیچلرز گروپس کے داخلے پر عارضی پابندی لگائی گئی تھی۔ فیملیز کو معمول کے مطابق مال روڈ جانے کی اجازت دی گئی تھی۔
ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) مری کامران صغیر کے مطابق دفعہ 144 کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا اور 31 مئی تک نافذ رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ مری شہر میں آنے والے تمام سیاحوں کے لیے راستے کھلے تھے اور بیچلرز کے شہر میں داخلے پر کوئی مکمل پابندی نہیں تھی۔
ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں بھی واضح کیا گیا تھا کہ یہ اقدام صرف سیاحتی سہولیات بہتر بنانے اور ہجوم کو منظم رکھنے کے لیے کیا گیا تھا۔
اس طرح مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی کے حوالے سے وائرل ہونے والا دعویٰ حقیقت کے برعکس ثابت ہوا۔ مری بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے جبکہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص علاقے تک محدود رہی۔