190 ملین ڈالر کی کرپشن سے متعلق فیصلہ آرہا ہے، انصاف کے تقاضے پورے کیے جائیں گے، خواجہ آصف
اشاعت کی تاریخ: 12th, January 2025 GMT
سیالکوٹ(نیوز ڈیسک)وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ عمران خان 190 ملین ڈالر کی کرپشن سے متعلق فیصلہ آ رہا ہے، جس میں توقع ہے کہ انصاف کے تقاضے پورے کیے جائیں گے، پی ٹی آئی والوں نے امریکا میں کرائے کی بلڈنگ میں کانگریس کی جعلی سماعت کا ڈراما رچانا شروع کر دیا ہے۔
سیالکوٹ میں تقریب کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مسلم لیگ ن کے رہنما خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ 190 ملین پاؤنڈ حکومت اور عوام کا پیسہ تھا، برطانیہ نےحکومت کو پیسےبھجوائے، بانی پی ٹی آئی نے بند لفافے میں کابینہ سےاس کی منظوری لی، پیسے خزانے کے بجائے کاروباری شخصیت کے اکاؤنٹ میں جمع کرائے گئے۔
خواجہ آصف نے کہا کہ 190 ملین پاؤنڈ کیس کا کل حقائق کی بنیاد پر فیصلہ سنایا جائے گا، القادر یونیورسٹی میں کیا تعلیم دی جاتی ہے، میڈیا جا کر دیکھے، پی ٹی آئی دور حکومت میں لوٹ مارعروج پر تھی، عمران خان کے دورمیں جو کچھ ہوا، اس کی مثال نہیں ملتی، پہلے غلامی نا منظور اور اب ایبسولیٹلی یس اور لیٹے ہوئے ہیں۔
وزیر دفاع نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی آج بھی ملک کے خلاف سازشوں میں مصروف ہے، پی ٹی آئی امریکی حمایت کے لیے منت سماجت کررہی ہے، پی ٹی آئی قیادت نے ہمیشہ ذاتی مفاد کو ترجیح دی، پی ٹی آئی نے سیاسی مفاد کے لیے اسلام آباد پر چڑھائی کی، پی ٹی آئی سوشل میڈیا پر ملک کے خلاف مذموم مہم چلارہی ہے، عوام نے پی ٹی آئی کی انتشار کی سیاست کو مسترد کردیا۔
قبل ازیں مسلم لیگ ن کے رہنما خواجہ آصف کی رہائش گاہ پر قائداعظم ٹرافی جیتنے والی ٹیم کے اعزاز میں ظہرانہ دیا گیا۔
اس موقع پر ٹیم سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ ہمارے شہر میں کرکٹ سٹیڈیم نہیں ہے، سٹیڈیم کے لئے تین ارب روپے منظور ہوئے تھے کچھ رقم خرچ ہوئی، باقی بجٹ واپس چلا گیا، شہر اقبال میں بہت ٹیلنٹ موجود ہے، سیالکوٹ کی ٹیم نے قائد اعظم ٹرافی جیتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ سیالکوٹ میں کرکٹ مسائل کے حل کیلئے پنجاب حکومت کی مدد درکارہوگی،سٹیڈیم کے مسائل کو حل کررہے ہیں، سٹیڈیم کو جلد مکمل ہونا چاہیے، نقوی صاحب! سے درخواست ہے کہ وہ اس پر قدم بڑھائیں، میں پی ایم اور سی ایم سے درخواست کروں گا۔
مزیدپڑھیں:بنا ڈرائیور کے گڑھوں اور جمپوں پر سے کودنے والی چینی سُپر کار
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: پی ٹی آئی
پڑھیں:
5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے 3 سال مکمل ہونے پر پارٹی 5 اگست کو احتجاجی پروگرام پر غور کر رہی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مرکزی قیادت کے اندر ابھی تک مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے باعث حتمی احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: 5 اگست کے احتجاج پر پی ٹی آئی کی واضح حکمت عملی اب تک سامنے نہ آسکی
پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور کارکنوں کو جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ عمران خان کی قید کے خلاف مؤثر پیغام دیا جا سکے۔
دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض سینیئر رہنما، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی شامل ہیں، لاہور میں احتجاج یا کسی متبادل پروگرام کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔
بڑی احتجاجی کال پر تحفظاتپارٹی ذرائع کے مطابق متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ مہنگائی، مقدمات کے خدشات اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام پہلے جیسی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔
ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ ہر رکن اپنے اپنے حلقے میں علامتی یا ٹوکن احتجاج کرے اور عوام کو یہ پیغام دے کہ عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔
مزید پڑھیے: اڈیالہ جیل کے باہر ہنگامہ آرائی، پی ٹی آئی میں انتشار کھل کر سامنے آگیا، جماعت کے سیاسی کلچر پر سنگین سوالات
پارٹی کے ایک حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ 5 اگست کو کسی بڑے احتجاجی پروگرام سے گریز کیا جائے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کو مزید گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ احتجاج، ریلی، جلسہ یا کسی اور شکل میں ہوگا۔ علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی تجویز پر بھی پارٹی کے بیشتر رہنما متفق نہیں جبکہ متعدد رہنما محدود یا علامتی احتجاج کے حق میں ہیں۔
9 مئی کے بعد بڑا احتجاج منظم نہ ہو سکاپارٹی ذرائع کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر کوئی کامیاب احتجاجی تحریک منظم نہیں کر سکی۔
26 نومبر کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تاہم یہ احتجاج کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔
مزید پڑھیں: پی ٹی آئی کا علیمہ خان اور بشریٰ بی بی کو ایکسپوز کرنے کا فیصلہ، اقبال آفریدی سے عہدہ واپس
اس احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں جس کے بعد پارٹی کسی بڑے احتجاجی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکی۔ اس دوران مختلف مواقع پر ریلیاں اور مظاہرے بھی کیے گئے تاہم حکومتی اقدامات اور دیگر عوامل کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔
عمران خان کی قید کو 3 سال مکملعمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے جنہیں پاکستان تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔
پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کے مسائل، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔
5 اگست کی روایت برقرار رہے گی؟گزشتہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیوں اور پرامن مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کے بڑھتے اندرونی اختلافات سے پشاور کے عوام پریشان
ذرائع کے مطابق اس سال بھی ضلعی سطح پر مشاورت اور تیاریاں جاری ہیں تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اڈیالہ جیل بشریٰ بی بی پاکستان تحریک انصاف پی ٹی آئی پی ٹی آئی کا 5 اگست کو احتجاج علی امین گنڈاپور عمران خان کے قید میں 3 برس