سول لائن پولیس اسٹیشن کوئٹہ میں درج ایف آئی آر کے مطابق ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے سربراہ ڈاکٹر بہادر شاہ، ڈاکٹر صبور سمیت 20 ڈاکٹرز نے ڈی جی ہیلتھ پر سول ہپستال کوئٹہ کے اندر حملہ کیا۔ ینگ ڈاکٹرز نے ایف آئی آر کو بے بنیاد قرار دیدیا۔ اسلام ٹائمز۔ بلوچستان کے ڈی جی ہیلتھ پر حملے کرنے کے الزام میں ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن بلوچستان کے رہنماؤں کے خلاف کوئٹہ میں مقدمہ درج کر لیا گیا۔ وائی ڈی اے کے رہنماؤں نے حملے کے الزام کو غلط قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ گرفتاری کے لئے تیار ہیں۔ محکمہ ہیلتھ کے ایڈیشنل ڈائریکٹر مونیٹرنگ ڈائریکٹریٹ کی جانب سے کوئٹہ کے سول لائن تھانے میں درج ایف آئی آر کے مطابق ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے سربراہ ڈاکٹر بہادر شاہ، ڈاکٹر صبور سمیت 20 ڈاکٹرز نے ڈی جی ہیلتھ پر سول ہپستال کوئٹہ کے اندر حملہ کیا۔ جس میں ڈی جی ہیلتھ زخمی ہوئے۔ اس دوران درخواست دہندہ بھی زد و کوب کا نشانہ بنے۔ ایف آئی آر کے مطابق ینگ ڈاکٹرز کے رہنماؤں نے سرکاری ذمہ داران کو دھمکیاں بھی دیں۔

دوسری جانب ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے ترجمان ڈاکٹر صبور کاکڑ نے ایف آئی آر کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ڈی جی ہیلتھ کی جانب سے ڈاکٹرز پر الزام لگایا جا رہا ہے۔ جھوٹے مقدمے کے بجائے ہم سے درخواست کر لیتے ہم خود بھی گرفتاری دے دیتے۔ انہوں نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے رہنماؤں نے ڈی جی ہیلتھ پر نہیں، بلکہ ڈی جی ہیلتھ نے ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے رہنماؤں پر حملہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایف آئی آر میں جن ڈاکٹرز کا نام شامل ہیں، ان میں سے تین ڈاکٹرز ڈی جی ہیلتھ کے دورے کے موقع پر ہسپتال میں موجود ہی نہیں تھے۔ اگر ڈی جی ہیلتھ ہر حملہ ہوتا تو وہ زخمی ہوتے، انہیں خراش تک نہیں آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم ماضی میں بھی ڈاکٹروں کے حقوق کا دفاع کرتے آئیں ہیں، آئندہ بھی جدوجہد جاری رکھیں گے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: کے رہنماؤں ایف آئی آر

پڑھیں:

کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری

پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔

انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔

متعلقہ مضامین

  • راولپنڈی: ہولی فیملی اسپتال میں مبینہ غفلت، نومولود بچی کا انگوٹھا کٹ گیا، مقدمہ درج
  • ایمنسٹی انٹرنیشنل کا نیتن یاہو کی گرفتاری کا مطالبہ، آئی سی سی میں مقدمہ چلانے پر زور
  • پشاور: حیات میڈیکل کمپلیکس میں ینگ ڈاکٹرز کی ہڑتال دوسرے روز بھی جاری، مریض مشکلات سے دوچار
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • مستونگ: سیشن جج اور گن مین قاتلانہ حملے میں شہید، ایڈیشنل سیشن جج شدید زخمی
  • بلوچستان، جج کے قتل کے بعد کالعدم بی ایل اے اور داعش کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا، اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ
  • اہم ٹیلیفونک رابطہ، پاکستان سعودی عرب کے ساتھ کھڑا، سہیل آفریدی پر الزام، مریم نواز اور بلاول کے ایک دوسرے پر تابڑ توڑ حملے
  • کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار