190 ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ عدالت نے ملتوی کیا، تحریک انصاف کو این آر او نہیں ملنے والا، فیصل کریم کنڈی
اشاعت کی تاریخ: 13th, January 2025 GMT
گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ 190 ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ ملتوی ہونا عدالت کا فیصلہ ہے۔ تحریک انصاف کو این آر او نہیں ملنے والا، فیصلہ مذاکرات کی وجہ سے ملتوی نہیں ہوا۔
گورنر فیصل کریم کنڈی نے پشاور میں میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ تحریک انصاف والے دہشتگردوں کے سہولت کار ہیں۔ وزیراعلیٰ اپنے ضلع میں امن قائم نہیں کرسکتا۔ یہ دہشتگردوں کو لیکر آئے۔ میں نے اے پی سی بلائی انتشار پارٹی نہیں آئی لیکن ہم جرگے کے لیے وزیراعلیٰ ہاؤس گئے۔
گورنر کا کہنا تھا کہ وزیراعلی کو چاہیے کہ کوہاٹ میں اس وقت تک بیٹھے جب تک کرم روڈ کھل جائے۔ نااہلی کی وجہ سے کرم میں 25 کلومیٹر کا روڈ نہیں کھل سکا۔ ہم اسی لیے وفاقی حکومت اور فوج سے مداخلت کی اپیل کر رہے ہیں۔
مزید پڑھیں: 190 ملین پاؤنڈ کیس: فیصلہ ایک بار پھر کیوں مؤخر ہوا؟
گورنر کنڈی کا کہنا تھا کہ 5 سو ارب روپے صوبائی حکومت کو ملے کہاں خرچ کیے گئے؟ خیبر پختونخوا کے بلدیاتی ملازمین حق مانگتے ہیں تو ان پر لاٹھی چارج کرتے ہیں۔ بلدیاتی ملازمین کا کنونشن گورنر ہاؤس میں کریں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ امن قائم نہ ہونا حکومت کی ناکامی اور نالائقی ہے۔ ٹیکنیکل کمیٹی صوبے کے حوالے سے صدر اور وزیراعظم سے ملاقات کرے گی۔ گورنر نے خیبر پختونخوا کی ایپکس کمیٹی میں وزیراعلیٰ کی نمائندگی پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں اعتراض ہے ایسا شخص ایپکس کمیٹی میں نہیں بیٹھ سکتا جس پر قتل کی ایف آئی آر ہو۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
190 ملین پاؤنڈ کیس این آر او فیصل کریم کنڈی گورنر خیبر پختونخوا گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: 190 ملین پاؤنڈ کیس این ا ر او فیصل کریم کنڈی گورنر خیبر پختونخوا گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی ملین پاؤنڈ کیس فیصل کریم کنڈی خیبر پختونخوا
پڑھیں:
بجٹ سے پہلے قانون سازی، پیپلزپارٹی کے تحفظات، 5 جون کو ہونے والا اجلاس مؤخر
اسلام آباد (ًؐنمائندہ خصوصی +نوائے وقت رپورٹ) وفاقی بجٹ 5 جون کو پیش نہیں کیا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق قومی اقتصادی کونسل کا 3 جون کو ہونے والا اجلاس ملتوی ہو گیا جس کا باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔ ذرائع کا بتانا ہے کہ وفاقی بجٹ پیش کرنے کی نئی تاریخ کا تعین نہیں ہو سکا، دوسری جانب ذرائع قومی اسمبلی کا بتانا ہے کہ وفاقی بجٹ 10 جون کو پیش کیے جانے کا امکان ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق قومی اقتصادی کونسل کے اجلاس کی نئی تاریخ کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔ حکومت کی جانب سے وفاقی بجٹ میں تاخیر کی وجہ سامنے آگئی۔ پارلیمانی ذرائع کے مطابق حکومت بجٹ اجلاس سے قبل اہم قانون سازی کرنا چاہ رہی ہے، قانون سازی کے آئندہ وفاقی بجٹ سے متعلق اہم اثرات ہوں گے تاہم پیپلز پارٹی قانون سازی کے حق میں نہیں ہے۔ پارلیمانی ذرائع کا بتانا ہے کہ چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے شگر ویلی میں اپنے خطاب میں واضح پیغام دیا ہے، پیپلز پارٹی مجوزہ ترامیم کی مخالفت کر رہی ہے۔ بجٹ اجلاس سے قبل ترامیم نہ ہو سکیں تو آئندہ مالی سال میں تبدیلیاں نہیں آسکیں گی۔ پارلیمانی ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ پیپلز پارٹی کو منانے کے لیے اہم شخصیات کو ٹاسک دے دیا گیا ہے۔ بلاول بھٹو زرداری فی الحال گلگت بلتستان میں الیکشن مہم میں مصروف ہیں، بلاول بھٹو زرداری کو منانے کے بعد ہی بجٹ اجلاس کی نئی تاریخ دی جا سکے گی۔وزارت خزانہ میں پیپلز پارٹی اور حکومتی ٹیم کے درمیان اجلاس ختم ہو گیا۔ ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی کے خدشات دور نہ کئے جا سکے۔ پی پی اور حکومتی ٹیم کا اجلاس آج دوبارہ ہو گا۔