پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کاروباری ہفتے کا مثبت آغاز، 1206 پوائنٹس کا اضافہ
اشاعت کی تاریخ: 13th, January 2025 GMT
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کاروباری ہفتے کے آغاز پر مثبت رجحان دیکھا گیا ہے، جہاں 100 انڈیکس 1206 پوائنٹس اضافے سے 114454 پر آگیا ہے۔
گزشتہ کاروباری ہفتے کے اختتام پر پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں 100 انڈیکس ایک لاکھ 13 ہزار 247 پوائنٹس پر بند ہوا تھا، جس میں آج ہونے والے اضافے کے بعد نمایاں بہتری آئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: نئے سال کے پہلے روز پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں نیا ریکارڈ قائم
ماہر اسٹاک مارکیٹ محسن مسیڈیا کا کہنا ہے کہ جیسا کہ پہلے کہا گیا تھا کہ مارکیٹ بہتر ہے اور مزید بہتر کارکردگی دیکھنے کو ملے گی لیکن مارکیٹ میں اس وقت والیوم سلو ہے اور اسے بڑھنے کی ضرورت ہے کیوں کہ کم والیوم کا مسلئہ یہ ہے کہ کسی بھی وقت مارکیٹ مندی کا شکار ہوسکتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ مارکیٹ کی سرگرمیاں بہتر ہورہی ہے، اس وقت مارکیٹ پر کوئی خاص دباؤ بھی نظر نہیں آرہا ہے، اسی بنیاد پر کہا جاسکتا ہے کہ مارکیٹ مزید بہتری کی طرف جائے گی، آٹو موبائل اور آئل اینڈ گیس کے شعبے فعال نظر آرہے ہیں، مارکیٹ کا رجحان اس وقت مثبت نظر آرہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اڑان پاکستان پروگرام نے پاکستان اسٹاک مارکیٹ پر کیسے مثبت اثرات ڈالے؟
ماہر اسٹاک مارکیٹ شہریار بٹ کے مطابق، پاکستان کے معاشی اعشاریے مثبت نظر آرہے ہیں اور اس سال ہماری معیشت مزید بڑھے گی۔ انہوں نے کہا کہ مارکیٹ سے مسلسل شیئرز نکالے جارہے ہیں، جیسا کہ گزشتہ ہفتے ہم نے دیکھا کہ 4 ہزار پوائنٹس کی صورت میں مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ جاری رہے گا۔
انہوں نے بتایا کہ فارماسیوٹیکل اور آئل اینڈ گیس شعبے اچھا نظر آرہے ہیں، سیاسی طور پر استحکام بھی بہت ضروری ہے، کوئی ایک قدم مارکیٹ کو بڑھا سکتا ہے اور وہیں گرا بھی سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں تیزی کا رجحان برقرار
واضح رہے کہ آج مارکیٹ میں آٹو موبائل اسمبلرز، سیمنٹ، کیمیکل، کمرشل بینکوں، فرٹیلائزر، تیل و گیس کی تلاش کرنے والی کمپنیوں اور او ایم سیز سمیت اہم شعبوں میں خریداری دیکھی گئی۔ ایس ایس جی سی، شیل، پی ایس او، او جی ڈی سی، پی پی ایل، پی او ایل، اینگرو، ایچ بی ایل، ایم ای بی ایل اور این بی پی کے حصص میں تیزی کا رجحان دیکھا گیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
100 انڈیکس wenews آغاز پاکستان اسٹاک ایکسچینج پوائنٹس کاروبار کاروبری ہفتہ مثبت.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: 100 انڈیکس پاکستان اسٹاک ایکسچینج پوائنٹس کاروبار کاروبری ہفتہ پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں اسٹاک مارکیٹ مارکیٹ میں کہ مارکیٹ
پڑھیں:
بٹ کوائن کی تاریخی گراوٹ، سرمایہ کاروں کے کروڑوں ڈالر ڈوب گئے
دنیا کی سب سے بڑی اور مقبول ترین کرپٹو کرنسی ’بٹ کوائن‘ کی قیمت میں اچانک تاریخی گراوٹ دیکھی گئی ہے، جس کے بعد یہ 70 ہزار ڈالر کی نفسیاتی سطح سے بھی نیچے گر گیا ہے۔
مارکیٹ رپورٹ کے مطابق اس اچانک کمی کے نتیجے میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کرپٹو مارکیٹ سے تقریباً 80 کروڑ (800 ملین) ڈالر مالیت کی لیوریجڈ ٹریڈنگ پوزیشنز یکدم ختم (لیکویڈیٹ) ہو گئی ہیں، جس سے سرمایہ کاروں کو شدید ترین نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
قیمتوں میں گراوٹ اور مارکیٹ کیپٹلائزیشن میں کمیمارکیٹ کے تازہ ترین ڈیٹا کے مطابق منگل کو ’بٹ کوائن‘ کی قیمت گر کر تقریباً 69,400 ڈالر کی کم ترین سطح پرآگئی، جو گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 4.4 فیصد کی نمایاں ترین کمی کو ظاہر کرتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ایران امریکا مذاکرات کا دوسرا دور، بٹ کوائن کی قیمت پر کیا اثرات مرتب ہورہے ہیں؟
مارکیٹ کیپٹلائزیشن کے لحاظ سے دنیا کی سرفہرست 10 کرپٹو کرنسیوں میں یہ سب سے بڑی گراوٹ ریکارڈ کی گئی ہے۔ بٹ کوائن کے اس زوال کے اثرات پوری کرپٹو مارکیٹ پر مرتب ہوئے، جس کے باعث مجموعی ڈیجیٹل مارکیٹ ویلیو 3 فیصد سے زیادہ کمی کے بعد تقریباً 2.47 ٹریلین ڈالر تک نیچے آگئی ہے۔
ٹریڈرزکے کروڑوں ڈالر ڈوب گئےکرپٹو مارکیٹ کے اعداد و شمار فراہم کرنے والے معتبر عالمی ادارے ’کوائن گلاس‘ کے مطابق حالیہ فروخت کے شدید دباؤ کی وجہ سے 24 گھنٹوں میں 800 ملین ڈالر کی پوزیشنز مارکیٹ سے آؤٹ ہوئیں۔
ڈیٹا کے مطابق لانگ پوزیشنزمیں تقریباً 700 ملین ڈالر (قیمت بڑھنے کی امید پر لگائے گئے سودے) جبکہ شارٹ پوزیشنز میں تقریباً 100 ملین ڈالر (قیمت گرنے کی امید پر لگائے گئے سودے) شامل ہیں۔
سب سے زیادہ نقصان بٹ کوائن سے منسلک ٹریڈرز کو برداشت کرنا پڑا، جن کی تقریباً 500 ملین ڈالر مالیت کی پوزیشنز ڈوب گئیں، جو کہ مجموعی مارکیٹ لیکویڈیشنز کا سب سے بڑا حصہ ہے۔
’ای ٹی ایف‘ آؤٹ فلو دباؤ میں اضافہکرپٹو کرنسی سے وابستہ مبصرین اور تجزیہ کاروں کے مطابق اس بڑی فروخت کی سب سے بڑی وجہ اسپاٹ بٹ کوائن ایکسچینج ٹریڈ فنڈ (ای ٹی ایف) سے سرمایہ کاروں کا مسلسل پیسہ نکالنا ہے۔
مزید پڑھیں:مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے دوران بٹ کوائن مضبوط، قیمت 80 ہزار ڈالر تک پہنچنے کا امکان
اسپاٹ بٹ کوائن ای ٹی ایف سے مسلسل 11 تجارتی سیشنز سے سرمایہ کا اخراج (نیٹ آؤٹ فلو) ریکارڈ کیا جا رہا ہے، جبکہ اسپاٹ ’ایتھیریم ای ٹی ایف‘ سے بھی مسلسل 15 سیشنز سے سرمایہ نکالا جا رہا ہے۔
کرپٹو تجزیہ کار ’ایمبر سی این‘ کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ جب سے اسپاٹ ای ٹی ایف مصنوعات کا آغاز ہوا ہے، بٹ کوائن اور ایتھیریم کی قیمتیں ای ٹی ایف فنڈز کے بہاؤ سے بہت زیادہ منسلک ہو چکی ہیں، یہی وجہ ہے کہ فنڈز کے اخراج کا براہِ راست اور فوری اثر قیمتوں پر پڑ رہا ہے۔
ایتھیریم مارکیٹ میں نسبتاً مستحکمدلچسپ بات یہ ہے کہ اس شدید مندی کے دوران دوسری بڑی کرپٹو کرنسی ’ایتھیریم‘ نے مارکیٹ میں نسبتاً بہتر اور مستحکم کارکردگی دکھائی۔ ایتھیریم کی قیمت تقریباً 1,970 ڈالر کے قریب برقرار رہی اور اس میں بٹ کوائن کے مقابلے میں کم اتار چڑھاؤ دیکھا گیا۔
ماہرینِ معیشت کا کہنا ہے کہ اگر ای ٹی ایف سے سرمایہ کے اخراج کا یہ سلسلہ نہ رکا تو کرپٹو مارکیٹ پر دباؤ برقرار رہ سکتا ہے، یہی وجہ ہے کہ عالمی سرمایہ کار آنے والے چند دنوں میں مارکیٹ کے رجحان پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اخراج ای ٹی ایف بٹ کوائن ڈالر سرمایہ کاروں عالمی سرمایہ کرپٹو مارکیٹ گراوٹ ماہرین معیشت ملین ڈالر