WE News:
2026-07-24@16:10:30 GMT

روشن فکر قبیلے کی ماہتاب ارفع کریم رندھاوا کی یاد میں

اشاعت کی تاریخ: 14th, January 2025 GMT

روشن فکر قبیلے کی ماہتاب ارفع کریم رندھاوا کی یاد میں

ارفع کریم ایک ایسی شخصیت ہیں جنہوں نے اپنی کم عمری میں ہی دنیا کو اپنی قابلیت اور محنت سے متاثر کیا۔ وہ 2 فروری 1995ء کو فیصل آباد پاکستان میں پیدا ہوئیں۔

ارفع کریم کا بچپن ایک عام پاکستانی خاندان میں گزرا۔ ان کی والدہ جو ایک استاد تھیں، انہوں نے ارفع کی تعلیم پر خاص توجہ دی۔ ارفع نے ابتدائی تعلیم اپنے گھر سے حاصل کی اور جلد ہی اپنی ذہانت اور قابلیت کی وجہ سے نمایاں ہو گئیں۔ انہوں نے مائیکروسافٹ کے مختلف پروگرامز میں دلچسپی لی اور اپنی محنت سے اس میدان میں کامیابی حاصل کی۔

ارفع کی زندگی کا سفر نہ صرف ان کی ذاتی کامیابیوں کا عکاس ہے، بلکہ یہ ایک ایسی مثال بھی ہے جو نوجوانوں کو اپنی صلاحیتوں کو پہچاننے اور ان کی ترقی کے لیے محنت کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔

ارفع کریم پاکستان کا واحد درخشاں ستارہ ہے جو 2004 میں محض نو سال کی عمر میں مائیکرو سافٹ سرٹیفائیڈ پروفیشنل (ایم سی پی) بن گئیں تھیں، یہی نہیں بلکہ دس سال کی عمر میں پائلٹ کا اجازت نامہ (لائسنس) بھی حاصل کیا۔ کم عمر ترین مائیکروسافٹ سرٹیفائیڈ پروفیشنل ہونے کی بنا پر ارفع کا نام گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈز میں درج ہونے کا اعزاز 2008 تک ارفع کے پاس رہا۔

ارفع نے پاکستان کی طرف سے مختلف بین الاقوامی فورموں اور ٹیک ایڈ ڈویلپرز کانفرنس میں نمائندگی بھی کی۔ 2005 میں حکومت پاکستان نے ارفع کو صدارتی تمغائے حسنِ کارکردگی سے نوازا۔ لاہور میں ایک سائنس پارک ارفع سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارک بھی ارفع کریم  کے نام پر بنایا گیا۔

 مائیکروسافٹ کے بانی بل گیٹس نے ارفع کریم  کو صدر دفتر امریکا میں مدعو کیا اور خود ملاقات کی۔ جب جولائی 2005 میں مائیکروسافٹ کارپوریشن کی دعوت پر ارفع کریم رندھاوا اپنے والد کے ساتھ امریکا گئیں تو ارفع کو دنیا کی کم عمر ترین مائیکروسافٹ سرٹیفائیڈ پروفیشنل کی سند دی گئی۔

پھر جب ارفع کریم کی ملاقات بل گیٹس سے ہوئی تو اس دس منٹ کی ملاقات کے بعد ارفع کو پاکستان کا دوسرا رخ کیا گیا۔ یہی نہیں ارفع کریم کو پاکستان کے دوسرے چہرے کا نام دیا۔ وہ دوسرا چہرہ جو روشن ہے۔

 دبئی میں انفارمیشن ٹیکنالوجی ماہرین نے بھی ارفع کریم کو دو ہفتوں کے لیے مدعو کیا، جہاں ارفع کو مختلف تمغا جات اور اعزازات سے نوازا گیا۔

ارفع کریم کو دبئی کے فلائینگ کلب میں صرف دس سال کی عمر میں ایک طیارہ اڑانے کا اعزاز حاصل ہونے کے ساتھ طیارہ اڑانے کا سرٹیفیکٹ بھی دیا گیا۔

ارفع کریم کو 2005 میں اس کی صلاحیتوں کے اعتراف میں ” صدارتی ایوارڈ “ ، ” پرائڈ آف پرفارمنس“ ، ”مادرملت جناح طلائی تمغے“ اور ” سلام پاکستان یوتھ ایوارڈ“ سے بھی نوازا گیا۔

مائیکرو سافٹ نے بار سلونا میں منعقدہ سن 2006 کی تکنیکی ڈیولپرز کانفرنس میں پوری دنیا سے پانچ ہزار سے زیادہ مندوبین میں سے پاکستان سے صرف ارفع کریم کو چُنا اور اس انٹر نیشنل کانفرنس میں مدعو کیا۔

حکومت پاکستان نے بعد از مرگ لاہور کے ایک پارک اور کراچی کا آئی ٹی سینٹر ارفع کریم کے نام سے منسوب کر دیا۔ یہی نہیں ارفع کے گاؤں کو بھی ارفع کریم کا نام دے دیا گیا۔

ارفع 14 جنوری 2012 کو 16 سال سال کی عمر میں عارضۂ قلب کی وجہ سے وفات پا گئی تھیں۔

جنوری 2012 میں ہی ارفع کی وفات کے بعد سابق پاکستانی وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی نے ارفع کے نام پر ڈاک کا یادگاری ٹکٹ جاری کرنے کی منظوری بھی دی تھی۔

ارفع کریم کی زندگی نے نوجوانوں کو یہ سکھایا کہ محنت، لگن اور عزم کے ساتھ کوئی بھی خواب حقیقت میں بدلا جا سکتا ہے۔ ان کی کامیابی نے یہ ثابت کیا کہ اگر انسان میں ہمت و عزم ہو تو وہ کسی بھی مشکل کو عبور کر سکتا ہے۔ ارفع کی کہانی نے لاکھوں نوجوانوں کو متاثر کیا اور انہیں اپنی صلاحیتوں پر یقین کرنے کی ترغیب دی۔

ارفع کی وفات کے بعد ان کی یاد میں مختلف تعلیمی اداروں میں پروگرامز اور تقریبات کا انعقاد کیا جاتا ہے۔ ان کی زندگی کی کہانی کو نوجوانوں کے سامنے پیش کیا جاتا ہے تاکہ وہ ان سے سیکھ سکیں اور اپنی زندگی میں کامیابی حاصل کر سکیں۔ ارفع کی یاد میں کئی اسکالرشپس بھی قائم کی گئی ہیں تاکہ ان کی طرح کے باصلاحیت نوجوانوں کی مدد کی جا سکے۔

ہر سال 14 جنوری کو ارفع کی برسی منائی جاتی ہے۔ اس دن مختلف تقریبات کا انعقاد کیا جاتا ہے جہاں لوگ ان کی زندگی اور کامیابیوں کو یاد کرتے ہیں۔ یہ تقریبات نوجوانوں کے لیے ایک موقع ہوتی ہیں کہ وہ ارفع کی کہانی سے متاثر ہوں اور اپنی زندگی میں مثبت تبدیلیاں لانے کی کوشش کریں۔

 ارفع کی یاد ہمیشہ ہمارے دلوں میں زندہ رہے گی، اور ان کی زندگی کی مثال ہمیں آگے بڑھنے کی ترغیب دیتی رہے گی۔ ان کی برسی پر ہمیں ان کی زندگی کو یاد کرتے ہوئے یہ عہد کرنا چاہیے کہ ہم اپنی صلاحیتوں کو پہچانیں گے اور انہیں نکھارنے کی کوشش کریں گے۔ اس حوالے سے جون ایلیا نے کیا خوب کہا

حفظ ہے شمس بازغہ مجھ کو

پر میسر وہ ماہتاب نہیں

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

ڈاکٹر من تشاء چیمہ

.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: سال کی عمر میں ارفع کریم کو ان کی زندگی ارفع کی ارفع کو کی یاد کے لیے نہیں ا اور ان

پڑھیں:

پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں روزانہ کی بنیاد پر اضافہ نے عام انسان کی زندگی کو اجیرن بنا دیا

پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں روزانہ کی بنیاد پر اضافہ نے عام انسان کی زندگی کو اجیرن بنا دیا ہے صرف پٹرول مہنگا نہیں ہوتا بلکہ روزمرہ عام استعمال کی اشیاء بھی اب روزانہ کی بنیاد پر مہنگی ہونے لگی ہے۔

ایکسپریس نیوز نے صوبائی دارالحکومت کے مختلف علاقوں کے پٹرول پمپوں پر لوگوں سے بات چیت کی اور ان سے پوچھا کہ اپ نے لاسٹ ٹائم گاڑی کی ٹینکی یا موٹر سائیکل کی ٹینکی کب فل کرائی تھی تو  100  میں سے تقریباً 90  لوگوں نے کہا کہ ان کو تو یاد ہی نہیں ہے کہ  ٹینکی بھی کبھی فل کرائی  تھی۔

گاڑی میں  سوار اکبر امجد کاشف عقیل نے بتایا کہ  دو ہزار کا تو کبھی  تین ہزار کا تو بہت حد ہوئی تو پانچ ہزار کا پٹرول ڈلوایا تھا  جبکہ موٹر سائیکل سوار   تو ایک لیٹر بھی پورا نہیں ڈلواتے، کوئی 200 روپے کا تو کوئی 300 روپے کا پٹرول بھرواتا ہے۔

کچھ  موٹرسائیکل سواروں نے 2000 یا تین ہزار کا اپنی موٹر سائیکل میں پٹرول ڈلوایا  جب ان سے پوچھا تو انہوں نے لمبا سانس لے کر اس خواہش کا اظہار کیا کہ جب قیمتیں اس قابل ہو جائیں گی تو شاید ہم اپنی  زندگیوں میں مو ٹر سائیکل کی ٹینکی بھی فل کرا سکیں۔

یہ تو مجبوری میں اتنی رقم خرچ کی ہے اب تو جتنی ضرورت ہوتی ہے ڈلوا کر گزارہ کر رہے ہیں ۔

کار سوار امتیاز کے مطابق اس نے چار مہینے پہلے گاڑی کی ٹینکی فل کرائی تھی اور اج وہ کبھی 2ہزار  کا تو کبھی  ڈھائی ہزار کا پٹرول ضرورت کے تحت ڈلوا رہے ہیں کیونکہ افس جانا ہے یا بچوں کو پک اینڈ ڈراپ کرنا ہے کیونکہ بچوں کو پک اینڈ ڈراپ کرنے والے ٹرانسپورٹرز نے بھی کرائے میں اس قدر اضافہ کر دیا کہ وہ پہنچ سے باہر ہو گیا۔

اب بچوں کو لانے لے جانے کے لیے ہی صرف گاڑی کا استعمال کیا جاتا ہے یا کوئی ایمرجنسی ہو تو تب گاڑی نکالی جاتی ہے جبکہ پاکستان پیٹرولیم اونر ایسوسییشن کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے اور اب روزانہ کی بنیاد پر ہونے والے رد و بدل کی وجہ سے پٹرول کی کھپت میں 35 سے 40 فیصد تک کمی ائی ہے، اب تو پٹرول پمپ مالکان کے خرچے بھی پورے نہیں ہو رہے، تنخواہیں دینا بھی مشکل ہو گیا ہے کیونکہ ہر چیز مہنگی ہو چکی ہے۔

بجلی کے بل پہلے جو پٹرول پمپ کے دو ڈھائی لاکھ اتے تھے اب وہ چار پانچ لاکھ آنے لگ گئے ہیں اسی طرح دیگر اخراجات میں بھی بے پناہ اضافہ ہو گیا ہے۔

ایک طرف عوام پریشان ہے تو دوسری طرف پٹرول فروخت کرنے والے بھی پریشان دکھائی دیتے ہیں، کسی زمانے میں مشہور تھا کہ اس کے تو  پٹرول پمپس ہیں ان کی کس چیز کی فکر ہے، جتنی مرضی گاڑیاں رکھے چلائے اس نے کون سے اپنی جیب سے گاڑیوں میں پٹرول ڈلوانا ہے اب حالات یہ ہو چکے ہیں کہ  اکثر گھروں میں  تین تین چار چار گاڑیاں تو نظر اتی ہیں مگر چلتی صرف ایک عادی ہی ہے۔

اگر حالات یہی رہے تو عنقریب مزید سینکڑوں لوگ پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر کرنے کو ترجیح دیں گے جب سے پیٹرول مہنگا ہوا ہے پبلک ٹرانسپورٹ میں رش زیادہ ہو گیا ہے لیکن بہت سارے لوگوں کا مسئلہ یہ بھی ہے کہ ان کے علاقوں میں پبلک ٹرانسپورٹ نہیں چلتی اگر چلتی بھی ہے تو کئی میل دور جا کر پک اینڈ ڈراپ ملتا ہے اس لیے لوگ مجبور ہیں کہ وہ اپنی موٹر سائیکل پہ یا گاڑی پہ سفر کریں۔

بہرحال پٹرول مہنگا ہونے سے اب ٹینکی فل کرانا صرف ایک خواہش  ہی رہ گی ہے اور جو حالات ہو چکیں ہیں ان میں ٹینکی فل کرانا ناممکن۔ ہو چکا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں روزانہ کی بنیاد پر اضافہ نے عام انسان کی زندگی کو اجیرن بنا دیا
  • زندگی کا مقصد
  • پاکستانی سفیر کی جانب سے پاکستان اور میانمار کی ممتاز کاروباری شخصیات کے اعزاز میں عشائیہ
  • چیری نے پاکستان میں اپنی گاڑیوں کے تمام ماڈلز کی قیمتیں بڑھا دیں
  • ’میری قبر پہلے ہی تیار ہے‘، موت کی تیاریوں سے متعلق عطا اللہ خان عیسیٰ خیلوی کا حیران کن بیان
  • مانجھی خیل چیک پوسٹ حملہ، گورنر خیبرپختونخوا نے رپورٹ طلب کر لی
  • گھوٹکی: سابق ایم پی اے شہریار شر کے بیٹے کو بازیاب کروالیا: ایس ایس پی
  • اداکار شان بیگ اور روما مائیکل رشتۂ ازدواج میں منسلک، مداحوں کو خوشخبری سنا دی
  • پاکستان کے روشن مستقبل کیلئے قومی اتحاد، استقامت اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • لاہور میں موسلا دھار بارش، سڑکیں زیر آب، معمولات زندگی متاثر