Daily Ausaf:
2026-07-24@14:36:53 GMT

گو دسمبر گزر گیا ہے !

اشاعت کی تاریخ: 14th, January 2025 GMT

ماہ دسمبر جاتے جاتے کئی پرانے زخم تازہ کرجاتا ہے ۔اسی ماہ کی سولہ تاریخ کو سقوط ڈھاکہ پیش آیا اور ہمارا ملک دو لخت ہو گیاوہ ملک جس کی بنیادوں میں لاکھوں شہیدوں کا لہو شامل ہے وہ لہو جس کی برکت سے یہ ملک ابھی دنیا کے نقشے پر موجود ہے اس کے باوجود کہ سیاسی گدھوں کے متعدد گروہ اسے بھنبھوڑ نے میں کوئی کسراٹھا نہیں رکھے ہوئے۔سانحہ مشرقی پاکستان سے ایک نہیں کئی اندوہناک واقعات جڑے ہوئے ہیں جو بہت سارے لکھنے والوںنے تحریر کئے ہیں ۔انہیں میں ارشد سمیع کا شمار بھی ہوتا ہے جن کی معرکتہ الآرا کتاب “Three President’s and an “Ade بھی شامل ہے جس میں مصنف نے دوران سروس اپنی کامیابیوں اور ناکامیوں کے ساتھ ساتھ ان دشواریوں کا بھی ذکر کیا ہے جو انہیں پیش آئیں ۔
ارشد سمیع یوں تو پاکستانی سفارتکار تھے جنہوں نے مملکت پاکستان کے تین صدور کے ساتھ کام کیا جن میں صدر محمد ایوب خان ، صدر یحییٰ خان اور ذوالفقار علی بھٹو کے نام شامل ہیں جن کے ساتھ سفارتی خدمات سرانجام دیں اوران ادوار کے بین الاقوامی حالات و واقعات کے عینی شاہد رہے،اور عالمی سیاست کے پس منظر میں تینوں صدور کی اندرونی کہانیاں انتہائی دلکش و دل فگار پیرائے میں بیان کی ہیں ۔انہوں نے تینوں صدور کے مختلف مزاج اور ان کی حکمت عملیوں کے بارے میں تفصیل سے اور کھڑے الفاظ میں لکھا ہے ۔انہوں نے امریکہ،روس اور چین کے ساتھ سیاسی اور سفارتی تعلقات کے حوالے سے غیر معمولی قصے بیان کرنے کے ساتھ بین الاقوامی معاہدوں اور مذاکرات پر سیل حاصل امور پر سے پردہ اٹھایا ہے اور خاص طور پر 1971ء کے بحران بارے اپنے تجربات و مشاہدات کی روشنی میں حقائق سے آگاہ کیا ہے۔ ارشد سمیع نے ذوالفقار علی بھٹو کی شخصیت اور سیاسی قیادت کو کرشماتی قرار دیا ہے اور ان کی سیاسی سوجھ بوجھ اورحکمت عملیوں کے بارے حسن ظن کا اظہار کیا ہے جبکہ جنرل یحییٰ خان کی کمزوریوں کو بھی خوبصورت ، سچے انداز میں پیش کیا ہے اور صدر ایوب کا ذکر کرتے ہوئے بھی شگفتہ طرز تحریر اپنایا ہے۔ارشد سمیع نے پاکستانی سیاست اور سفارتکار ی کی اندرونی کہانی کو فکر انگیز اسلوب میں بیان کیا جس سے یہ اندازہ لگانے میں آسانی ہوتی ہے کہ ہمارے سیاستدان یا مقتدرہ کے بڑے منصب دار کہاں کہاں لیت و لعل یا بے سرو پاحکمت عملیوں سے کام لیتے رہے۔
پاکستانی سیاست اور تاریخ کے حوالے سے ارشد سمیع نے بہت سارے ایسے حقائق کی پردہ کشائی کی ہے جنہیں بیان کرنے سے اخفا پرتا گیا یا کچھ لوگ مبالغہ آرائی کرتے ہیں اور کچھ لوگ بعض اہم نوعیت کے واقعات کے بیان میں مصلحت کیشی کا رویہ اپناتے ہیں ۔ ارشد سمیع نے اس بارے اپنی مشکلات اور دشواریوں کا ذکر بھی تفصیل کیا ہے جو ایک اچھے سفارتکار کو درپیش ہوتی ہیں،اس دوران کبھی کبھی وہ دوسروں کو آئینہ دکھاتے ہوئے خود آئینے کے پیچھے چھپ جاتاہے اور کبھی یہ بھی ہوتا ہے کہ استدراک کا فقدان غالب آجاتا ہے ،مشورہ ادھورا رہ جاتا،ہے یا بات کے وزن کو پورے طور پر محسوس کرنے کی زحمت اٹھانے سے گریز کیا جاتا ہے۔ان ساری باتوں کو انہوں نے چیلنجز کا نام دیا ہے ۔بہت سی بار پاکستان کے موقف کو خود سے مضبوط بنا کر پیش کرنا پڑتا ہے اور بین الاقوامی طاقتوں کے فیصلوں پر اپنا رد عمل یا رائے دینا ہوتی ہے اس دوران اختلاف اور سیاسی و سفارتی حکمت عملی کے بارے جن دشواریوں سے سابقہ پڑتا ہے اور وطن سے محبت و وفاداری اور اخلاقی ذمہ داری تک کا لحاظ درپیش ہوتا ہے۔اس بارے شناخت بنانے میں انہیں بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ۔یوں بھی ارشد سمیع ایک موسیقار باپ کے بیٹے ہونے کے ناطے ہر گام پر ایک ردھم کا خیال رکھتے ہوئے نظر آتے ہیں ۔صدر ایوب کے دور حکمرانی میں امریکہ اور چین کے ساتھ رشتوں کی مضبوطی اور بھٹو دور میں پاکستان کو خودمختار بنانے کی جدوجہد میں ان کا کردار بہت مثبت اور حوصلہ افزا رہا ۔گو اب کی بار بھی دسمبر جاچکا ہے مگر اس کے لگائے زخم ہم کیسے بھلا سکتے ہیں ۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: کے ساتھ کیا ہے ہے اور

پڑھیں:

کسی سیاسی جماعت کا نمائندہ نہیں، آئین کے مطابق قومی ذمہ داری نبھاؤں گا: گورنر سندھ نہال ہاشمی

گورنر سندھ نہال ہاشمی نے کہا ہے کہ وہ گورنر کے منصب پر رہتے ہوئے اپنی تمام ذمہ داریاں آئینِ پاکستان کے مطابق ادا کریں گے اور ان کی حیثیت کسی سیاسی جماعت کے نمائندے کی نہیں بلکہ وفاق کی آئینی ذمہ داریاں نبھانے والے عہدیدار کی ہوگی۔

انہوں نے ان خیالات کا اظہار ایڈیٹرز کلب کے ایک وفد سے ملاقات کے دوران کیا۔ ملاقات میں صحافت، تعلیم، گورننس اور سندھ کو درپیش مختلف امور پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔

گورنر سندھ نے کہا کہ ان کی اولین ترجیح آئین اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنی قومی ذمہ داریاں ادا کرنا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ گورنر ہاؤس میں بیٹھ کر وہ معاشرے کے تمام طبقات کے لیے یکساں طور پر دستیاب رہیں گے اور کسی بھی فیصلے میں سیاسی یا لسانی وابستگی کو بنیاد نہیں بنایا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ وہ لسانی تعصبات سے بالاتر ہو کر سندھ کے تمام شہریوں کی خدمت پر یقین رکھتے ہیں اور بطور گورنر ان کا کردار صوبے کے مختلف طبقات کے درمیان ہم آہنگی، اعتماد اور باہمی تعاون کو فروغ دینا ہوگا۔

صحافت کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے نہال ہاشمی نے کہا کہ سوشل میڈیا اور ریلز کلچر نے معلومات کی ترسیل کا انداز بدل دیا ہے، تاہم اس تبدیلی کے ساتھ پیشہ ورانہ صحافت کے بنیادی اصولوں کو نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ سنجیدہ صحافت کی بنیادی ذمہ داری تحقیق، حقائق اور عوامی مفاد کو مقدم رکھنا ہے۔

انہوں نے میڈیا اداروں پر زور دیا کہ وہ اپنی ادارتی پالیسیوں اور ایڈیٹوریل گائیڈ لائنز کو مزید مؤثر بنائیں تاکہ نئے آنے والے رپورٹرز کی بہتر تربیت کی جا سکے۔ ان کے بقول صحافیوں کو یہ سکھانا وقت کی اہم ضرورت ہے کہ وہ متعلقہ، بامقصد اور مؤثر سوالات کریں، کیونکہ معیاری سوال ہی معیاری صحافت کی بنیاد بنتا ہے۔

گورنر سندھ نے تعلیم کے شعبے کو اپنی ترجیحات میں شامل قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ سندھ میں تعلیمی نظام کی بہتری کے لیے ہر ممکن کردار ادا کریں گے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ تعلیم کے شعبے میں اصلاحات اور معیار کی بہتری کے لیے متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر کام کیا جائے گا تاکہ نوجوانوں کو بہتر تعلیمی مواقع میسر آ سکیں۔

انہوں نے اپنی طرزِ حکمرانی پر بھی روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ وہ گورنر ہاؤس ہی میں رہائش پذیر ہیں، اس لیے غیر ضروری پروٹوکول کے قائل نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جب سرکاری رہائش گاہ موجود ہے تو غیر ضروری نقل و حرکت اور بڑے پروٹوکول کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔ سادگی، کفایت شعاری اور عوامی سہولت کو ترجیح دینا ہی بہتر طرزِ حکمرانی ہے۔

ملاقات کے دوران وفد کے ارکان نے بھی میڈیا کو درپیش چیلنجز، صحافیوں کی پیشہ ورانہ تربیت، تعلیم اور گورننس سے متعلق مختلف امور پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ گورنر سندھ نے اس موقع پر صحافتی برادری کے ساتھ مسلسل رابطے اور تعمیری مکالمے کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

گورنر سندھ نہال ہاشمی

متعلقہ مضامین

  • جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم سپرد خاک، نصف صدی پر محیط سیاسی و تنظیمی خدمات کا باب بند
  • کسی سیاسی جماعت کا نمائندہ نہیں، آئین کے مطابق قومی ذمہ داری نبھاؤں گا: گورنر سندھ نہال ہاشمی
  • خارجہ کامیابیاں یا داخلی استحکام؟
  • آزاد کشمیر میں سیاسی سرگرمیاں تیز، نواز شریف آج میرپور میں جلسے سے خطاب کریں گے
  • وزیر تجارت سے کارپٹ مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے وفد کی ملاقات، تجارتی رکاوٹوں اور عالمی سپلائی چین میں خلل سے صنعت کو درپیش مشکلات بارے آگاہ کیا
  • ارشد ندیم کی قیادت میں پاکستانی دستے کی کامن ویلتھ گیمز کی رنگا رنگ افتتاحی تقریب میں شاندار شرکت
  • قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں
  • فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • جدہ قونصل خانے میں اہم انتظامی تبدیلی، فرینہ ارشد نے ڈپٹی قونصل جنرل کا عہدہ سنبھال لیا