بیورو کریٹس کی بحیثیت وائس چانسلر تقرری، سندھ کی سرکاری جامعات میں ہڑتال کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 15th, January 2025 GMT
فپواسا رہنماؤں نے پریس کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ پیر کو اساتذہ آئندہ لائحہ عمل کا اعلان کریں گے، جس میں ہزاروں اساتذہ سندھ اسمبلی کے اجلاس کا گھیراؤ اور وزیراعلیٰ ہاؤس کی جانب مارچ بھی کیا جا سکتا ہے، جس میں ہمارے ساتھ طلبہ بھی شامل ہو سکتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ صوبہ سندھ کی سرکاری جامعات کی اساتذہ تنظیموں نے بیورو کریٹس کو وائس چانسلر مقرر کرنے اور اساتذہ کی مستقل تقرریوں کو روکے جانے کے حکومتِ سندھ کے فیصلوں کے خلاف جمعرات اور جمعہ کو پورے صوبے کی پبلک سیکٹر جامعات بند رکھنے کا اعلان کر دیا ہے۔ فیڈریشن آف آل پاکستان اکیڈمک اسٹاف ایسوسی ایشن (فپواسا) نے جامعہ کراچی میں منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ دونوں دن سندھ کی پبلک سیکٹر جامعات میں صوبائی حکومت کے مذکورہ فیصلوں کے خلاف ہڑتال اور تدریسی عمل کا بائیکاٹ کیا جائے، پیر کو اساتذہ آئندہ لائحہ عمل کا اعلان کریں گے، جس میں ہزاروں اساتذہ سندھ اسمبلی کے اجلاس کا گھیراؤ اور وزیراعلیٰ ہاؤس کی جانب مارچ بھی کیا جا سکتا ہے، جس میں ہمارے ساتھ طلبہ بھی شامل ہو سکتے ہیں۔
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پروفیسر اختیار گھمرو، پروفیسر کلیم اللہ، پروفیسر عبدالرحمٰن اور ڈاکٹر محسن علی و دیگر کا کہنا تھا کہ سندھ ایچ ای سی کے چیئرمین، سیکریٹری اور سیکریٹری یونیورسٹیز اینڈ بورڈز نے گزشتہ ماہ منعقدہ ایک اجلاس میں ہمیں یقین دلایا تھا کہ یہ فیصلے واپس ہو جائیں گے، لیکن اب کہا جا رہا ہے کہ بیوروکریسی کی مدد سے جامعات میں بہتری آئے گی۔ اساتذہ رہنماؤں نے سوال کیا کہ کیا بیوروکریٹس جن محکموں میں کام کر رہے ہیں، ان میں بہتری آگئی ہے جو اب جامعات میں یہ کوشش کی جا رہی ہیں۔ رہنماؤں کا مزید کہنا تھا کہ اگر اساتذہ کی جز وقتی تقرری ہوگی تو جامعات میں اکیڈمک بہتری کیسے آئے گی۔ انکا کہنا تھا کہ بیوروکریسی کیلئے ٹیچنگ اور ریسرچ کا تجربہ اور پی ایچ ڈی کی شرط ختم کی جا رہی ہے، جب بیوروکریٹ خود نان پی ایچ ڈی ہوگا تو وہ کیسے اکیڈمک ریسرچ کرائے گا اور پی ایچ ڈی کیلئے اجلاس چیئر کرے گا۔
رہنماؤں کا کہنا تھا کہ بیوروکریٹس تو حکومت اور وزراء کے سامنے ہاتھ باندھ کر کھڑے ہو جاتے ہیں، یہ فیصلہ جامعات کی خودمختاری ختم کرنے کی کوشش ہے۔ سیکریٹری فپواسا سندھ چیپٹر کا کہنا تھا کہ یہ سب کچھ 18ویں ترمیم کے خلاف عملی اقدام ہے، اگر ایسا ہے تو پھر پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت 18ویں ہی ختم کر دے۔ رہنماؤں کا مزید کہنا تھا کہ جامعات کی بجٹڈ پوسٹس پر تقرریوں کیلئے وزیراعلیٰ سندھ سے اجازت کی شرط رکھ دی گئی ہے جو خلاف ضابطہ ہے، یہ وائس چانسلرز کو بلیک میل کرنے کے مترادف ہے، کیونکہ بجٹڈ پوسٹ کی جامعات کی سینڈیکیٹ سے منظوری لی جاتی ہے، جس میں حکومتِ سندھ کے نمائندے بھی موجود ہوتے ہیں، پھر بھی سندھ حکومت نے بھرتیوں پر پابندی لگا رکھی ہے۔ اس موقع پر فپواسا پاکستان کے نمائندہ نے کہا کہ اگر یہ مطالبات منظور نہ ہوئے تو ہم ملک کی دیگر جامعات میں اس فیصلے کے خلاف احتجاج کریں گے۔ پریس کانفرنس میں سندھ کی 11 جامعات کے اساتذہ نمائندے شریک ہوئے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کا کہنا تھا کہ پریس کانفرنس جامعات میں جامعات کی کا اعلان کے خلاف سندھ کی
پڑھیں:
پولیس بہترین کارکردگی کے ذریعے اپنے تاثرکو بہتر بناسکتی ہے: وزیراعلیٰ سندھ
وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا کہنا ہے کہ عوام کا تحفظ، انصاف کی فراہمی اور قانون شکن عناصر کو عدالتوں کے کٹہرے میں لانا پولیس فورس کی بنیادی ذمہ داری ہے۔
سعید آباد پولیس ٹریننگ سینٹر میں 132ویں پاسنگ آؤٹ پریڈ کی تقریب سے خطاب کرتے وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا تھا آج 300 سے زائد خواتین اپنی ٹریننگ مکمل کررہی ہیں، مجھےخواتین کی کامیابی پر بہت خوشی ہوئی کہ ایک تازہ دم دستہ عوام کی خدمت کےلیے تیار ہے، شہریوں کو پر امن زندگی دینے کی ذمےداری اب آپ پر عائد ہوتی ہے۔مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ ملک دہشتگردی جیسے مسائل سے دوچار ہے، ہمارے جوانوں نے بہت قربانیاں دیں ہیں، کچے کے علاقے کچھ عرصے پہلے تک بحران سے دوچار تھے، یقین دہانی کرواتا ہوں کہ ان شہداء کا خون رائیگاں نہیں جائےگا، پولیس کی کارکردگی کو مزید بہتر بنانا سندھ حکومت کی اولین ترجیح ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ پولیس کی فلاح و بہبود ہمیشہ سے میری اولین ترجیح رہی ہے، مستقبل میں بھی پولیس کے تمام مسائل کو بہتر اور ترجیحی انداز میں حل کیا جائے گا، پاس آؤٹ ہونے والے جوان فیلڈ میں جا کر سندھ پولیس کا نام مزید روشن کریں گے۔مراد علی شاہ نے یہ بھی کہا کہ پولیس اپنی بہترین کارکردگی کے ذریعے ہی اپنے امیج (تاثر) کو بہتر بنا سکتی ہے، عوام کا تحفظ، انصاف کی فراہمی اور قانون شکن عناصر کو عدالتوں کے کٹہرے میں لانا پولیس فورس کی بنیادی ذمہ داری ہے، سندھ حکومت پولیس فورس کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے پرعزم ہے۔اس موقع پر آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پولیس فورس کی بنیاد معیاری افرادی قوت اور انسانی وسائل پر ہوتی ہے، عوام کا تحفظ، انصاف کی فراہمی اور خلوصِ دل سے خدمت پولیس کا مقصد ہے، پولیس کی وردی جوانوں کے لیے اعزاز بھی ہے اور ایک بڑا امتحان بھی۔آئی جی سندھ کا کہنا تھا کہ صوبے کے عوام اور حکومت کی نظریں پولیس فورس پر مرکوز ہیں، کراچی میں اسٹریٹ کرائم کے خاتمے اور کچے میں ڈاکوؤں کا صفایا بڑا چیلنج ہے۔انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ سندھ کی جانب سے ڈائٹ چارجز بڑھانےکی منظوری محکمہ فنانس میں زیر التوا ہے، ہمارا مطالبہ ہے کہ گریڈ ایک سے گریڈ 16 کے ٹرینرز کا الاؤنس 3 ہزار سے بڑھا کر 30 ہزار روپے کیا جائے اور گریڈ 17 سے 21 کے افسران کا ٹریننگ الاؤنس 5 ہزار سے بڑھا کر 50 ہزار روپے کیا جائے، رزاق آباد، سکرنڈ اور حیدرآباد کے مراکز کو پولیس ٹریننگ اسکول کا درجہ دیا جائے۔