پی این ایس سی چاول کے بر آمد کنندگان سے تعاون کر یگا،سلطان احمد چاولہ
اشاعت کی تاریخ: 16th, January 2025 GMT
سلطان چاولہ چیئرمین پی این ایس سی جاول کے برآمدکنندگان سے خطاب کر رہے ہیں
کراچی (کامرس رپورٹر)سلطان چاولہ چیئرمین PNSC نے REAP کی ٹیم کا شکریہ ادا کیا اور 3.9 ارب ڈالر کے حصول پر REAPکی کوششوں کو سراہا ۔ انہوں نے عبدالرحیم جانو کی تجویز کی تائید کی کہ چاول کی برآمدی کارگو کے لیے ہماری نیشنل فلیگ شپنگ کمپنی کو استعمال کیا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ برآمدکنندگان کی طرف سے شپنگ کمپنیوں کو سالانہ تقریباََ 300 ملین ڈالر ادا کئے جاتے ہیں ۔ انہوں نے REAP کے ممبران کو اپنے مکمل تعاون کا یقین دلایا۔جاوید جیلانی سینئر وائس چیئرمین REAP نے بتایا کہ حال ہی میں بڑی مقدار میں چاول بنگلہ دیش کو برآمد کیے گئے ہیں اور امید ہے بنگلہ دیش آئندہ مہینوں میں پاکستان سے مزید چاول کی خریداری کرے گا جو کہ PNSC کے ذریعے ترسیل کیا جائے گا ۔ تقریب کے اختتام پر عبد الرحیم جانو، جاوید جیلانی ، مہیش کمار اور مینیجنگ کمیٹی کے ممبران نے چیئرمین PNSC کو REAP کی شیلڈ اور سووینئر پیش کیا۔عبدالرحیم جانو، گروپ چیئرمین کی دعوت پرسلطان احمد چاولہ چیئرمین پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن (PNSC) نے اپنی کمرشل ٹیم کے ساتھ REAP ہاؤس کراچی کا دورہ کیا۔ اس موقع پر جاوید جیلانی سینیئر وائس چیئرمین REAP، ممبران مینیجنگ کمیٹی REAPمہیش کمار تلریجا، رفیق سلیمان، جیتندر کمار، محمد خرم کے علاوہ چاول کے برآمد کنندگان کی بڑی تعداد موجود تھی۔تقریب سے استقبالیہ خطاب کرتے ہوئے عبدالرحیم جانو نے چاول کے برآمدی شعبے کی کامیابیوں کومختصراً بیان کیا جو کہ 300 ملین ڈالر سے شروع ہو کر 2 ارب ڈالر اور گزشتہ سال 3.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: انہوں نے
پڑھیں:
گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
اسلام آباد: مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعوؤں کی حقیقت سامنے آگئی ہے۔ مختلف پلیٹ فارمز پر یہ خبریں وائرل ہو رہی تھیں کہ عیدالاضحیٰ سے قبل مری میں غیر شادی شدہ مردوں یا بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے، تاہم سرکاری وضاحت نے ان دعوؤں کو غلط قرار دے دیا ہے۔
سوشل میڈیا پوسٹس میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ دفعہ 144 کے نفاذ کے بعد مری شہر میں صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت ہوگی جبکہ بیچلرز کو مکمل طور پر روک دیا گیا ہے۔ تاہم ضلعی انتظامیہ کے مطابق ایسی کوئی پابندی پورے مری شہر پر نافذ نہیں کی گئی۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود تھی، جہاں سیاحوں کے رش اور نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے لیے اکیلے آنے والے مردوں اور بیچلرز گروپس کے داخلے پر عارضی پابندی لگائی گئی تھی۔ فیملیز کو معمول کے مطابق مال روڈ جانے کی اجازت دی گئی تھی۔
ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) مری کامران صغیر کے مطابق دفعہ 144 کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا اور 31 مئی تک نافذ رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ مری شہر میں آنے والے تمام سیاحوں کے لیے راستے کھلے تھے اور بیچلرز کے شہر میں داخلے پر کوئی مکمل پابندی نہیں تھی۔
ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں بھی واضح کیا گیا تھا کہ یہ اقدام صرف سیاحتی سہولیات بہتر بنانے اور ہجوم کو منظم رکھنے کے لیے کیا گیا تھا۔
اس طرح مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی کے حوالے سے وائرل ہونے والا دعویٰ حقیقت کے برعکس ثابت ہوا۔ مری بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے جبکہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص علاقے تک محدود رہی۔