برطانیہ؛ گھروں پر جا کر بچوں کا غیر محفوظ طریقے سے ختنہ کرنے پر ڈاکٹر کو سزا
اشاعت کی تاریخ: 17th, January 2025 GMT
برطانیہ میں بچوں کا غیر محفوظ طریقے سے ختنہ کرنے والے ڈاکٹرکو 5 سال اور 7 ماہ قید کی سزا سنا دی گئی۔ سزا مکمل ہونے کے بعد بھی مزید 5 سال زیر نگرانی رہیں گے۔
برطانوی میڈیا کے مطابق برمنگھم کے یونیورسٹی اسپتال ساؤتھمپٹن این ایچ ایس فاؤنڈیشن ٹرسٹ کے 58 سالہ ڈاکٹر محمد صدیقی کو سزا سنائی گئی۔
عدالت میں ڈاکٹر محمد صدیقی نے 25 جرائم کا اعتراف کیا تھا۔
ڈاکٹر محمد صدیقی پر الزام تھا کہ زیادہ پیسے کمانے کے لیے آن کال گھروں میں جا کر بچوں کی ختنہ کیا کرتے تھے۔
تاہم صحت کے اصولوں کی سنگین خلاف ورزی کرتے ہوئے اس دوران وہ حفاظتی انتظامات نہیں کر پاتے تھے جو بچوں کی صحت کے لیے لازم و ملزوم ہوتے ہیں۔
ڈاکٹر کی جانب سے جن بچوں کی ان کے گھروں پر ختنہ کی گئی ان میں سے ایک بچہ مرنے سے بال بال بچا تھا جب کہ درجنوں بچوں کو شدید تکلیف اور انفیکشن کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
2015 میں میڈیکل پریکٹیشنرز ٹریبونل سروس نے ڈاکٹر محمد صدیقی کی جنرل میڈیکل کونسل کی رجسٹریشن ختم کردی تھی کیوں کہ انھوں نے 4 بچوں کی حفظان صحت کے اصولوں کی سنگین خلاف ورزی کرتے ہوئے ان کے گھروں میں ختنہ کی تھی۔
اس کے باوجود ڈاکٹر صدیقی نے یہ آپریشن جاری رکھے اور امریکا کے مختلف شہروں میں موبائل کلینک کے نام پر 300 پاؤنڈ فی ختنہ خدمات انجام دیتے رہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ڈاکٹر محمد بچوں کی
پڑھیں:
خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔
فیصلے کے مطابق نیب خیبرپختونخوا اپرکوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔
احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔
فیصلے میں مزید بتایا گیا کہ عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے ضبط شدہ رقم چیئرمین نیب کے نیشنل بینک آف پاکستان، پی ایم سیکریٹریٹ برانچ اسلام آباد کے اکاؤنٹ میں منتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق ضبط شدہ رقم ملزم کی پلی بارگین کے تحت واجب الادا رقم میں ایڈجسٹ کی جائے گی۔