ہمیں پھر لڑنا پڑا تو نئے اور زبردست طریقے سے حملہ کرینگے، نیتن یاہو کی بڑھک
اشاعت کی تاریخ: 18th, January 2025 GMT
تل ابیب میں قوم سے خطاب میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ جنگ بندی ڈیل امریکی صدر جو بائیڈن اور نومنتخب ڈونلڈ ٹرمپ کے تعاون سے ہوئی، ڈیل کے پہلے مرحلے میں جنگ بندی عارضی ہے۔ اُنکا کہنا تھا کہ ہم نے ایرانی مزاحمت کو نقصان پہنچایا ہے، آگے بھی پہنچا سکتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر ہمیں پھر لڑنا پڑا تو نئے اور زبردست طریقے سے حملہ کریں گے۔ تل ابیب میں قوم سے خطاب میں اسرائیلی وزیراعظم نے کہا کہ تمام قیدیوں کی رہائی تک آرام سے نہیں بیٹھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ جنگ بندی ڈیل امریکی صدر جو بائیڈن اور نومنتخب ڈونلڈ ٹرمپ کے تعاون سے ہوئی، ڈیل کے پہلے مرحلے میں جنگ بندی عارضی ہے۔ نیتن یاہو نے مزید کہا کہ جنگ بندی کا دوسرا مرحلہ بے نتیجہ رہا تو جنگ کا دوبارہ آغاز کر دیں گے، اگر ہمیں لڑنا پڑا تو نئے اور زبردست طریقے سے پھر حملہ کریں گے۔ اُن کا کہنا تھا کہ ہم نے ایرانی مزاحمت کو نقصان پہنچایا ہے، آگے بھی پہنچا سکتے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
ایران نے عراق کے ذریعے بھیجی گئی امریکی جنگ بندی کی تجویز مسترد کر دی، امریکی اخبار کا دعویٰ
تہران / واشنگٹن: امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے عراق کے ذریعے امریکا کی جانب سے پیش کی گئی جنگ بندی کی تجویز مسترد کر دی ہے۔
رپورٹ کے مطابق تہران نے واضح کیا ہے کہ عارضی جنگ بندی اس وقت تک قابل قبول نہیں جب تک بنیادی تنازعات، خصوصاً آبنائے ہرمز کے معاملے، کا حل پیش نہ کیا جائے۔
رپورٹ کے مطابق عراقی وزیراعظم علی الزیدی حالیہ دورۂ واشنگٹن کے بعد تہران پہنچے، جہاں انہوں نے ایرانی قیادت سے ملاقاتیں کیں اور امریکا کی جانب سے جنگ بندی سے متعلق پیغام پہنچایا۔
نیویارک ٹائمز کے مطابق امریکی تجویز کی مکمل تفصیلات فوری طور پر سامنے نہیں آئیں، تاہم ایرانی حکام نے مؤقف اختیار کیا کہ مختصر یا عارضی جنگ بندی سے مسئلہ حل نہیں ہوگا، کیونکہ اس میں آبنائے ہرمز کے کنٹرول اور دیگر اہم معاملات پر کوئی واضح پیش رفت شامل نہیں۔
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اس حوالے سے کہا کہ عراقی وزیراعظم نے واشنگٹن میں ہونے والی ملاقاتوں اور اپنے مشاہدات سے ایران کو آگاہ کیا، تاہم ایران اور امریکا کے درمیان پہلے ہی مختلف ممالک ثالثی کا کردار ادا کر رہے ہیں۔
عباس عراقچی نے مزید کہا کہ اصل مسئلہ پیغامات کی ترسیل نہیں بلکہ امریکا کا رویہ ہے۔ ان کے مطابق واشنگٹن کا غیرمنطقی، لالچی اور دوسروں پر کنٹرول قائم کرنے والا طرزِ عمل موجودہ بحران کی بنیادی وجہ ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایران اب بھی اپنے بنیادی مطالبات پر قائم ہے اور کسی ایسے معاہدے پر آمادہ نہیں جو اس کے اسٹریٹجک مفادات کو نظر انداز کرے۔
دوسری جانب خبر شائع ہونے تک امریکی حکومت نے نیویارک ٹائمز کی اس رپورٹ یا ایران کے مؤقف پر باضابطہ ردعمل جاری نہیں کیا تھا۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق عراق، قطر، پاکستان اور دیگر علاقائی ممالک کی ثالثی کی کوششیں بدستور جاری ہیں، تاہم ایران اور امریکا کے درمیان اہم اختلافات برقرار رہنے کے باعث فوری پیش رفت کے امکانات محدود دکھائی دیتے ہیں۔