Jasarat News:
2026-07-24@01:48:33 GMT

حیدرآباد: کاؤنٹی اسکول اینڈ گرلز کالج میں سائنسی نمائش

اشاعت کی تاریخ: 19th, January 2025 GMT

حیدرآباد (اسٹاف رپورٹر) کاؤنٹی اسکول اینڈ گرلز کالج میں اسٹیم کے تعاون سے سائنسی نمائش کا انعقاد کیا گیا جس کی سربراہی سر خرم رانا اور پروفیسر سلیم مغل نے کی۔ نمائش میں میزبان اسکول کاؤنٹی کے علاوہ کراچی، حیدر آباد ڈویژن کے تقریباً 20 اسکولوں نے حصہ لیا۔ مہمانِ خصوصی ڈائریکٹر جنرل محمد افضل ایڈیشنل ڈائریکٹر رجسٹریشن رافعہ ملھا، مانیٹرنگ آفیسر خالق احمد، ڈپٹی ڈائریکٹر قربان علی بھٹو، ڈپٹی ڈائریکٹر حمزہ نصر ہللا، ڈائریکٹر سید نوید علی شاہ، اسسٹنٹ ڈائریکٹر عمران علی قمبر، مانیٹرنگ آفیسر سجاد علی چانڈیو، اے ڈی سی ٹو اسسٹنٹ ایڈیشنل کمشنر خالد بلوچ، محمد صدیق، عادل، پروفیسر بالل اور پروفیسر عابد کے ساتھ ساتھ ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ سے وابستہ بہت سی مشہور شخصیات نے شرکت کی۔ نمائش میں طلبہ نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور سائنس، ٹیکنالوجی، آرٹس، انجینئرنگ اور میتھس کے انتہائی دلچسپپ پروجیکٹس بنائے۔ اسٹیم کے تعاون سے اس نمائش کے ذریعے دورِ حاضر میں طلبہ کی قابلیت اور ذہانت کو فروغ دے کر انہیں سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ، میتھس اور آرٹس کے میدان میں اپنی کارکردگی پیش کرنے کا موقع ملا جس سے نا صرف ان میں اعتماد پیدا ہوتا ہے بلکہ مستقبل میں یہ طلبہ جو ہمارے ملک کا سرمایہ ہیں، اپنے ملک و قوم کا نام روشن کرتے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔

یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔

دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔

راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔

انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔

واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • امریکا کی 250 ویں سالگرہ 5 روزہ نمائش، آزادی کے تصور پر پاکستانی آرٹسٹس کے فن پارے توجہ کا مرکز
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا