کراچی میں بجلی کا بڑا بریک ڈاؤن
اشاعت کی تاریخ: 19th, January 2025 GMT
ترجمان کے الیکٹرک کے مطابق شہر کے چند علاقوں سے بجلی کی فراہمی میں تعطل کی شکایات موصول ہوئیں، تکنیکی خرابی کے باعث آنے والے تعطل کو فوری دور کردیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کراچی میں کے الیکٹرک کی ایکسٹرا ہائی ٹینشن لائن میں ٹرپنگ کی وجہ سے متعدد گرڈ اسٹیشن ٹرپ کر گئے جس کے باعث شہر کے بڑے حصے میں بجلی بند ہوگئی۔ ذرائع کے مطابق ٹرپنگ کی وجہ سے کورنگی، لیاری، کھارادر، ڈیفنس، آئی آئی چندریگر روڈ، پی ای سی ایچ ایس، صدر، سائٹ ایریا، نارتھ کراچی، نارتھ ناظم آباد میں بجلی بند ہوگئی۔ جیکب لائن اور ایف بی ایریا کے مختلف بلاکس میں بھی بجلی کی فراہمی معطل ہوئی۔
دوسری جانب اس معاملے پر کے الیکٹرک کا بھی بیان سامنے آیا ہے۔ ترجمان کے الیکٹرک کے مطابق شہر کے چند علاقوں سے بجلی کی فراہمی میں تعطل کی شکایات موصول ہوئیں، تکنیکی خرابی کے باعث آنے والے تعطل کو فوری دور کردیا گیا ہے۔ ترجمان کے الیکٹرک کا کہنا ہے کہ کراچی میں بجلی کی سپلائی نارمل ہے، لسبیلہ اور بلدیہ میں سپلائی بحال ہونے میں وقت درکار ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کے الیکٹرک میں بجلی بجلی کی
پڑھیں:
باب المندب سب کیلیے بند نہیں، صرف سعودی عرب کی ناکہ بندی ہے؛ ترجمان حوثی
یمن کے حوثی (انصار اللہ) گروپ نے اس تاثر کو مسترد کردیا ہے کہ باب المندب جہاز رانی کے لیے مکمل طور پر بند ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ان خیالات کا اظہار حوثیوں کے چیف مذاکرات کار اور ترجمان محمد عبدالسلام نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں کیا۔
انھوں نے آبنائے کی مکمل بندش کی خبروں کی تردید کرتے ہوئے واضح کیا کہ بحری ناکہ بندی صرف سعودی عرب کے خلاف ہیں۔ بقیہ تمام جہازوں کے لیے بین الاقوامی آبی گزرگاہ کو مکمل طورکھلی ہوئی ہے۔
حوثیوں کے ترجمان محمد عبدالسلام نے بتایا کہ سعودی عرب کی ناکہ بندی یمن کے محاصرے اور ایسے منصفانہ حل کو قبول نہ کرنے کے ردعمل میں کی گئی ہے جو یمنی عوام کی سلامتی، خودمختاری اور آزادی کی ضمانت دے۔
ترجمان محمد عبدالسلام نے زور دیا کہ حوثیوں کی کارروائیوں کا مقصد عالمی بحری تجارت کو روکنا نہیں بلکہ سعودی عرب پر دباؤ بڑھانا ہے تاکہ یمن کے بحران کے حل کے لیے پیش رفت ممکن ہو سکے۔
واضح رہے کہ انصار اللہ، جنہیں عام طور پر حوثی تحریک کہا جاتا ہے۔ غزہ میں فلسطینیوں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے لیے اکتوبر 2023 کے بعد سے بحیرہ احمر اور خلیج عدن میں متعدد بحری جہازوں کو نشانہ بنا چکے ہیں لیکن اب سعودی ناکہ بندی بھی کردی گئی۔