پی ٹی آئی کا ون پوائنٹ ایجنڈے پر اپوزیشن کا الائنس بنانے کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 20th, January 2025 GMT
اسلام آباد: تحریک انصاف ( پی ٹی آئی ) کی قیادت کاکہنا ہے کہ القادر ٹرسٹ کیس میں سزاؤں کے خلاف کل ہائیکورٹ میں رٹ دائر کی جائے گی، حکومت مخالف تحریک کے لیے دیگر سیاسی جماعتوں سے مل کر ون پوائنٹ ایجنڈے پر اپوزیشن کا الائنس بنا رہے ہیں۔
اسد قیصر کے ہمراہ عمر ایوب میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہےکہ القادر ٹرسٹ کیس کی سزا کے خلاف ہم اعلی عدلیہ میں جائیں گے، حسن نواز سے پوچھا جائے کہ وہ 40 ارب روپے برطانیہ کیسے لے گئے؟ القادر ٹرسٹ کیس کے حوالے سے جھوٹ کا پلندہ بنایا ہوا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کی ہرشعبے میں کارکردگی صفر ہے، حکمران صرف دعوے کررہے ہیں کہ مہنگائی ختم ہوگئی ہے جبکہ ہر چیز کی قیمتوں میں اضافہ ہورہاہے، 6 ماہ گزر چکے ہیں پبلک ڈیویلپمنٹ سینٹر میں کوئی کام نہیں ہوسکا، انٹرنیٹ ٹھپ ہے، میڈیا اور سیاستدانوں پر مقدمات بنائے جارہے ہیں۔
اسد قیصر نے کہاکہ افغانستان سے دوستانہ تعلقات بہتر کرنا ہوں گے، کچھ دنوں تک اپوزیشن الائنس قائم کرنے جا رہے ہیں، عوام آئین کی بالادستی کے لیے باہر نکلیں، ملک میں چند قابض لوگوں کا ٹولہ زبردستی حکمرانی کررہاہے۔ پی ٹی آئی رہنمانے کہا کہ اس وقت عدلیہ پر سوالیہ نشان ہے کہ وہ کمپرومائز ہوچکی ہے، اس وقت حکومت سے پارلیمنٹ نہیں چل رہی ہے ، پارلیمنٹ سنجیدہ مسائل کو ڈسکس کرنے کے لیے ہوتی ہے مگر اس وقت پارلمنٹ میں کوئی عوامی مسائل پر بات نہیں ہورہی خیبر پختونخوا میں اس وقت سکیورٹی کے مسائل بہت زیادہ ہیں اس وقت ایک صوبے سے سیاسی انتقام لیا جارہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
پاکستان سمیت آٹھ مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں اور انتہا پسند عناصر کی حالیہ کارروائیوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایسے اقدامات نہ صرف مذہبی تقدس کی پامالی ہیں بلکہ پورے خطے میں کشیدگی کو خطرناک حد تک بڑھا رہے ہیں۔
مشترکہ اعلامیے پر پاکستان، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، مصر، اردن، ترکیہ اور انڈونیشیا کے وزرائے خارجہ نے اتفاق کیا۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی اشتعال انگیز کارروائیاں اور اسرائیلی انتہا پسند وزرا و گروہوں کی سرگرمیاں ناقابلِ قبول ہیں اور ان سے خطے میں امن و استحکام کو شدید خطرات لاحق ہو رہے ہیں۔
وزرائے خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ مسجد اقصیٰ کی تاریخی، قانونی اور مذہبی حیثیت کا ہر صورت احترام کیا جانا چاہیے اور اس میں کسی بھی قسم کی یکطرفہ تبدیلی ناقابلِ قبول ہے۔
مشترکہ اعلامیے میں مسجد اقصیٰ کے انتظامی اور مذہبی امور پر اردن کے محکمہ اوقاف کے خصوصی اختیار کا اعادہ کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ اس حیثیت کو برقرار رکھنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
اعلامیے میں اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا کہ مسلمانوں کو مسجدِ اقصیٰ میں عبادت سے روکنے کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے، مذہبی آزادی کا احترام کیا جائے اور ایسے تمام اقدامات سے گریز کیا جائے جو مزید کشیدگی اور تصادم کا سبب بن سکتے ہیں۔