گاڑی اور پلاٹ کی خریداری ، نان فائلرز کے لئے بڑی خبر آگئی
اشاعت کی تاریخ: 21st, January 2025 GMT
اسلام آباد (نیوز ڈیسک) چیئرمین ایف بی آر راشد لنگڑیال نے گاڑی اور پلاٹ کی خریداری کے حوالے سے نان فائلرز کو خبردار کردیا۔
تفصیلات کے مطابق چیئرمین ایف بی آر راشد لنگڑیال نے قومی اسمبلی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کو ٹیکس قوانین پر بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ ٹیکس قوانین میں تبدیلی ٹیکس بیس بڑھانے کیلئےہے، زیادہ آمدن اورخاص رقم سےزیادہ کا کاروبارکرنے والوں کیلئے قوانین ہیں۔
چیئرمین ایف بی آر نے بتایا کہ کچھ اختیارات ایف بی آر افسران کو نئے قوانین کے تحت دیے جارہے ہیں اور کسی کے پاس کالا دھن ہے یا ٹیکس چوری کرتا ہے اس پر پابندی لگا رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر کوئی نان فائلر ہے تو اکنامک ٹرانزیکشن نہیں کرسکتا، نان فائلر گاڑی، پلاٹ نہیں خرید سکتا اور سرمایہ کاری بھی نہیں کرسکتا۔
راشد لنگڑیال نے کہا کہ کابینہ نے آڈیٹرزکی بھرتی کا اختیار دیدیا ہے، کابینہ میں بل پرمکمل غور ہوگا اس کے بعد فیصلہ ہوگا۔
وزیرمملکت خزانہ علی پرویز ملک نے کہا کہ پائیدار ترقی کی بات کرتے ہیں تورسمی معیشت کاعدم توازن دور کرناہوگا اور کالے دھن سے گاڑیاں خریدنے کو روکنے کیلئے اقدامات کرنا ہوں گے.
چیئرمین نے بتایا کہ سال 2008 میں جتنا ٹیکس اکھٹا کیا تھا اتنا ہی 2024 میں ہوا، ہم نے ایک فیصد سیلز ٹیکس اور انکم ٹیکس کو بھی بڑھایا ہے، تنخواہ دار طبقے پر بھی ٹیکس میں اضافہ کیا گیا، شرح نمو ، مہنگائی کے تناسب سے ٹیکس محصولات میں اضافہ نہیں ہوا.
چیئرمین ایف بی آر نے اعتراف کیا کہ ایف بی آر میں اب بھی کرپشن ہورہی ہے تاہم زرمبادلہ کی کمی کا سامنا ہونے کی وجہ سے معیشت پر دباؤ ہے۔
گھروں میں مرغیاں پالنا قانونی یا غیر قانونی؟ معاملہ عدالت پہنچ گیا
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: چیئرمین ایف بی آر
پڑھیں:
اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔
اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔
فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔
مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔
(جاری ہے)
‘‘
اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔
اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔
ادارت: مقبول ملک