بچوں کے اغوا کے بڑھتے واقعات ، شہری خوفزدہ ، بازیابی کیلیے کمیٹی تشکیل
اشاعت کی تاریخ: 22nd, January 2025 GMT
کراچی( اسٹاف رپورٹر ) کراچی میں بچوں کے اغوا کے بڑھتے واقعات سے شہریوںمیں خوفزدہ ہوگئے ،بازیابی کیلیے کمیٹی بنادی گئی۔نارتھ کراچی انم اپارٹمنٹ میں صارم کے اغوا اور قتل کی واردات میں ملوث زیرِ حراست 5 ملزمان کو انویسٹی گیش سینٹرل کے حوالے کر دیا گیا ہے ۔تفتیشی ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ 7 سالہ صارم کے اغوا اور قتل کی واردات نارتھ کراچی انم اپارٹمنٹ کے اندر ہی ہوئی ہے ۔ بچے صارم کے کیس میں زیرِ حراست 5 ملزمان کو انویسٹی گیش سینٹرل کے حوالے کر دیا گیاہے ۔ ملزمان میں 2 چوکیدار، معلم اور بلڈنگ کا والومین شامل ہیں جبکہ زیرحراست ملزمان میں صارم کے والد کا رشتہ دار بھی ہے، تمام ملزمان کا ڈی این اے کیاگیا ہے ۔ کیس کی تحقیقات کے لیے چار رکنی کمیٹی بھی بنادی گئی ہے، ڈی ایس پی فرید قریشی کی سربراہی میں کمیٹی کی کیس کی مختلف زاویوں سے تفتیش کرے گی۔اس سے قبل صارم قتل کیس کی تفتیش اے وی سی سی سے واپس لینے کے احکامات جاری کئے گئے تھے ،کیس ایک مرتبہ پھر زون میں منتقل کیا گیا ہے ۔پولیس حکام کا کہنا تھا کہ صارم کا کیس اغواء کا نہیں بلکہ قتل کا ہے، گذشتہ روز کامبنگ آپریشن میں کئی شواہد تحویل میں لیے گئے تھے جبکہ ایک بیڈشیٹ، رسی کو تفتیشی ٹیم نے سیل کیا تھا اور ٹینک سے ایک ٹوپی اور بال بھی ملے تھے ۔پولیس کے مطابق بچے کے منہ اور حاجت کی جگہ سے بھی سیمپل لیے گئے ہیں، صرف ڈی این اے رپورٹ کا انتظار کر رہے ہیں ،عباسی شہید ہسپتال کے میڈیکو لیگل آفیسر ڈاکٹر غضنفر علی شہریار کی جانب سے تیار کی گئی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں بچے سے جنسی تشدد کی نشاندہی کی گئی ہے، بچے کو مبینہ طور پرزیادتی کربعد بے رحمی سے قتل کیے جانے کے شواہد ملے ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا تھا بچے کو گلہ دباکر مارا گیا اور گردن کی ہڈی بھی ٹوٹی ہوئی تھی۔پوسٹ مارٹم رپورٹ میں کہنا تھا کہ بچے کی کمر سمیت جسم کے تیرا حصوں پرزخم تھے، پورٹ میں مزید کہا گیا کہ متوفی بچے کے جسم کے مختلف حصوں پر 12 مختلف زخم موجود تھے جن میں سے 11 ’اینٹی مارٹم ہیں‘ (موت سے پہلے) کے ہیں۔دونوں نتھنے پچکے ہوئے اور ہونٹ سوجے ہوئے تھے۔رپورٹ کے مطابق بچے کی پیشانی،کان کے نیچے اور گردن کے پیچھے چوٹ لگی تھی، پیشانی کے علاوہ تمام چوٹیں مرنے سے پہلے کی ہیں جبکہ بچے کے پھیپھڑے سکڑ گئے تھے۔ بچے کو قتل کے بعد ٹینک میں پھینکا گیا تھا ۔ علاوہ ازیں گارڈن سے 2 بچے لاپتہ ہونے کے واقعے پر 5رکنی کمیٹی بنادی گئی ہے ،ایس ایس پی سٹی کمیٹی کی سربراہی کریں گے جو لاپتہ بچوں کی بازیابی پر کام کرے گی۔ڈی آئی جی ساؤتھ اسد رضا کا کہنا تھا کہ 5رکنی کمیٹی میں ایس پی انوسٹی گیشن سٹی بھی شامل ہیں ،ڈی آئی جی ساؤتھ اسد رضا کے مطابق گارڈن ویسٹ سے 14 جنوری کو لاپتا ہونے والے دو کمسن پڑوسی بچوں کاتاحال سراغ نہ مل سکا ۔ تفتیشی ٹیم لاپتہ بچوں کی بازیابی پر کام کرے گی۔انھوں نے بتایا کہ بچوں کی بازیابی کے لیے ہرممکن کوشش کررہے ہیں ، 3 مشکوک افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔ڈی آئی جی ساؤتھ نے بتایا کہ گارڈن دھوبی گھاٹ سے لاپتا بچوں کا روٹ چیک کیا گیا ہے،لیاری کشتی چوک تک بچوں کی آخری لوکیشن آئی ہے اور جائے وقوع کی جیو فینسگ کی گئی ہے۔پولیس حکام کا کہنا تھا کہ بچوں کی بازیابی کے لیے مختلف حکمت عملی کے تحت کام کیا جا رہا ہے، موٹرسائیکل سوار خاتون اور مرد کی سی سی ٹی وی حاصل کی ہیں اور پیشرفت کے لیے ٹیکنیکل سپورٹ سے بھی کام لیا جارہا ہے۔دوسری جانب بچوں کے لاپتا اوراغواسے متعلق سی پی او میں اے آئی جی کی زیرصدارت اجلاس ہوا ،کراچی پولیس چیف جاوید عالم اوڈھو نے موجودہ کیسز کی پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا۔جاوید عالم اوڈھو نے بچوں کی بازیابی کو یقینی بنانے کیلئے سخت اقدامات عمل میں لانے کے احکامات دیتے ہوئے کہا کہ مقدمات کی تفتیش میں تیزی لائیں اور والدین و متاثرہ خاندانوں کو ہر ممکن تعاون فراہم کریں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: بچوں کی بازیابی کہنا تھا کہ کے اغوا صارم کے گئی ہے کے لیے گیا ہے قتل کی
پڑھیں:
ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
ایس یو سی کے مرکزی رہنماء نے رہبر معظم آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ ڈیرہ اسماعیل خان جامعۃ النجف کوٹلی امام حسین میں گرمیوں کی چھٹیوں سے استفادہ کرتے ملت جعفریہ کے بچوں کے لیے پرنسپل جامعتہ النجف علامہ محمد رمضان توقیر کی نگرانی بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس کا اہتمام کیا گیا۔ جس میں ڈیرہ شہر اور مضافات سے کثیر تعداد میں بچوں نے شرکت کی۔اس دین شناسی شارٹ کورس میں بچوں کو قرآن وحدیث،وضو،صوم ،صلوات اور بنیادی فقہی احکام سے روشناس کرایا گیا۔ جس میں جامعتہ النجف کے دیگر مدرسین محنت و لگن کے ساتھ بچوں کی رہنمائی کرتے رہیں۔ دین شناسی شارٹ کورس کے آخر میں مدرسین نے اپنی محنت اور طلاب کرام کی کارکردگی کو جانچنے کے لیے بچوں سے امتحان لیا۔اساتذہ کی محنت اور بچوں کی محنت قابلِ تعریف تھی۔تقسیم تقریب انعامات کا اہتمام کیا گیا۔
پرنسپل جامعہ علامہ محمد رمضان توقیر نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اساتذہ کی محنت اور طلاب کرام کی امتحانات میں تسلی بخش نتائج کو سراہتے ہوئے کہا کہ انشاء اللہ اس طرح دین مبین کی خدمت کا سلسلہ جاری رکھیں گے اور ملت کے جوانوں کی دینی تعلیم و تربیت کے لیے ہمہ وقت کوشاں رہیں گے۔ اس موقع پر رہبرِ انقلاب کی دینی و انقلابی خدمات اور ایران کی استقامت اور ثابت قدمی کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ اسی قرآن و سنت کی آگاہی اور خدا تعالیٰ کی وحدانیت کے پختہ عقیدہ کی وجہ سے ایران کی حکومت اور عوام شیطان بزرگ کے خلاف استقامت اور جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے دن بدن حاوی ہوتی جا رہا ہے، جو قابلِ تعریف ہے۔ لیکن کچھ ناقدین آج بھی ایران کی استقامت اور کامیابیوں سے پریشان ہیں اور شیطان بزرگ کی خوشنودی کے لیے ایران پر تنقید کر رہے ہیں کہ ایران عرب ممالک پر حملہ کر رہا ہے۔
علامہ محمد رمضان توقیر نے کہا کہ ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے۔ اس موقع پر نئے رہبر آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا گیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ تقریب تقسیم انعامات میں مدرسین اور معززین علاقہ نے شرکت کی اور امتحان میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے طلاب کرام کو انعامات سے نوازا گیا اور انکی حوصلہ افزائی کی گئی۔ امتِ مسلمہ کے اتحاد، ایران کی فتح و نصرت، پاکستان کی سلامتی اور شہدائے اسلام، بالخصوص رہبر شہید کے لئے دعا کی گئی۔