رحیم یار خان میں ہندو برادری کے 3 افراد اغوا، ڈی پی او کا نوٹس، بازیابی کے لیے کارروائیاں جاری
اشاعت کی تاریخ: 26th, July 2025 GMT
رحیم یار خان:
نواز آباد کے علاقے میں سرکاری اسپتال کے نزدیک ڈاکوؤں نے ایک خوفناک واردات کے دوران گھر میں گھس کر ہندو برادری سے تعلق رکھنے والے تین افراد کو اغوا کر لیا۔ مغویوں میں رانجھا تھوری، کنہیا لال اور رمیش تھوری شامل ہیں۔
متاثرہ خاندان کے مطابق درجن بھر مسلح ڈاکو موٹر سائیکلوں پر سوار ہو کر آئے اور گھر میں گھس گئے۔ ڈاکوؤں نے اسلحہ کے زور پر یرغمال بنایا، نقدی اور زیورات لوٹنے کے بعد تین افراد کو زبردستی اغوا کر کے کچے کے علاقے کی طرف لے گئے۔
ڈی پی او رحیم یار خان عرفان سموں نے واقعے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے ڈی ایس پی بھونگ کی سربراہی میں پولیس کی بھاری نفری کچے کی طرف روانہ کر دی۔ ترجمان پولیس کے مطابق کچے میں داخلے کے تمام راستوں کی ناکہ بندی کر دی گئی ہے اور مغویوں کی بازیابی کے لیے بھرپور کوششیں جاری ہیں۔
ترجمان نے مزید کہا کہ پولیس مغویوں کو جلد بحفاظت بازیاب کرانے میں کامیاب ہو جائے گی اور ملزمان کو قانون کی گرفت میں لایا جائے گا۔
علاقے میں اس واقعے کے بعد خوف و ہراس پھیل گیا ہے جبکہ اقلیتی برادری نے واقعے پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے مغویوں کی فوری بازیابی کا مطالبہ کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
کراچی: 6 سالہ بچی سے مبینہ زیادتی کرنے والا ملزم پولیس مقابلے میں مارا گیا
فائل فوٹوکراچی میں جیکسن کے علاقے میں بچی سے مبینہ زیادتی کرنے والا ملزم پولیس مقابلے میں مارا گیا۔
ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) ساؤتھ اسد رضا کے مطابق 6 سالہ بچی کی لاش آج دوپہر کو جیکسن کے علاقے سے ملی تھی، ملزم کی گرفتاری کے لیے جیسے ہی پولیس پہنچی، اُس نے پولیس پر فائرنگ کردی۔
ڈی آئی جی کا کہنا ہے کہ پولیس کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے میں ملزم ہلاک ہوگیا، جس کے پاس سے اسلحہ برآمد ہوا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ بچی کل دوپہر کو لاپتا ہوئی تھی، آج اس کی لاش ملی، ابتدائی پوسٹ مارٹم میں بھی بچی کے ساتھ زیادتی کی تصدیق ہوگئی تھی۔