کوئٹہ: پولیس کی مختلف کا رروائیاں، 3موٹر سائیکل سنیچرز سمیت 4 ملزمان گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 22nd, January 2025 GMT
کوئٹہ (نمائندہ جسارت) پولیس نے 2مختلف کا رروائیوں میں 3موٹر سائیکل سنیچرزسمیت4ملزمان کو گرفتار کرکے 6موٹر سائیکلیں، موٹر سائیکلوں کے پرزے اور اسلحہ بر آمدکرلیا۔ پولیس کے مطابق گزشتہ دنوں پولیس نے کارروائی میں 3موٹرسائیکل سنیچرز محمد اعظم،محمد طلحہ اور احسان اللہ کو گرفتار کر لیا جن کے قبضے سے پیزا ڈیلیوری بوائے سے چھینی گئی ایک عدد موٹر سائیکل سمیت 3 عددموٹر سائیکلیں ،ایک عدد ٹی ٹی پستول 30بور اور ایک موبائل برآمد کر لیاگیا ہے، ملزمان کے خلاف زرغون آباد تھانے میں مقدمہ درج کر کے مزید تفتیش شروع کر دی گئی، اسی طرح ایس ایچ او صدر اور عملے نے کلی اسماعیل میں ایک گھر سے 3عدد موٹر سائیکلیں اور متعدد موٹر سائیکلوں کے پرزے برآمد کر کے ایک ملزم کو گرفتار کر لیا ہے جبکہ 2ملزمان فرار ہو گئے اس سلسلے میں مزید کارروائی جاری ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
کراچی سے دوسرے شہروں میں جانے کے لیے شہر میں جگہ جگہ قائم بس اڈے دو سال پہلے ختم کرکے شہر سے باہر منتقل کر دیے گئے تھے، شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
حکومت نے مسافروں کی سہولت کے لیے مفت شٹل سروس شروع کی تھی تاکہ مختلف مقامات سے مسافروں کو کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے، مگر یہ شٹل سروس اب ٹرمینل تک محدود نہیں رہی بلکہ روٹ پرمٹ کے بغیر کمرشل بنیادوں پر کراچی سے حیدرآباد تک بھی چلائی جا رہی ہے۔
محکمہ ٹرانسپورٹ سندھ نے اگست 2024 میں آپریشن کرتے ہوئے شہر کے مختلف انٹر سٹی بس اڈے ختم کیے اور بڑی کوچز کے شہر میں داخلے پر پابندی عائد کی تھی۔
مسافروں کی سہولت کے لیے وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے مفت شٹل سروس شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا تھا کہ تقریباً 50 شٹل گاڑیاں چلائی جا رہی ہیں تاکہ مسافروں کو مختلف مقامات سے کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے۔ لیکن شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
ادھر ٹرانسپورٹرز اپنی سواریاں مختلف ذرائع سے کراچی بس ٹرمینل تک پہنچا رہے ہیں، جس کے اضافی اخراجات بھی انہیں خود برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔
محکمہ ٹرانسپورٹ کا بتانا ہے کہ اس روٹ کے لیے شٹل سروس کے پاس کوئی روٹ پرمٹ موجود نہیں۔
جیو نیوز نے اس حوالے سے کراچی بس ٹرمینل انتظامیہ سے مؤقف لینے کی کوشش کی، مگر ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔