کوئٹہ: پولیس کی مختلف کا رروائیاں، 3موٹر سائیکل سنیچرز سمیت 4 ملزمان گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 22nd, January 2025 GMT
کوئٹہ (نمائندہ جسارت) پولیس نے 2مختلف کا رروائیوں میں 3موٹر سائیکل سنیچرزسمیت4ملزمان کو گرفتار کرکے 6موٹر سائیکلیں، موٹر سائیکلوں کے پرزے اور اسلحہ بر آمدکرلیا۔ پولیس کے مطابق گزشتہ دنوں پولیس نے کارروائی میں 3موٹرسائیکل سنیچرز محمد اعظم،محمد طلحہ اور احسان اللہ کو گرفتار کر لیا جن کے قبضے سے پیزا ڈیلیوری بوائے سے چھینی گئی ایک عدد موٹر سائیکل سمیت 3 عددموٹر سائیکلیں ،ایک عدد ٹی ٹی پستول 30بور اور ایک موبائل برآمد کر لیاگیا ہے، ملزمان کے خلاف زرغون آباد تھانے میں مقدمہ درج کر کے مزید تفتیش شروع کر دی گئی، اسی طرح ایس ایچ او صدر اور عملے نے کلی اسماعیل میں ایک گھر سے 3عدد موٹر سائیکلیں اور متعدد موٹر سائیکلوں کے پرزے برآمد کر کے ایک ملزم کو گرفتار کر لیا ہے جبکہ 2ملزمان فرار ہو گئے اس سلسلے میں مزید کارروائی جاری ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔
تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔
گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔