مرغی کے گوشت کی قیمت میں بڑا اضافہ، انڈوں کی تازہ قیمت جانیں
اشاعت کی تاریخ: 22nd, January 2025 GMT
لاہور اور فیصل آباد میں میں مرغی کے گوشت کی قیمت میں اضافہ ہو گیا ہے، ملتان میں انڈے مزید سستے ہو گئے۔
لاہور میں گزشتہ روز 7 روپے کی کمی ہوئی تھی آج پھر سات روپے کا اضافہ ہوگیا ہے جس کے مرغی کے گوشت کی قیمت 595 روپے کلو ہو گئی ہے۔لاہور میں زندہ برائلرمرغی کی قیمت میں پانچ روپے کا اضافہ ہوا ہے جس کے بعد تھوک ریٹ 397 اور پرچون ریٹ 411 روپے فی کلو ہوگیا ہے، انڈوں کی فی درجن قیمت 239 روپے کی سطح پربرقرار ہے۔
ملتان میں زندہ برائلر کا تھوک ریٹ 392 روپے فی کلو کی سطح پر برقرار ہے اسی طرح پرچون ریٹ کی قیمت میں بھی کوئی تبدیلی نہیں ہوئی، پرچون ریٹ 406 روپے کلو ہے، ملتان میں انڈے تین روپے سستے ہوئے، انڈے 331 سے 228 روپے درجن کی سطح پر آ گئے ہیں۔فیصل آباد میں زندہ برائلر مرغی کی قیمت میں 12 روپے کا اضافہ ہوا ہے جس کے بعد برائلر کا تھوک ریٹ 386 روپے کلو جبکہ پرچون ریٹ 400 روپے کلو ہو گیا ہے، برائلر گوشت کی قیمت میں 18 روپے کا بڑا اضافہ ہوا ہے جس کے بعد گوشت 580 روپے کلو ہو گیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: گوشت کی قیمت کی قیمت میں پرچون ریٹ اضافہ ہو روپے کلو ہے جس کے روپے کا کلو ہو
پڑھیں:
پائیڈ کی کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی سفارش
پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس (Pakistan Institute of Development Economics) نے آئندہ مالی سال 2026-27 کے لیے ملک میں کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی سفارش کر دی ہے، جسے موجودہ معاشی حالات اور بڑھتی ہوئی مہنگائی کے تناظر میں ایک اہم پالیسی تجویز قرار دیا جا رہا ہے۔
پائیڈ کی جانب سے جاری کردہ شواہد پر مبنی فریم ورک کے مطابق کم از کم اجرت میں اضافہ صرف ایک انتظامی فیصلہ نہیں بلکہ ایک وسیع معاشی اور سماجی ضرورت ہے، جو گھریلو سطح پر قوتِ خرید، غربت میں کمی، غیر رسمی روزگار کے رجحانات اور مجموعی معاشی استحکام پر براہ راست اثر انداز ہوتی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر مالی سال 2026-27 کے لیے کم از کم اجرت 45 ہزار روپے ماہانہ مقرر کی جاتی ہے تو یہ موجودہ 40 ہزار روپے کی سطح کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافہ ہوگا۔ اس اضافے کو محنت کش طبقے کی مالی مشکلات میں کمی اور ان کی معاشی استعداد بہتر بنانے کی ایک کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
پائیڈ کی رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ کم از کم اجرت کی پالیسی کو محض لیبر ڈپارٹمنٹ تک محدود نہیں رکھا جا سکتا، کیونکہ اس کا تعلق براہ راست عام شہریوں کی روزمرہ زندگی، مہنگائی کے دباؤ اور مقامی مارکیٹ کی طلب سے جڑا ہوا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اجرت میں مناسب اضافہ نہ صرف مزدور طبقے کے معیارِ زندگی کو بہتر بنا سکتا ہے بلکہ پیداواری عمل میں بھی مثبت اثر ڈال سکتا ہے۔
مزیدپڑھیں:حکومت کا ریئل اسٹیٹ پیکیج تیار، فروخت پر ٹیکس 4.5 فیصد سے 1.5 فیصد تک لانے کی تجویز
اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2026 کے جولائی سے اپریل تک اوسط مہنگائی کی شرح تقریباً 6.19 فیصد رہی، تاہم اپریل 2026 میں سالانہ بنیاد پر مہنگائی بڑھ کر 10.9 فیصد تک پہنچ گئی، جس نے عام شہریوں کی قوتِ خرید کو مزید متاثر کیا۔
موجودہ معاشی صورتحال میں اجرتوں میں اضافہ ایک متوازن پالیسی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، تاہم اس کے ساتھ ساتھ کاروباری لاگت اور روزگار کے مواقع پر بھی اس کے ممکنہ اثرات کا جائزہ لینا ضروری ہوگا۔
پائیڈ کی سفارش کے بعد اب یہ معاملہ حکومتی سطح پر غور کے لیے پیش کیا جائے گا، جہاں حتمی فیصلہ بجٹ پالیسی کا حصہ بنایا جا سکتا ہے۔