ملک میں کُل ووٹرز کتنے؟ الیکشن کمیشن نے تفصیلات جاری کر دیں
اشاعت کی تاریخ: 23rd, January 2025 GMT
—فائل فوٹو
الیکشن کمیشن آف پاکستان نے ملک میں ووٹرز کی تفصیلات جاری کر دیں۔
ملک میں ووٹرز کی تعداد 13 کروڑ 26 لاکھ 68 ہزار 515 ہو گئی ہے، جن میں مرد ووٹرز کی تعداد 7 کروڑ 12 لاکھ 75 ہزار 222 اور خواتین ووٹرز کی تعداد 6 کروڑ 13 لاکھ 93 ہزار 293 ہے۔
الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ ملک میں مرد ووٹرز کی شرح 53.
پاکستان میں انتخابی میلہ سجنے میں اب بس کچھ دن باقی رہ گئے ہیں۔ 8 فروری کو تمام پاکستانی اپنا ووٹ کاسٹ کرکے، اپنی حق رائے دہی استعمال کرتے ہوئے اپنا منتخب نمائندہ قومی اسمبلی میں بھیجنے کےلیے پُرعزم ہیں۔
الیکشن کمیشن کے مطابق اسلام آباد میں ووٹرز کی تعداد 11 لاکھ 70 ہزار 744 ہے، جن میں مرد ووٹرز 6 لاکھ 13ہزار 118 اور خواتین ووٹرز 5 لاکھ57 ہزار 626 ہیں۔
بلوچستان میں ووٹرز کی تعداد 55 لاکھ 37 ہزار 699 ہے، صوبے میں مرد ووٹرز 31 لاکھ 1 ہزار 640 اور خواتین ووٹرز 24 لاکھ 36 ہزار 59 ہیں
خیبر پختون خوا میں ووٹرز کی تعداد 2 کروڑ 25 لاکھ 89 ہزار 371 ہے، جن میں مرد ووٹرز 1 کروڑ 22 لاکھ 84 ہزار 853 اور خواتین ووٹرز 1 کروڑ 3 لاکھ 4 ہزار 518 ہیں۔
پنجاب میں ووٹرز کی تعداد 7 کروڑ 55 لاکھ 45 ہزار 995 ہے، جن میں مرد ووٹرز 4 کروڑ 24 لاکھ11 ہزار 112 اور خواتین ووٹرز 3 کروڑ 53 لاکھ 4 ہزار 883 ہیں۔
اس کے علاوہ سندھ میں ووٹرز کی تعداد 2 کروڑ 78 لاکھ 24 ہزار 706 ہے، صوبے میں مرد ووٹرز 1 کروڑ 50 لاکھ 34 ہزار 499 اور خواتین ووٹرز 1 کروڑ 27 لاکھ 90 ہزار 207 ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: میں ووٹرز کی تعداد جن میں مرد ووٹرز الیکشن کمیشن ملک میں
پڑھیں:
حکومت کا چینی شہریوں کیلئے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
حکومتِ پاکستان نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید مؤثر بنانے کے لیے تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کر لیا۔سرکاری دستاویزات کے مطابق 95.049 ملین روپے مالیت کی یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکرٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود، ماہرین اور دیگر اہم شخصیات کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کا کہنا ہے کہ چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ترجیح ہے، اسی مقصد کے تحت نئی بلٹ پروف گاڑی خریدی جا رہی ہے۔دستاویزات کے مطابق یہ گاڑی پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم دو ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنہیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی سکیورٹی کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا جن کی خریداری کا عمل جاری ہے۔سی پیک سیکرٹریٹ نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث بروقت بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی صورتحال پیدا ہو جاتی ہے۔دستاویزات میں کہا گیا ہے کہ نجی مارکیٹ سے بلٹ پروف گاڑیاں کرائے پر حاصل کرنا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی مالی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔حکومت کو تین ٹویوٹا ڈیلرز کی جانب سے قیمتیں موصول ہوئیں، جن میں ٹویوٹا سینٹرل موٹرز نے 95.049 ملین روپے، ٹویوٹا پورٹ قاسم نے 95.25 ملین روپے اور ٹویوٹا سوسائٹی نے 95.45 ملین روپے کی پیشکش کی، حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔دستاویزات کے مطابق سی پیک سیکرٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ فنڈز دستیاب نہیں تھے، جس کے بعد وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا، تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث خریداری کا آرڈر جاری نہیں ہو سکا۔وزارت نے فنڈز کی فراہمی کے لیے مختلف منصوبوں سے رقم مختص کی، جن میں سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے ایک کروڑ 88 لاکھ روپے، وفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے، مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے ایک کروڑ 10 لاکھ روپے اور پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے ایک کروڑ 60 لاکھ روپے شامل ہیں، ان فنڈز میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص کیے گئے تھے۔