ژوب: سیکیورٹی فورسز نے افغانستان سے دراندازی کی کوشش ناکام بنادی، 6 خوارج ہلاک
اشاعت کی تاریخ: 23rd, January 2025 GMT
فوٹو: فائل
سیکیورٹی فورسز نے پاک افغان سرحد پر افغانستان کی جانب سے خوارج کے گروپ کی دراندازی کی کوشش ناکام بناتے ہوئے 6 خوارج کو ہلاک کردیا۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق پاک افغان سرحد پر 22 اور 23 جنوری کی درمیانی شب خوارج کے ایک گروپ کی نقل و حرکت دیکھی گئی۔
آئی ایس پی آر نے بتایا کہ خوارج کے گروپ نے پاک افغان سرحد پر ژوب کے علاقے سمبازہ سے دراندازی کی کوشش کی جو سیکیورٹی فورسز نے ناکام بنادی۔
آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ افغان حکومت سے بار بار کہا جا چکا ہے کہ اپنے علاقوں سے پاکستان میں دراندازی روکے۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق اس کارروائی کے دوران 6 خوارج ہلاک ہوگئے جن کے قبضے سے بھاری مقدار میں اسلحہ، گولہ بارود اور دھماکاخیز مواد برآمد ہوا ہے۔
آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ پاکستان مسلسل افغان حکومت سے سرحد پر موثر بارڈر مینجمنٹ یقینی بنانے کےلیے کہہ رہا ہے، توقع ہے کہ عبوری افغان حکومت اپنی ذمہ داریاں پوری کرے گی۔
اسکا یہ بھی کہنا ہے کہ سیکیورٹی فورسز سرحدوں کو محفوظ بنانے اور ملک سے دہشتگردی کی لعنت ختم کرنے کےلیے پُرعزم ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: سیکیورٹی فورسز نے دراندازی کی کوشش ا ئی ایس پی ا ا ہے کہ
پڑھیں:
نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائیگا۔ اسلام ٹائمز۔ بھارت میں برسراقتدار مخلوط حکومت کی اتحادی جماعت بی جے پی کے لیڈر اور راجیہ سبھا کے رکنِ پارلیمان انجینیئر غلام علی کھٹانہ نے الزام عائد کیا کہ جموں و کشمیر میں نیشنل کانفرنس کی قیادت والی حکومت عوامی مسائل کے حل میں ہر محاذ پر ناکام ثابت ہوئی ہے، جس کے باعث عوام میں بے چینی اور ناراضگی بڑھ رہی ہے۔ ضلع رامبن کے سب ڈویژن بنیہال میں منعقدہ ایک عوامی دربار سے خطاب کرتے ہوئے جس میں مقامی باشندوں اور سرکاری افسران نے شرکت کی، غلام علی کھٹانہ نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران تعلیم، صحت، پینے کے صاف پانی اور بجلی کے شعبوں کی حالت مزید خراب ہوئی ہے۔ انہوں نے وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت پر عوام سے دور ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے زیادہ جوابدہی کا مطالبہ کیا۔
بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائے گا۔ انہوں نے مرکز کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر کی انتظامیہ کی کارکردگی پر وائٹ پیپر جاری کرنے کا مطالبہ بھی کیا اور گوجر-بکروال برادریوں اور بے گھر کشمیری پنڈتوں کے لئے مزید حفاظتی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔ عوامی ملاقات کے دوران مختلف عوامی مسائل اور ترقیاتی امور پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا، جس میں مقامی حکام، بی جے پی رہنماؤں اور علاقے کے باشندوں نے شرکت کی۔