ڈیجیٹل نیشن بل پاکستان کی ضرورت
اشاعت کی تاریخ: 24th, January 2025 GMT
ڈیجیٹل نیشن پاکستان بل 2024 قومی اسمبلی کی آئی ٹی اور ٹیلی کام اسٹینڈنگ کمیٹی کے ذریعے پارلمینٹ سے منظور کرلیا گیا ہے۔ یہ بل پاکستان کی تاریخی قانون سازی کا عکاس ہے جس کا مقصد ملک کو ڈیجیٹلی طور پر ایک با اختیار قوم میں تبدیل کرنا ہے۔ یہ بل جو گزشتہ روز حال ہی میں قومی اسمبلی کی آئی ٹی اور ٹیلی کام اسٹینڈنگ کمیٹی کے ذریعے منظور کیا گیا، شہریوں کی حکومت کی خدمات کے ساتھ تعامل، معلومات تک رسائی، اور روزمرہ کے لین دین کے طریقوں میں بہتری لانے کے لیے مفید ثابت ہوگا۔
جو شہریوں کے لیے ڈیجیٹل شناخت تخلیق کرنے کی تجویز پیش کرتا ہے، جس میں صحت، اثاثوں، اور دیگر سماجی اشاریوں کے بارے میں معلومات شامل ہوں گی، اور شہریوں کو موبائل فون کے ذریعے حکومت کی خدمات تک رسائی کی اجازت دے گا۔ جس سے بیوروکریٹک تاخیر میں کمی اور کارکردگی میں اضافہ ہوگا۔ یہ بل ڈیٹا کی غیر مرکزی نوعیت کو بھی یقینی بناتا ہے، جو ڈیٹا کی مرکزی نوعیت اور پرائیویسی کی خلاف ورزیوں کے بارے میں خدشات کو دور کرتا ہے، اور سائبر سیکیورٹی میں سرمایہ کاری کو پاکستان کے ڈیجیٹل ماسٹر پلان کے ساتھ ہم آہنگ کرتا ہے تاکہ ڈیجیٹل سیکیورٹی کو بڑھایا جاسکے۔
یہ بل پاکستان میں ڈیجیٹل تبدیلی کی بڑھتی ہوئی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے متعارف کرایا گیا ہے جو ملک کی تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی میں اضافہ، شہر کاری، اور ڈیجیٹل خدمات کی بڑھتی ہوئی طلب سے متاثر ہوا ہے۔ پی ٹی آئی کے ارکان کی جانب سے ممکنہ ڈیٹا مرکزی نوعیت اور پرائیویسی کی خلاف ورزیوں کے بارے میں خدشات ظاہر کیے گئے ہیں۔
یہ بل اپنی اقتصادی فوائد، بہتر حکومت، اور عالمی مسابقت میں اضافے کی صلاحیت کی وجہ سے پارلیمنٹ کی طرف سے منظور کیا گیا ہے۔ یہ قانون سازی پاکستان کی معیشت کو کارکردگی میں اضافہ کرنے، بدعنوانی میں کمی لانے، اور غیر ملکی سرمایہ کاری کو متوجہ کرنے کے ذریعے بڑھانے کی توقع رکھتی ہے، جبکہ شفافیت، جوابدہی، اور شہری شرکت میں اضافہ کرکے حکومتی نظام کو بھی بہتر کرے گی۔
تاہم، یہ بل ڈیٹا کی پرائیویسی، سیکیورٹی اور نفاذ کے چیلنجز کے بارے میں اہم خدشات بھی اٹھاتا ہے۔ اپوزیشن کے ارکان نے ڈیٹا کے غلط استعمال اور ناکافی حفاظتی اقدامات کے خطرات کے بارے میں خدشات کا اظہار کیا، جبکہ بل کی ٹیکنالوجی پر انحصار موجودہ ڈیجیٹل تقسیم اور عدم مساوات کو بڑھا سکتا ہے۔
ان خدشات کا حل نکالنا بل کے کامیاب نفاذ اور اس کے ممکنہ فوائد کے حصول کے لیے اہم ہوگا۔ مجموعی طور پر، ڈیجیٹل نیشن پاکستان بل 2024 پاکستان کو ڈیجیٹلی با اختیار قوم میں تبدیل کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے، لیکن اس کی کامیابی محتاط نفاذ اور تمام اسٹیک ہولڈرز کے خدشات کو دور کرنے پر منحصر ہوگی۔
، حالانکہ پی ٹی آئی کے ارکان، بشمول عمر ایوب خان، عمیر نیازی، اور بیرسٹر گوہر کی جانب سے سخت مخالفت کی گئی۔ انہوں نے ممکنہ ڈیٹا مرکزی اور پرائیویسی کی خلاف ورزیوں پر خدشات کا اظہار کیا جس پر وزیر مملکت برائے آئی ٹی، شزا فاطمہ خواجہ نے بل کی حمایت کی اور اس کے ہدف کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ یہ حکومت کی خدمات تک ڈیجیٹل شناخت کے رسائی کو آسان بنائے گا جبکہ ڈیٹا کی غیر مرکزی نوعیت کو یقینی بنائے گا۔
انہوں نے یقین دلایا کہ سائبر سیکیورٹی میں سرمایہ کاری پاکستان کے ڈیجیٹل ماسٹر پلان کے مطابق ہے تاکہ ڈیجیٹل سیکیورٹی کو بڑھایا جاسکے۔ تاہم، ان کی یقین دہانیوں کے باوجود پی ٹی آئی کے ارکان قائل نہ ہوئے اور انہوں نے ڈیٹا کے غلط استعمال اور ناکافی حفاظتی اقدامات کے خطرات کا حوالہ دیا اور واک آؤٹ کرگئے۔ انہوں نے مزید ترمیمات کی درخواست کی لیکن ان کے اعتراضات کو رد کر دیا گیا جس کی وجہ سے بل آگے بڑھنے کی اجازت ملی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
نیو یارک امریکا میں مقیم بطور ڈیٹا سائنٹسٹ کام کرنے والی شخصیت ڈاکٹر من تشاء چیمہ نے میساچیوسٹس انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی سے آرٹیفیشیل انٹیلیجنس میں ڈاکٹریٹ کی ہے۔ وہ پہلی پاکستانی ینگیسٹ پی ایچ ڈی اسکالر ہیں جن کا نام پاکستانی 65 سائنسدان، انجینئرز ، ڈاکٹرز اور اسکالر خواتین کی فہرست میں شامل ہے۔ وہ بطور ریسرچ پروفیسر ہارورڈ یونیورسٹی سے بھی منسلک رہ چکی ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: مرکزی نوعیت کے بارے میں میں اضافہ کے ذریعے کے ارکان انہوں نے ڈیٹا کی کے لیے
پڑھیں:
5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے 3 سال مکمل ہونے پر پارٹی 5 اگست کو احتجاجی پروگرام پر غور کر رہی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مرکزی قیادت کے اندر ابھی تک مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے باعث حتمی احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: 5 اگست کے احتجاج پر پی ٹی آئی کی واضح حکمت عملی اب تک سامنے نہ آسکی
پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور کارکنوں کو جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ عمران خان کی قید کے خلاف مؤثر پیغام دیا جا سکے۔
دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض سینیئر رہنما، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی شامل ہیں، لاہور میں احتجاج یا کسی متبادل پروگرام کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔
بڑی احتجاجی کال پر تحفظاتپارٹی ذرائع کے مطابق متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ مہنگائی، مقدمات کے خدشات اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام پہلے جیسی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔
ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ ہر رکن اپنے اپنے حلقے میں علامتی یا ٹوکن احتجاج کرے اور عوام کو یہ پیغام دے کہ عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔
مزید پڑھیے: اڈیالہ جیل کے باہر ہنگامہ آرائی، پی ٹی آئی میں انتشار کھل کر سامنے آگیا، جماعت کے سیاسی کلچر پر سنگین سوالات
پارٹی کے ایک حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ 5 اگست کو کسی بڑے احتجاجی پروگرام سے گریز کیا جائے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کو مزید گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ احتجاج، ریلی، جلسہ یا کسی اور شکل میں ہوگا۔ علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی تجویز پر بھی پارٹی کے بیشتر رہنما متفق نہیں جبکہ متعدد رہنما محدود یا علامتی احتجاج کے حق میں ہیں۔
9 مئی کے بعد بڑا احتجاج منظم نہ ہو سکاپارٹی ذرائع کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر کوئی کامیاب احتجاجی تحریک منظم نہیں کر سکی۔
26 نومبر کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تاہم یہ احتجاج کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔
مزید پڑھیں: پی ٹی آئی کا علیمہ خان اور بشریٰ بی بی کو ایکسپوز کرنے کا فیصلہ، اقبال آفریدی سے عہدہ واپس
اس احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں جس کے بعد پارٹی کسی بڑے احتجاجی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکی۔ اس دوران مختلف مواقع پر ریلیاں اور مظاہرے بھی کیے گئے تاہم حکومتی اقدامات اور دیگر عوامل کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔
عمران خان کی قید کو 3 سال مکملعمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے جنہیں پاکستان تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔
پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کے مسائل، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔
5 اگست کی روایت برقرار رہے گی؟گزشتہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیوں اور پرامن مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کے بڑھتے اندرونی اختلافات سے پشاور کے عوام پریشان
ذرائع کے مطابق اس سال بھی ضلعی سطح پر مشاورت اور تیاریاں جاری ہیں تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اڈیالہ جیل بشریٰ بی بی پاکستان تحریک انصاف پی ٹی آئی پی ٹی آئی کا 5 اگست کو احتجاج علی امین گنڈاپور عمران خان کے قید میں 3 برس