پاکستان ، ورلڈ بینک میں پارٹنرشپ ایگریمنٹ معیشت کیلئے خوشخبری ہے ،عاطف اکرام شیخ
اشاعت کی تاریخ: 25th, January 2025 GMT
اسلام آباد (نیوز ڈیسک)صدر ایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ نے کہا ہے کہ پاکستان ، ورلڈ بینک میں 20ارب ڈالر کا پارٹنرشپ ایگریمنٹ معیشت کیلئے بڑی خوشخبری ہے ،پاکستان کو یہ رقم بنیادی ڈھانچے کی تعمیر،تعلیم و صحت جیسے منصوبوں پر خرچ کرنیکی ضرورت ہے ۔ پاکستان اور ورلڈ بینک میں پارٹنر شپ ایگریمنٹ پر اپنے بیان میں عاطف اکرام شیخ نے کہا کہ آئی ایم ایف سمیت عالمی اداروں کے قرض سے جان چھڑانے کیلئے معاشی استحکام ناگزیر ہے ،قرضوں سے جان چھڑانے کیلئے طویل المدتی معاشی پالیسیوں پر سختی سے کاربند رہنا ہوگا ۔ صدر ایف پی سی سی آئی نے کہا کہ بزنس کمیونٹی پالیسیوں کی تشکیل ، معاشی استحکام کیلئے حکومت کیساتھ مکمل تعاون کو تیار ہے ، انڈسٹریز کی بحالی،توانائی شعبے میں اصلاحا ت اور شرح سود میں مزید کمی ناگزیر ہے ،حکومت ملک میں لارج، میڈیم اور سمال سکیل مینوفیکچرنگ پر خصوصی توجہ مرکوز کرے۔انہوں نے کہا کہ مقامی سطح پر پروڈکشن بڑھانا اور عالمی مارکیٹ میں نئے گاہک تلاش کرنا وقت کی ضرورت ہے،قرضوں سے نجات کیلئے انڈسٹریلائزیشن اور گرین انقلاب جیسے انیشیٹوز کی طرف جانا ہو گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: نے کہا
پڑھیں:
اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ، مرکزی بینک کے ذخائر 17.25 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر میں گزشتہ ہفتے کے دوران اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے بعد مرکزی بینک کے پاس موجود غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 17 ارب 25 کروڑ 86 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئے ہیں۔ ماہرین نے اس پیش رفت کو ملکی مالیاتی استحکام اور بیرونی ادائیگیوں کی صلاحیت کے لیے مثبت اشارہ قرار دیا ہے۔
اسٹیٹ بینک کے ترجمان کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق 18 جولائی کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران مرکزی بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کا اضافہ ہوا۔ ترجمان کے مطابق یہ اضافہ بیرونی ادائیگیوں کے مؤثر انتظام اور مالیاتی استحکام کے تناظر میں اہم پیش رفت ہے۔
اگرچہ اسٹیٹ بینک کے ذخائر میں اضافہ ہوا، تاہم ملک کے مجموعی زرمبادلہ ذخائر معمولی کمی کے بعد 22 ارب 66 کروڑ 96 لاکھ ڈالر کی سطح پر آ گئے ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق کمرشل بینکوں کے پاس موجود غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 5 ارب 41 کروڑ 10 لاکھ ڈالر ریکارڈ کیے گئے، جس کے باعث مجموعی ذخائر میں معمولی کمی دیکھنے میں آئی۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اسٹیٹ بینک کے ذخائر میں مسلسل اضافہ اس بات کی علامت ہے کہ پاکستان کی بیرونی ادائیگیوں کی صلاحیت بہتر ہو رہی ہے، جبکہ درآمدی بل کی ادائیگی اور روپے کے استحکام کے لیے بھی یہ مثبت پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔
تاہم ماہرین نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ مجموعی زرمبادلہ ذخائر میں کمی ظاہر کرتی ہے کہ کمرشل بینکوں کے ذخائر میں اتار چڑھاؤ کا سلسلہ برقرار ہے، جس پر مسلسل نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔
اقتصادی ماہرین کے مطابق اگر آنے والے ہفتوں میں ترسیلاتِ زر، بیرونی سرمایہ کاری، برآمدات اور بین الاقوامی مالی معاونت کا سلسلہ برقرار رہا تو پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر میں مزید بہتری آنے کا امکان ہے، جس سے ملکی معیشت اور مالیاتی استحکام کو مزید تقویت مل سکتی ہے۔