محمود خان اچکزئی نے چترال سے بولان تک صوبہ پشتونستان کا مطالبہ کردیا
اشاعت کی تاریخ: 26th, January 2025 GMT
پشتونخواہ میپ کے سربراہ محمود اچکزئی نے کہا ہے کہ پاکستان کے حکمران نہ آئین کا سوچتے ہیں نہ انہیں عوام کی پروا ہے اور نہ ہی انہیں اسلامی روایات کا خیال کیا جاتا ہے۔
وہ کوئٹہ میں پشتون قومی جرگے سے خطاب کر رہے تھے۔ محمود اچکزئی کا کہنا تھا کہ یہ ملک نہ ہی اسلامی ہے اور نہ ہی جمہوری۔
پشتونخواہ میپ کے سربراہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ آج پاکستان میں تمام اقوام کے صوبے ہیں لیکن پشتونوں کو مختلف خطوں میں بانٹا گیا۔
محمود اچکزئی کا کہنا تھا کہ ہمارا مطالبہ ہے کہ چترال سے بولان تک پشتونستان صوبہ بنایا جائے۔ ہم یہ صوبہ ہر صورت لیں گے۔
انہوں نے کہا کہ ہم مطالبات کے لیے لڑ سکتے ہیں لیکن لڑیں گے نہیں۔ ہمارے اکابرین نے اس ملک کے شہری کے طور پر حقوق کا مطالبہ کیا۔
محمود اچکزئی نے کہا کہ کسی حکومت میں آئین کی خلاف ورزی کی گئی تو ہم اسے نہیں مانیں گے۔
انہوں نے کہ پاکستان سے نکالے جانے والے مہاجرین کو افغانستان قبول نہیں کرتا۔اگر مہاجرین کے پاکستان میں پیدا ہونے والے بچوں کو پاکستان اور افغانستان قبول نہیں کریں تو وہ کہاں جائیں۔
انہوں نے کہا اگر ایسا رہا تو ہم مجبور ہوں گے کہ ہم اقوام متحدہ کے پاس جائیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: محمود اچکزئی نے کہا
پڑھیں:
تیزگام ایکسپریس کی پاور وین میں آگ لگ گئی
ویب ڈیسک:کراچی سے راولپنڈی جانے والی تیزگام ایکسپریس کی پاور وین میں آگ لگ گئی، ریسکیو نے موقع پر پہنچ کر آگ پر قابو پایا۔
چیئرمین ریلوے نے واقعے کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل دے دی جو 7 روز میں رپورٹ پیش کرے گی۔
ترجمان ریلوے کے مطابق کراچی سے راولپنڈی جانے والی تیزگام ایکسپریس کی پاور وین میں خانیوال کے قریب اچانک آگ لگ گئی جس پر پاور وین کو ٹرین سے الگ کردیا گیا۔
پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل
آگ نے دیکھتے دیکھتے پوری پاور وین کو لپیٹ میں لے لیا، اطلاع ملنے پر ریسکیو اہلکاروں نے موقع پر پہنچ کر آگ پر قابو پایا جس کے بعد ٹرین کو راولپنڈی روانہ کردیا گیا۔
چیئرمین ریلویز نے پاور وین میں آگ لگنے کی تحقیقات کے لیے تین رکنی کمیٹی تشکیل دے دی ہے جو سات روز میں رپورٹ پیش کرے گی۔