میٹنگ میٹنگ نہیں کھیلیں گے واضح اقدامات چاہتے ہیں، اسد قیصر
اشاعت کی تاریخ: 26th, January 2025 GMT
اسلام آباد:تحریک انصاف ( پی ٹی آئی ) رہنما اسد قیصر کاکہنا ہے کہ میٹنگ میٹنگ نہیں کھیلیں گے واضح اقدامات چاہتے ہیں،ہم نے جوڈیشل کمیشن کے مطالبے میں کہیں نہیں کہا ہمارے نامزد ججز لگائیں،ہم نے تو مطالبہ کیا کہ ایسے ججزہونے چاہئیں جن پر کسی کو اعتراض نہ ہو۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے رہنما پی ٹی آئی نے کہاکہ ہم نے کسی ممبر کی عدالت کے بغیر رہائی کا مطالبہ نہیں کیا، واضح مطالبہ ہے کہ عدلیہ پر جو دباؤہے اسے فوری طور پر ختم کریں، ہم تو شروع سے کہتے ہیں عدالتوں کے ذریعے باہر آئیں گے۔
انہوں نے مزید کہاکہ 26ویں ترمیم کے ذریعے عدلیہ پر قدغن لگائی گئی اب میڈیا کو مفلوج کیا جارہا ہے، عوام سے کہوں گا یہ وقت باہر نکلنے کا ہے اور اپنا حق حاصل کرنا ہے،مذاکراتی کمیٹی کے ممبر حامد رضا کے گھر اور مدرسے پر چھاپے مار رہے ہیں۔
اسد قیصر کا کہنا تھا کہ مولانا فضل الرحمن سے بھی کل ملاقات ہوگی، فضل الرحمان، محمود اچکزئی سمیت تمام اپوزیشن رہنماں کو اعتماد میں لیں گے، محمود اچکزئی اختر مینگل کیساتھ بات کریں گے، آئین پر تمام سیاسی جماعتوں کو متحد کریں گے اور آگے بڑھیں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
پٹرولیم قیمتوں کے روزانہ تعین پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع
توجہ دلاؤ نوٹس میں جے یو آئی کے سینیٹر نے حکومت سے مجوزہ پالیسی کی وجوہات، اس کے نفاذ کے طریقہ کار اور صارفین کو قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ سے تحفظ دینے کے لئے کئے جانے والے اقدامات کی تفصیلات طلب کی ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ سینیٹر کامران مرتضیٰ نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے 15 روزہ نظام کے بجائے روزانہ تعین کے مجوزہ فیصلے پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع کرا دیا۔ توجہ دلاؤ نوٹس میں وفاقی حکومت سے مجوزہ پالیسی پر وضاحت طلب کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ روزانہ قیمتوں کے تعین سے مہنگائی، ٹرانسپورٹ اخراجات اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔ نوٹس کے متن کے مطابق مجوزہ نظام کے کاروباری سرگرمیوں اور عوامی زندگی کے اخراجات پر ممکنہ اثرات سے متعلق بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔
سینیٹر کامران مرتضیٰ نے حکومت سے مجوزہ پالیسی کی وجوہات، اس کے نفاذ کے طریقہ کار اور صارفین کو قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ سے تحفظ دینے کے لئے کئے جانے والے اقدامات کی تفصیلات طلب کی ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ عوام کو ممکنہ منفی اثرات سے بچانے کے لیے اختیار کیے جانے والے حفاظتی اقدامات سے بھی سینیٹ کو آگاہ کیا جائے۔