سینٹ اجلاس میں پی ٹی آئی کا اجتجاج ، کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کی قرادادمتفقہ منظور
اشاعت کی تاریخ: 28th, January 2025 GMT
اسلام آباد (نوائے وقت رپورٹ+خبر نگار) ایوان بالا (سینٹ) کے اجلاس کے دوران سینیٹر علی ظفر کو بات کرنے سے روکنے کے خلاف پاکستان تحریک انصاف کے ارکان نے ایوان میں شدید احتجاج کیا۔ سینٹ اجلاس کا آغاز ڈپٹی چیئرمین سیدال خان ناصر کی صدارت میں ہوا۔ کارروائی کے آغاز پر سینیٹر دنیش کمار، سینیٹر کامران مرتضی اور رانا محمود الحسن کی جانب سے نیپون ادارہ برائے جدید علوم کے قیام کا بل ایوان میں پیش کیا گیا، بل کو متعلقہ کمیٹی کے حوالے کردیا گیا۔ اس دوران پی ٹی آئی کے سینیٹر علی ظفر کی جانب سے پوائنٹ آف آرڈر پر بولنے کی کوشش کی گئی۔ ڈپٹی چئیرمین سینٹ نے سینیٹر علی ظفر کو بات کرنے سے روک دیا۔ اس پر پی ٹی آئی کی جانب سے ایوان میں احتجاج کیا گیا۔ پی ٹی آئی ارکان نے ڈیسک بجانا شروع کردیے اور ایوان مچھلی منڈی کا منظر پیش کرنے لگا۔ اس کے بعد پی ٹی آئی ارکان نے ایوان سے واک آوٹ کیا۔ اس دوران پیکا ایکٹ کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے صحافیوں نے بھی سینٹ کی پریس گیلری سے واک آوٹ کیا۔ اجلاس میں سینیٹر بلال احمد نے کہا کہ بلوچستان کا ضلع نصیر آباد پانی سے محروم ہے۔ اتحادی ہونے کے باجود ہمیں پانی کے معاملے پر تحفظات ہیں۔ چولستان کو قابل کاشت بنانے کے لیے سندھ اور پنجاب کو بنجر کرنا چاہتے ہیں۔ نئے کینال کو کالا باغ ڈیم کا مسئلہ نہ بنایا جائے۔ وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے سینٹ میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے چار صوبے چار بھائیوں کی طرح ہیں، مل بیٹھ کر یہ معاملہ حل ہوگا۔ ڈپٹی چیئرمین سینٹ نے کہا کہ کوئی بھی قومی معاملہ ہوگا مفاہمت سے حل ہوگا، وزیر قانون نے اس ایوان سے کمٹمنٹ کی ہے۔ اس دوران سینیٹر دنیش کمار نے کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کی قرارداد پیش کردی، ان کا کہنا تھا کہ پانچ فروری کو اجلاس نہیں ہو رہا ہے، اس لئے آج یہ قرارداد پیش کی جارہی ہے، جسے متفقہ طور پر منظور کر لیا گیا۔ اجلاس کے دوران دی پریوینشن آف الیکٹرانک کرائم ایکٹ ترمیمی بل 2025 (پیکا) کی رپورٹ سینٹ میں پیش کی گئی۔ رپورٹ سینیٹر عمر فاروق نے پیش کی۔ اجلاس میں پانی کی تقسیم کے حوالے سے سینیٹر پلوشہ خان نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ دریا ہمارے ہماری ماؤں کی طرح ہیں، جماعت علی شاہ دریا کا سودا کرکے ملک سے بھاگ گیا، آج جماعت علی شاہ کو واپس لانے کیلئے کوئی بات کیوں نہیں کرتا۔ انڈیا ڈیمز بنا رہا ہے وہ بات ہونی چاہیے، کینالز بنانے سے سندھ بلوچستان کے علاوہ پنجاب کا بھی نقصان ہوگا۔ اس کے ساتھ ہی سینٹ کا اجلاس آج منگل کی صبح ساڑھے 11 بجے تک ملتوی کردیا گیا۔ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے سینٹ سے اپنے خطاب میں کہا کہ بینکوں کی تعداد کا فیصلہ بینکس کرتے ہیں۔ ایک جگہ کوئی بینک موجود ہے تو دوسرے کا ہونا لازمی نہیں۔ موبائل بینکنگ کا رجحان اب بڑھ رہا ہے۔ گورنر سٹیٹ بنک سے اس سے متعلق بات کروں گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: پی ٹی ا ئی کہا کہ
پڑھیں:
چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس
چیف جسٹس آف پاکستان نے ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے سیکیورٹی اہلکار کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔
چیف جسٹس آف پاکستان نے پاکستان کی عدلیہ کی جانب سے شہدا کے اہلِ خانہ سے دلی تعزیت کا اظہار کیا۔
ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے سیکیورٹی اہلکار مستونگ میں دورانِ ڈیوٹی دہشت گرد حملے میں شہید ہوئے تھے۔
چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی نے کہا کہ پاکستان کی عدلیہ اس ناقابلِ تلافی سانحے پر سوگوار خاندانوں کے ساتھ کھڑی ہے۔ چیف جسٹس آف پاکستان نے شہداء کے درجات کی بلندی اور اہلِ خانہ کے لیے صبر جمیل کی دعا کی۔
مزید پڑھیںمستونگ: قومی شاہراہ پر فائرنگ، سیشن جج گن مین سمیت شہید، ایڈیشنل سیشن جج سمیت 2 افراد شدید زخمی
چیف جسٹس آف پاکستان نے زخمی ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری اور جوڈیشل مجسٹریٹ کی جلد صحت یابی کی دعا کی جبکہ شہداء سے اظہارِ عقیدت اور بلوچستان کی ضلعی عدلیہ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے 25 جولائی کو شیڈول جوڈیشل ویلبیئنگ کانفرنس مؤخر کر دی گئی۔
چیف جسٹس نے کہا پاکستان کی عدلیہ بلاخوف و خطر انصاف کی فراہمی کے عزم پر قائم ہے، تشدد اور دہشت گردی کے واقعات قانون کی حکمرانی کے لیے ہمارے عزم کو متزلزل نہیں کر سکتے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی عدلیہ ہر حال میں انصاف کی بالادستی اور عدلیہ کی آزادی کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔