ریلوے میں 15 ہزار ملازمتیں ختم کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا
اشاعت کی تاریخ: 28th, January 2025 GMT
ویب ڈیسک:وزارت ریلوے نے آئندہ چند ماہ میں 15 ہزار اضافی پوسٹیں ختم کرنے کا منصوبہ بنایا ہے، جو وزارت کی رائٹ سائزنگ کوششوں کا حصہ ہے،یہ فیصلہ کابینہ کمیٹی برائے رائٹ سائزنگ کے پیر کو ہونے والے اجلاس میں کیا گیاہے۔
اجلاس کی صدارت وفاقی وزیر خزانہ و محصولات محمد اورنگزیب نے کی، جس کا مقصد وفاقی وزارتوں میں رائٹ سائزنگ کے اقدامات کی پیشرفت کا جائزہ لینا تھا،اسٹیبلشمینٹ ڈویژن نے وزیر کو آگاہ کیا کہ 29 وزارتوں اور ایک آئینی ادارے سے 11,877 پوسٹوں اور 4,660 مرنے والی پوسٹوں کے خاتمے کی تصدیق حاصل ہو چکی ہے،اورنگزیب نے کمیٹی کے فیصلوں کے نفاذ کی تعریف کی اور وزارتوں اور محکموں کی کوششوں کو سراہا۔
وزیر اعظم کے زیرصدارت اجلاس، ریلوے کو نجی شعبے کے تعاون سے کاروبار کیلئے استعمال کرنے کی ہدایت
اجلاس میں وزارت کی کارکردگی کو اس کے بنیادی مینڈیٹ سے ہم آہنگ کرنے اور غیر ضروری پوسٹوں کو کم کرنے پر زور دیا گیا، کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ اس معاملے کو مزید جائزے اور تجویز کردہ اقدامات کے نفاذ کے لیے سب کمیٹی برائے حقوق سائزنگ کو بھیجا جائے گا،کمیٹی نے وفاقی وزارتوں میں حقوق سائزنگ کے اقدامات کو مرحلہ وار نافذ کرنے کا مطالبہ کیا تاکہ ”موثر، کارگر اور پائیدار پالیسی نتائج“ حاصل کیے جا سکیں۔
گیس کی قیمتوں میں اضافے کا نوٹیفکیشن جاری
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
اسلام آباد، نئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں کم از کم ماہانہ اجرت یا تنخواہ (minimum wages monthly)کے تعین کے حوالے سے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے اہم سفارشات پیش کر دی ہیں۔
پائیڈ نے مالی سال 2026-27 کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز دی ہے، جو موجودہ کم از کم اجرت کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافے کے برابر ہے۔
ادارے نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شفاف اور سائنسی بنیادوں پر مبنی نظام تجویز کرتے ہوئے کہا ہے کہ اجرت کا تعلق غربت، مہنگائی اور عوام کی قوتِ خرید سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔
سفارشات کے مطابق سندھ میں کم از کم ماہانہ اجرت 46 ہزار روپے، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 45 ہزار روپے جبکہ بلوچستان میں 45 ہزار 500 روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پائیڈ نے کم از کم اجرت کے نفاذ کو مرحلہ وار یقینی بنانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری ٹھیکوں اور آؤٹ سورس خدمات میں کم از کم اجرت پر عملدرآمد کو لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔
ادارے کے مطابق پاکستان میں 80 فیصد سے زائد روزگار غیر رسمی شعبے میں ہونے کے باعث کم از کم اجرت کے قانون پر عملدرآمد ایک بڑا چیلنج ہے۔
پائیڈ نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ تمام صوبے سالانہ کم از کم اجرت پر عملدرآمد کی رپورٹ جاری کریں تاکہ نظام کی نگرانی اور مؤثر جائزہ ممکن ہو سکے۔رپورٹ کے مطابق مجوزہ فریم ورک پلاننگ کمیشن کو غور کیلئے بھجوا دیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں:سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
پائیڈ کا کہنا ہے کہ کم از کم اجرت کا نظام محض سالانہ اعلان تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے مؤثر طرزِ حکمرانی، نگرانی اور عملدرآمد کے نظام سے جوڑا جانا ضروری ہے۔