2022ء میں اقتدار سنبھال کر ملک کو ڈیفالٹ سے بچایا، اسحاق ڈار
اشاعت کی تاریخ: 28th, January 2025 GMT
نائب وزیراعظم کا کہنا تھا کہ 2023ء میں ملک کو طویل لوڈشیڈنگ کا سامنا تھا، ماضی میں ہماری حکومت نے لوڈشیڈنگ اور دہشت گردی کا خاتمہ کیا، پاکستان میں معدنیات کا بڑا خزانہ موجود ہے، ہماری حکومت میں تمام شعبوں نے ترقی کی۔ اسلام ٹائمز۔ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ 2022ء میں اقتدار میں آکر ہم نے ملک کو ڈیفالٹ سے بچایا، حکومتی اقدامات سے معیشت میں استحکام آیا ہے۔ سابق وزیر خزانہ اور نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے پاکستان بزنس کونسل کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہماری حکومت میں پاکستان دنیا کی 24ویں بڑی معیشت بنا، ملکی معیشت مثبت سمت میں گامزن ہے۔
اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ 2023ء میں ملک کو طویل لوڈشیڈنگ کا سامنا تھا، ماضی میں ہماری حکومت نے لوڈشیڈنگ اور دہشت گردی کا خاتمہ کیا، پاکستان میں معدنیات کا بڑا خزانہ موجود ہے، ہماری حکومت میں تمام شعبوں نے ترقی کی۔ نائب وزیراعظم کا مزید کہنا تھا کہ زراعت، معدنیات اور آئی ٹی کی ترقی پر توجہ مرکوز ہے، حکومت اور نجی شعبوں کو مل کر ملکی ترقی کیلئے کام کرنا ہوگا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ہماری حکومت اسحاق ڈار ملک کو
پڑھیں:
وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ
وزیراعظم اجلاس کی صدارت کر رہے ہیں - فوٹو بشکریہ پی آئی ڈیوزیراعظم شہباز شریف نے چین میں بی ٹو بی کانفرنس کے دوران ہوئی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ کیا ہے۔
دورہ چین میں پاک چین بزنس ٹو بزنس کانفرنس کے دوران لیے گئے فیصلوں کی پیشرفت کا جائزہ لینے کیلئے وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اجلاس ہوا۔ جس میں وفاقی وزرا رانا تنویر، احد چیمہ، احسن اقبال، شزا فاطمہ خواجہ اور متعلقہ حکام شریک ہوئے۔
اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان اور چین کے نجی شعبے کے درمیان کاروباری روابط میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ یہ اضافہ دونوں ممالک کی اقتصادی شراکت داری کے نئے دور کا آغاز ہے۔
اسلام آباد پاکستان اور چین نے سرمایہ کاری، زراعت...
انہوں نے کہا کہ چین کے ساتھ صنعتی، زرعی اور تکنیکی تعاون سے برآمدات بڑھنے اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ ہانگژو بی ٹو بی کانفرنس میں ایم اویوز کو جلد باقاعدہ معاہدوں اور مشترکہ منصوبوں میں تبدیل کیا جائے۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ چین کی اکیڈمی آف ایگریکلچرل سائنسز اور پاکستان ایگریکلچرل ریسرچ کونسل کے درمیان تعاون کو عملی جامہ پہنایا جائے۔ پاک چین مشترکہ منصوبوں سے پاکستان کے زرعی شعبے میں انقلابی تبدیلی لائی جاسکیں گی۔
اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ ہانگژو میں 24 مئی کو پاکستان چین بی ٹو بی کانفرنس میں 123 پاکستانی اور 436 چینی کمپنیوں نے شرکت کی۔ کانفرنس کے دوران تقریباً 7.54 ارب ڈالر مالیت کی 207 مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے۔