کیا جرگوں سے بلوچستان کے پشتون اکثریتی اضلاع میں امن بحال ہوسکے گا؟
اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2025 GMT
پاکستان کے شمال مغرب میں واقع صوبہ بلوچستان گزشتہ کئی برسوں سے لسانی دہشت گردی کی شدید لپیٹ میں ہے، محکمہ داخلہ بلوچستان کے اعداد و شمار کے مطابق پچھلے برس لسانی بنیادوں پر ہونے والے قتل عام میں گزشتہ برسوں کی نسبت 300 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
ایسے وقت کہ جب صوبے بھر میں امن و امان کی عمومی صورتحال مخدوش ہے وہاں اس بار لسانی بنیادوں پر ہونے والی دہشت گردی نے بلوچ آبادی کے ساتھ ساتھ پشتون آبادی والے اضلاع کو بھی متاثر کیا ہے، جہاں کالعدم بلوچ علیحدگی پسند تنظیموں کی جانب سے لوگوں کو شناخت کی بنیاد پر نشانہ بنایا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: قبائلی امن جرگے کی آپریشن عزم استحکام کی مخالفت، عمران خان کی رہائی کا بھی مطالبہ
صوبے کے پشتون اکثریتی اضلاع میں لسانی بنیادوں پر ہونے والے قتل عام اور صوبے کی مجموعی امن و امان کی صورتحال پر پشتون قوم پرست جرگوں کا انعقاد کر رہے ہیں، حال ہی میں منعقدہ پشتون اولسی جرگے میں مختلف قوم پرست پشتون قبائلی و سیاسی عمائدین شریک ہوئے تھے۔
اعلامیہ کے مطابق جرگے نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت فی الفور مستعفی ہو کر دوبارہ انتخابات کرائے، سیکیورٹی ادارے پارلیمنٹ کے تابع رہیں، ملک بھر میں معدنی وسائل پر وہاں کے عوام کو حق دیا جائے۔
مزید پڑھیں: دہشت گردی کیخلاف پاک افغان مشترکہ حکمت عملی کی ضرورت ہے، گرینڈ جرگہ
دیگر مطالبات میں نصاب میں مادری زبانوں کی شمولیت سمیت پشتونوں کے لیے پشتونخوا یا پشتونستان کے نام سے صوبہ قائم کرنے جیسے مطالبات بھی شامل ہیں، جرگے نے حالیہ انتخابات کو مسترد کرتے ہوئے پشتون علاقوں میں زمینوں کی الاٹمنٹ سمیت سرحدوں کی بندش کو بھی مسترد کیا تھا۔
جرگے کے اعلامیہ میں مزید کہا گیا کہ نادرا پشتونوں کے لیے شناختی کارڈ کے حصول کے لیے شرائط میں نرمی اختیار کرے، قومی شاہراوں پر بلا وجہ مسافروں کو چیکنگ کے نام پر تنگ کرنے کا سلسلہ بند کیا جائے، تعلیمی اداروں میں طلبا تنظیموں پر پابندی ختم کی جائے۔
مزید پڑھیں: تربت میں گرینڈ قبائلی جرگہ،علاقائی مسائل پر تبادلہ خیال
جرگے سے خطاب کرتے ہوئے تحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ پاکستان میں آئینی بحران ہے آئین کو اہمیت نہیں دی جا رہی، آئین کے بغیر یہ ملک نہیں چل سکتا۔
’زر اور زور پر قائم موجودہ غیر قانونی اور غیر آئینی حکومت کا ایک سال مکمل ہورہا ہے، 8 فروری کو ملک بھر میں یوم سیاہ منایا جائے، تمام قومیں 21 فروری کو مادری زبانوں کا عالمی دن منائیں، 10 دن بعد پودے لگانے کا دن ہے تمام لوگ زیادہ سے زیادہ درخت لگائیں۔‘
مزید پڑھیں: پشتونخوا ملی عوامی پارٹی میں خواتین اور اقلیتی اراکین کو عہدے دینے کا فیصلہ کیسے ہوا؟
پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے چیئرمین خوشحال خان کاکڑ نے وی نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے ہمیشہ بے گناہ افراد کے قتل عام کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔
’ہم پشتون سرزمین کو کسی معصوم کے قتل کے لیے استعمال کرنے کی قطعاً اجازت نہیں دیں گے، کوئی اگر اپنے مقصد کے حصول کے لیے پشتون سر زمین کو استعمال کرے یا پشتون اپنے ذاتی مقاصد کے لیے کسی اور کی سرزمین استعمال کریں، ہم دونوں کے خلاف ہوں گے۔‘
مزید پڑھیں: تمام سیاسی جماعتیں بیٹھ کر ملک کا سوچیں، مذاکرات ہوں گے اور ہونے چاہییں، محمود اچکزئی
خوشحال خان کاکڑ کا کہنا تھا کہ پشتون اضلاع میں ہونے والے جرگے سے مسائل کا حل نہیں نکل سکتا اس کے لیے سیاسی جماعتوں کا ایک ’اتحاد‘ بنانے کی ضرورت ہے، لیکن اگر جرگوں میں کوئی ایسا فیصلہ کیا جاتا ہے جو عوامی مفاد میں ہو تو ہم اس کی بھرپور حمایت کریں گے۔
سیاسی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں پشتون قوم پرستوں کی جانب سے جرگوں کا انعقاد خوش آئند ہے لیکن جرگوں کے انعقاد سے قیام امن ممکن نہیں ہوگا، بلوچ اور پشتون قوم پرستوں کو مل کر حکومت کے ساتھ ایک ایسی پالیسی مرتب کرنا ہوگی جس سے ناراض بلوچوں کے مسائل حل ہو سکیں۔
مزید پڑھیں: صوابی میں تحریک تحفظ آئین پاکستان کا پاور شو، ہم نے چوروں کی حکومت کا راستہ روکنا ہے، محمود اچکزئی
’ایسے سیاسی و قبائلی رہنما جو روٹھے ہوئے بلوچ سرداروں سے بات چیت کر کے ان کو مذاکرات کی میز پر لے آئیں اور ان کے جائز مطالبات کو تسلیم کر کے صوبے کو امن کا گہوارہ بنائیں۔لیکن طاقت کے استعمال سے صوبے میں حالات مزید کشیدہ ہوں گے اور ایسے قیام امن کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکے گا۔‘
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بلوچ بلوچستان پشتون اضلاع پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی تحریک تحفظ آئین پاکستان خوشحال خان کاکڑ محمود خان اچکزئی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بلوچ بلوچستان پشتون اضلاع پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی تحریک تحفظ آئین پاکستان خوشحال خان کاکڑ محمود خان اچکزئی مزید پڑھیں پشتون ا کے لیے
پڑھیں:
عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
اسلام آباد: مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جہاں برینٹ کروڈ پہلی بار 100 ڈالر فی بیرل کی سطح عبور کر گیا، جبکہ امریکی خام تیل بھی 90 ڈالر فی بیرل سے اوپر پہنچ گیا۔
تازہ عالمی مارکیٹ رپورٹس کے مطابق خطے میں جاری غیر یقینی صورتحال اور سپلائی میں ممکنہ رکاوٹوں کے خدشات نے خام تیل کی قیمتوں کو نئی بلند ترین سطح پر پہنچا دیا ہے۔
ماہرین توانائی کا کہنا ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ کی صورتحال مزید کشیدہ ہوئی اور تیل کی ترسیل متاثر ہوئی تو برینٹ کروڈ کی قیمت 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔
تیل کی قیمتیں کیوں بڑھ رہی ہیں؟
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران سے تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات، بحیرہ احمر میں حوثیوں کی جانب سے بحری سرگرمیوں میں رکاوٹ اور اہم تجارتی راستوں پر بڑھتے ہوئے خطرات نے عالمی توانائی مارکیٹ کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے اہم آئل ٹرمینل جزیرہ خارگ کو کسی بھی ممکنہ نقصان یا تیل کی صنعت میں ہڑتال کی صورت میں عالمی سطح پر سپلائی مزید متاثر ہو سکتی ہے، جس سے قیمتوں میں مزید تیزی آنے کا امکان ہے۔
پاکستان پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟
توانائی ماہرین کے مطابق اگر عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت اسی رفتار سے بڑھتی رہی تو پاکستان میں بھی پیٹرول، ڈیزل اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات مزید مہنگی ہونے کا امکان ہے۔ اس کے علاوہ ٹرانسپورٹ، بجلی کی پیداوار، صنعتی لاگت اور مہنگائی پر بھی اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ عالمی تیل منڈی میں جاری غیر یقینی صورتحال برقرار رہی تو نہ صرف توانائی کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں بلکہ عالمی معیشت اور سپلائی چین بھی شدید دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے۔