پاکستان تحریک انصاف کا 8 فروری کو مینار پاکستا ن پر جلسے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 30th, January 2025 GMT
لاہور(نمائندہ جسارت)تحریک انصاف نے 8 فروری کو مینار پاکستان پر جلسہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کے لیے درخواست لاہور انتظامیہ کو جمع کرادی۔پی ٹی آئی نے اپنی سیاسی قوت شو کرنے کے لیے مینار پاکستان پر جلسہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے، 8 فروری کو جلسہ منعقد کرنے کے لیے چیف آرگنائزر عالیہ حمزہ کو مقرر کیا گیا ہے جنہوں نے جلسے کی اجازت کے لیے تحریری درخواست ڈپٹی کمشنر لاہور کو جمع کرادی۔درخواست میں کہا گیا ہے کہ تحریک انصاف 8فروری کو گریٹر اقبال پارک گراؤنڈ میں جلسہ کرنے چاہتی ہے جس کے لیے این او سی دیا جائے۔جلسہ کی آرگنائزنگ کمیٹی میں چیف آرگنائزر عالیہ حمزہ، اپوزیشن لیڈر ملک احمد خان بھچر اور علی اعجاز بٹر شامل ہیں۔تحریک انصاف کے ذرائع کا کہنا ہے کہ اجازت نہ ملنے کی صورت میں پی ٹی آئی کی جانب سے ملک گیر احتجاج کیا جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کے لیے
پڑھیں:
نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
راولپنڈی:ہولی فیملی ہسپتال راولپنڈی کی گائنی وارڈ کی نرسری میں زیرِ علاج 23 روزہ نومولود بچی کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا پراسرار طور پر کٹ جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے، جبکہ متاثرہ بچی کے والد نے واقعے پر پولیس کو درخواست دے دی ہے۔
متاثرہ بچی کے والد قیصر محمود نے بتایا کہ وہ ضلع اٹک کے رہائشی اور پیشے کے لحاظ سے کارپینٹر ہیں۔ ان کے مطابق ان کی بیٹی کی پیدائش ہولی فیملی ہسپتال میں ہوئی تھی اور پیدائش کے بعد سے بچی کو نرسری میں رکھا گیا ہے۔
والد کا کہنا ہے کہ جب وہ آج اپنی 23 روزہ بیٹی سے ملنے ہسپتال پہنچے تو دیکھا کہ اس کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا کٹا ہوا تھا۔ انہوں نے فوری طور پر ڈاکٹروں سے اس بارے میں استفسار کیا۔
قیصر محمود کے مطابق ڈاکٹرز نے انہیں بتایا کہ انگوٹھا نرس سے غلطی سے کٹ گیا۔ تاہم ان کے بقول ہسپتال انتظامیہ نے صرف انکوائری کی یقین دہانی کرائی نہ واقعے کی وجہ واضح کی گئی اور نہ ہی اب تک کسی ذمہ دار کے خلاف کارروائی کی گئی۔
متاثرہ والد نے انصاف کے لیے پولیس کو درخواست دے دی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ درخواست موصول ہونے کے بعد ابتدائی چھان بین مکمل کر لی گئی ہے اور قانون کے مطابق کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب اس سنگین واقعے پر ہولی فیملی ہسپتال کی انتظامیہ کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔