کینیڈا اور میکسیکو کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ وہ امریکا کی جانب سے ممکنہ بھاری محصولات کا جواب دینے کے لیے تیار ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: صدر ٹرمپ کا کولمبیا پر 25 فیصد محصولات سمیت پابندیوں کا اعلان

غیر ملکی میڈیا کے مطابق دونوں ممالک نے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ٹیرف بڑھانے سے اجتماعی سلامتی کے لیے نقصان دہ ہوگا تاہم اگر امریکا ایسا کچھ کرتا ہے تو پھر ہم بھی جوابی اقدام کریں گے۔

یاد رہے کہ گزشتہ روز بھی ڈونلڈ ٹرمپ نے کینیڈا اور میکسیکو پر 25 فیصد محصولات عائد کرنے کی اپنی دھمکی کو دہرایا تھا۔ وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے وہ جلد ہی فیصلہ کریں گے کہ کینیڈا اور میکسیکو کی تیل کی درآمدات کو محصولات سے خارج کیا جائے یا نہیں۔

ریپبلکن صدر کے انتظامی اقدامات خطرے کی گھنٹی بجاتے رہتے ہیں جس میں امریکی غیر ملکی امداد کو منجمد کرنے کا حکم بھی شامل ہے جس کے بارے میں ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی انسانی امداد کی کوششوں کو متاثر کرے گا۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے کینیڈا اور میکسیکو کو دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے ممنوعہ اودویات کی ترسیل اور مہاجرین کی آمد نہ روکی تو میں 25 فیصد ٹیرف لگا دوں گا۔

واضح رہے کہ کینیڈا اور میکسیکو امریکا کو خام تیل برآمد کرنے والے 2 سب سے بڑے ممالک ہیں لیکن یہ واضح نہیں ہے کہ خام تیل کو محصولات میں شامل کیا جائے گا یا نہیں۔

مزید پڑھیے: امریکا کی ریاست بن جائیں، ٹیرف ختم کردیں گے، ٹرمپ کی کینیڈا کو پیشکش

یو ایس انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے مطابق سنہ 2023 میں اعداد و شمار کے آخری پورے سال میں کینیڈا نے کل درآمدات کے 6.

5 ملین بی پی ڈی میں سے امریکا کو 3.9 ملین بیرل یومیہ (بی پی ڈی) خام تیل برآمد کیا جبکہ میکسیکو نے 733،000 بی پی ڈی برآمد کیا۔

ٹیرف کے نتائج امریکا کے لیے خطرناک ہوں گے، جسٹن ٹروڈو

دریں اثنا کینیڈا کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو نے ممکنہ محصولات سے پہلے کینیڈا امریکی کونسل کا اجلاس طلب کرلیا۔

جسٹن ٹروڈو کا کہنا ہے کہ ملک کو ایک نازک لمحے کا سامنا ہے۔

ٹورنٹو میں نو تشکیل شدہ کینیڈا امریکا تعلقات کونسل کے اجلاس سے پہلے خطاب کرتے ہوئے ٹروڈو نے کہا کہ اگر ٹرمپ کینیڈا کے خلاف کوئی محصولات عائد کرتے ہیں تو ملک اس کا جواب کے لیے تیار ہے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ وہ جواب زبردست لیکن معقول ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہ نہیں ہے جو ہم چاہتے ہیں لیکن اگر ٹرمپ آگے بڑھے تو پھر ہم بھی اپنا کام کریں گے۔

مزید پڑھیں: گرین لینڈ کے باشندوں کا ٹرمپ کو منہ توڑ جواب

جسٹن ٹروڈو نے مزید کہا کہ کونسل کے اراکین نے واضح کیا ہے کہ امریکی ٹیرف کے امریکا کے لیے تباہ کن نتائج ہوں گے جن میں امریکی ملازمتوں کو خطرے میں ڈالنا، امریکیوں پر قیمتیں بڑھانا شامل ہوگا اور ہماری اجتماعی سلامتی کو بھی نقصان پہنچے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

امریکا ٹرمپ کا ٹیرف کارڈ ٹرمپ کارڈ ٹیرف ٹرمپ کارڈ جسٹن ٹروڈن کی دھکمی کینیڈا اور میکسیکو ٹرمپ کی زد میں

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: امریکا ٹرمپ کا ٹیرف کارڈ ٹرمپ کارڈ ٹیرف ٹرمپ کارڈ کینیڈا اور میکسیکو ٹرمپ کی زد میں ٹرمپ کا ٹرمپ کی کہا کہ نے کہا کے لیے

پڑھیں:

گوگل کا ’گڈ مچھر بیڈ مچھر‘ نظریہ، امریکا میں لوہے کو لوہے سے کاٹنے کے لیے ’فورس‘ تیار

امریکی ٹیکنالوجی کمپنی گوگل فلوریڈا اور کیلیفورنیا میں تقریباً 3 کروڑ 20 لاکھ مچھر چھوڑنے کے منصوبے پر کام کر رہی ہے جس کا مقصد خطرناک مچھروں کی افزائش روکنا اور ان سے پھیلنے والی بیماریوں پر قابو پانا ہے۔ تاہم اس منصوبے نے ماہرین ماحولیات اور ناقدین میں کئی خدشات کو جنم دے دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: یہ اتفاق نہیں: مچھر دوسروں کو چھوڑ کر آپ کے ہی پیچھے کیوں پڑجاتے ہیں؟

گوگل کے ’ڈی بگ‘ پروگرام کے تحت ایسے نر مچھر چھوڑے جائیں گے جنہیں ’اچھے مچھر‘ قرار دیا جا رہا ہے۔ ان مچھروں میں قدرتی طور پر پائے جانے والے بیکٹیریا وولباخیا موجود ہوں گے جو جنگلی مادہ مچھروں کے ساتھ ملاپ کے بعد انڈوں کو پھوٹنے سے روک دیں گے یوں خطرناک مچھروں کی نسل بتدریج کم ہوتی جائے گی۔

گوگل کے مطابق یہ نر مچھر نہ کاٹتے ہیں اور نہ ہی بیماریاں پھیلاتے ہیں اس لیے یہ انسانی صحت کے لیے نقصان دہ نہیں ہوں گے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کا مقصد اچھے کیڑوں کے ذریعے برے کیڑوں کا خاتمہ ہے۔

ماہرین کے مطابق مچھر دنیا کے مہلک ترین کیڑوں میں شمار ہوتے ہیں جو ڈینگی، زیکا اور چکن گنیا جیسی خطرناک بیماریوں کے پھیلاؤ کا سبب بنتے ہیں۔

خاص طور پر ایڈیز ایجپٹی نسل کے مچھر ہر سال کروڑوں افراد کو خطرے میں ڈالتے ہیں۔

مزید پڑھیے: مچھروں کو ملیریا سے بچانے کے لیے دوا ڈھونڈ لی گئی، آپ بھی چکرا گئے نا!

گوگل کا کہنا ہے کہ روایتی کیڑے مار ادویات وقت کے ساتھ کم مؤثر ہو رہی ہیں اور ان کے ماحولیاتی اثرات بھی نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں اس لیے ایک نئے اور محفوظ طریقہ کار کی ضرورت ہے۔

کمپنی کے سائنس دانوں کے مطابق اس منصوبے میں نہ تو جینیاتی تبدیلی کی گئی ہے اور نہ ہی کسی قسم کے زہریلے کیمیکل استعمال کیے جائیں گے۔

جدید مصنوعی ذہانت، روبوٹکس اور خودکار نظام کے ذریعے مچھروں کی افزائش اور چھانٹی کی جائے گی تاکہ بڑے پیمانے پر ان کی رہائی ممکن ہو سکے۔

مزید پڑھیں: برازیل میں مچھر فیکٹری کا افتتاح، ہر ہفتے 19 کروڑ کی پیداوار، لیکن کیوں؟

گوگل اس منصوبے کے لیے وفاقی منظوری کا منتظر ہے۔ امریکی ماحولیاتی تحفظ ایجنسی اس وقت کمپنی کی درخواستوں کا جائزہ لے رہی ہے۔

منصوبے کے مطابق پہلے سال فلوریڈا میں ایک کروڑ 60 لاکھ مچھر چھوڑے جائیں گے جبکہ باقی مچھر دوسرے مرحلے میں چھوڑے جائیں گے۔

دوسری جانب ناقدین کا کہنا ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں مچھروں کی رہائی کے طویل المدتی ماحولیاتی اثرات غیر متوقع ہو سکتے ہیں۔ بعض ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس اقدام سے قدرتی غذائی زنجیر متاثر ہو سکتی ہے اور ماحولیاتی توازن بگڑنے کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: ’بہت دیر کی مہرباں آتے آتے‘: آئس لینڈ میں پہلی بار مچھر نمودار، یہ آ کیسے گیا؟

کچھ حلقوں نے اس بات پر بھی سوال اٹھایا ہے کہ عوامی صحت کے نام پر بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو حیاتیاتی نوعیت کے وسیع منصوبوں میں کس حد تک اختیار دیا جانا چاہیے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

گڈ مچھر بیڈ مچھر گوگل گوگل کے ’گڈ مچھر‘ اور ’بیڈ مچھر‘

متعلقہ مضامین

  • ایرانی جزیرے پر امریکی حملے کے بعد ایران کا جوابی وار، بحرین، عراق اور قطر میں سائرن بج گئے
  • اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار
  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • گوگل کا ’گڈ مچھر بیڈ مچھر‘ نظریہ، امریکا میں لوہے کو لوہے سے کاٹنے کے لیے ’فورس‘ تیار