اورنگی ٹائون میں معذور افراد بھی وارداتیں کرنے لگے
اشاعت کی تاریخ: 1st, February 2025 GMT
کراچی (اسٹاف رپورٹر) اورنگی ٹاؤن کے علاقے منصور نگرمیں کٹی پہاڑی قبرستان کے قریب نجی کلینک میں لنگڑے ڈاکوؤں نے واردات کی۔ کلینک میں لوٹ مار کی فوٹیج منظر عام پر آگئی۔ تفصیلات کے مطابق جرائم پیشہ عناصر کی وارداتیں عروج پر ہیں ، اب ہٹے کٹے ملزمان کے بعد لولے لنگڑے بھی وارداتیں کرنے لگے ہیں۔ پیر آباد تھانے کی حدود اورنگی ٹائون منصور نگر میں 2 ملزمان نے کلینک میں لوٹ مار کی، واردات کی سی سی ٹی وی فوٹیج میں دیکھا جاسکتا ہے کہ 2 ملزمان کلینک کے اندر داخل ہوئے، ایک ملزم نے لنگڑے ساتھی کو پستول تھمایا اور خود لوٹ مار کرنے لگا۔ فوٹیج میں لنگڑانے والے ملزم کو دیوار کا سہارا لے کر کھڑا ہوتے دیکھا جا سکتا ہے۔ کلینک میں 2 خواتین سمیت 4 مریض بھی بیٹھے ہوئے تھے جبکہ چھوٹا بچہ بھی واردات حیرت سے دیکھتا رہا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کلینک میں
پڑھیں:
مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔