واسا حکام کی نااہلی ، منصوبے کی لاگت میں غیر ضروری اضافہ کرنا مہنگا پڑ گیا
اشاعت کی تاریخ: 1st, February 2025 GMT
سٹی42: واسا حکام کی نااہلی کے باعث لاہور کے رسول پارک میں بارش کے پانی کے نکاس کے منصوبے کی لاگت میں غیر ضروری اضافہ ہو گیا تھا، تاہم پنجاب کے پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ بورڈ کے حکم پر اس لاگت میں کمی کر دی گئی ہے۔
واسا حکام نے 24 ستمبر 2024 کو اس منصوبے کی 43 کروڑ 48 لاکھ روپے کی لاگت کی منظوری دی تھی، جس پر پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ بورڈ نے اعتراض کیا اور منصوبے کا دوبارہ جائزہ لینے کی ہدایت کی۔
پنجاب کے اساتذہ کیلئے برُی خبر
پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ بورڈ کے احکامات پر واسا حکام نے از سر نو منصوبے کا جائزہ لیا، جس کے نتیجے میں لاگت میں کمی کی گئی اور منصوبے کی نئی لاگت 41 کروڑ 40 لاکھ روپے تک محدود کر دی گئی۔ واسا کی ڈیپارٹمنٹل ڈویلپمنٹ میٹنگ میں اس نئی لاگت کی منظوری بھی دے دی گئی ہے۔
رسول پارک لاہور میں بارش کے پانی کے نکاس کا یہ منصوبہ جون 2026 تک مکمل ہو گا۔
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: سٹی42 منصوبے کی واسا حکام لاگت میں
پڑھیں:
غیر ضروری وزارتیں ختم کر کے سالانہ 5 ہزار ارب روپے تک کی بچت ممکن ہے، سینیٹ کمیٹی
سینیٹ کی فنکشنل کمیٹی برائے ڈیولوشن نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت غیر ضروری وزارتیں اور محکمے ختم کر کے سالانہ 4 سے 5 ہزار ارب روپے تک کی بچت کر سکتی ہے۔ کمیٹی نے زور دیا کہ وفاق آئین کے مطابق محدود دائرۂ اختیار میں کام کرے اور اٹھارہویں آئینی ترمیم پر مکمل عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔
سینیٹرضمیر حسین کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں اٹھارہویں آئینی ترمیم کے بعد اختیارات کی صوبوں کو منتقلی، وفاقی حکومت کی تنظیمِ نو اور آئینی اداروں کی فعالیت سے متعلق امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
اجلاس کے دوران ارکان نے کہا کہ وفاقی حکومت کو غیر ضروری وزارتوں اور اداروں کا ازسرنو جائزہ لینا چاہیے تاکہ قومی وسائل کا ضیاع روکا جا سکے۔ کمیٹی نے اس بات پر بھی زور دیا کہ مشترکہ مفادات کونسل (CCI) کو آئینی تقاضوں کے مطابق فعال بنایا جائے اور اس کے اجلاس باقاعدگی سے منعقد کیے جائیں۔
سینیٹر جان محمد بلیدی نے کہا کہ مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس نہ ہونے سے آئینی تقاضے متاثر ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک کو مالی مشکلات سے نکالنے کے لیے حکومتی اخراجات میں نمایاں کمی ضروری ہے، جبکہ آئی ایم ایف پر انحصار کم کرنے کے لیے وفاقی وزارتوں اور اخراجات کا ازسرِنو جائزہ لیا جانا چاہیے۔
اجلاس میں سینیٹر ضمیر حسین نے کہا کہ سندھ سے روزانہ تقریباً 3 ارب 70 کروڑ روپے مالیت کا تیل نکلتا ہے، جبکہ خیبرپختونخوا بھی تیل و گیس کی پیداوار میں نمایاں حصہ رکھتا ہے، تاہم تیل و گیس پیدا کرنے والے صوبوں کو گزشتہ 16 برس سے ان کا آئینی حق نہیں دیا گیا۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ وفاقی حکومت صوبوں کو تیل اور گیس کی مد میں واجب الادا رقوم کیوں ادا نہیں کر رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبوں کو ان کا حصہ نہ دینا آئین اور بہتر طرزِ حکمرانی کے منافی ہے۔
اجلاس کے دوران وزارتِ پیٹرولیم نے آئین کے آرٹیکل 172(3) پر عملدرآمد سے متعلق بریفنگ دی، جبکہ کمیٹی کو آئین کے آرٹیکل 38(جی) سے متعلق بھی رپورٹ پیش کی گئی۔
کمیٹی نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ تیل و گیس سے حاصل ہونے والی آمدن اور اس کی تقسیم کی مکمل تفصیلات فراہم کی جائیں۔ ارکان نے اس بات پر بھی زور دیا کہ صوبوں کے آئینی حقوق کا تحفظ، وفاقی نظام کے استحکام اور قومی یکجہتی کے لیے ناگزیر ہے، جبکہ غیر ضروری سرکاری اخراجات اور ڈپلیکیٹ محکموں کا جامع جائزہ لے کر قومی وسائل کی بچت کو یقینی بنایا جائے۔