گورنر سندھ نے گورنر ہاؤس میں فلاحی ادارہ شائین ہیومینٹی کے ہیلتھ یونٹ وین کا افتتاح کردیا
اشاعت کی تاریخ: 1st, February 2025 GMT
ہیلتھ یونٹ وین کے افتتاح کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کامران خان ٹیسوری نے کہا کہ گورنر انیشی ایٹوز کے تحت گورنر ہاؤس میں ہیلتھ یونٹ وین کے ذریعے مفت طبی سہولیات اور بیماریوں کی تشخیص یقینی بنائی جائے گی، آئی ٹی طلباء، امید کی گھنٹی پر آنے والے سائلین اور مستحقین کو فوراً طبی سہولت میسر ہوگی۔ متعلقہ فائیلیںاسلام ٹائمز۔ گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری نے گورنر ہاؤس میں فلاحی ادارہ شائین ہیومینٹی کے ہیلتھ یونٹ وین کا افتتاح کردیا۔ گورنر سندھ نے ہیلتھ یونٹ وین کے افتتاح کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ گورنر انیشی ایٹوز کے تحت گورنر ہاؤس میں ہیلتھ یونٹ وین کے ذریعے مفت طبی سہولیات اور بیماریوں کی تشخیص یقینی بنائی جائے گی، آئی ٹی طلباء، امید کی گھنٹی پر آنے والے سائلین اور مستحقین کو فوراً طبی سہولت میسر ہوگی۔ کامران خان ٹیسوری نے کہا کہ عوام کی صحت سہولیات کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے اور فلاحی ادارے حکومت کا دست بازو ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ فلاحی خدمات میں شائین ہیومینٹی کا کردار قابل ستائش ہے۔ گورنر سندھ نے کہا کہ گورنر ہاؤس میں پچاس ہزار طلباء آئی ٹی کی جدید تعلیم حاصل کر رہے ہیں، گورنر ہاؤس کے دروازے عوام کے لئے کھول دئیے ہیں، ابتک لاکھوں افراد گورنر ہاؤس کا دورہ کرچکے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: گورنر ہاؤس میں گورنر سندھ کہا کہ
پڑھیں:
بجلی صارفین کے لیے ایک اور جھٹکا، فی یونٹ نرخ بڑھنے کا امکان
اسلام آباد: بجلی کی قیمت میں اضافہ ایک بار پھر زیر غور آ گیا ہے، کیونکہ اپریل 2026 کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست نیپرا میں جمع کرا دی گئی ہے۔
نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) میں ہونے والی سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے دوران خطے میں جاری کشیدگی اور جنگی صورتحال کے باعث توانائی کے شعبے کو متعدد چیلنجز کا سامنا رہا، جس کے اثرات بجلی کی پیداوار پر بھی مرتب ہوئے۔
سی پی پی اے کے مطابق اپریل میں درآمدی ایل این جی کی دستیابی نہ ہونے کے برابر تھی، تاہم مئی کے آغاز میں ایل این جی کے معاہدہ شدہ اور اسپاٹ کارگوز موصول ہونے کے بعد ایل این جی سے چلنے والے بجلی گھروں کو دوبارہ فعال کیا گیا، جس سے نظام میں بہتری آئی۔
حکام نے نیپرا کو آگاہ کیا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تقریباً تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ آئندہ دو ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر منصوبہ بندی مکمل کر لی گئی ہے تاکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔
سی پی پی اے حکام کا کہنا ہے کہ اگرچہ بجلی کی قیمت میں اضافہ تجویز کیا گیا ہے، تاہم مئی، جون اور جولائی کی فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو بڑے اضافی بوجھ کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ضروری انتظامات اور ایندھن کی دستیابی کو یقینی بنایا جا چکا ہے۔
اب نیپرا درخواست پر تمام فریقین کا مؤقف سننے کے بعد حتمی فیصلہ جاری کرے گا، جس کے بعد یہ طے ہوگا کہ صارفین کو بجلی کے بلوں میں کتنا اضافی بوجھ برداشت کرنا پڑے گا۔