کیا صرف طالبان حکومت ہی افغان بچیوں کی تعلیم میں بڑی رکاوٹ ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 2nd, February 2025 GMT
اگست 2021 میں افغانستان پر طالبان کے قبضے کے بعد پورے ملک میں جماعت ششم کے بعد لڑکیوں کی تعلیم پر پابندی عائد کر دی گئی ہے، جس کے نتیجے میں لاکھوں افغان طالبات کو اپنا تعلیمی سفر ختم کرنا پڑا ہے۔
اس پابندی کا نہ صرف لڑکیوں بلکہ اُن کے اساتذہ پر بھی گہرا اثر ہے، جو برسوں سے ان بچیوں کو تعلیم دینے میں اپنی محنت اور وقت صرف کرتے آرہے ہیں۔ ایک طرف طالبان حکومت کا حکم، اور دوسری جانب افغان معاشرے کی روایت ہے کہ جس میں لڑکیوں کی تعلیم کو غیر ضروری سمجھا جاتا ہے، دونوں مل کر افغان لڑکیوں کے تعلیمی ترقی میں رکاوٹ بن چکے ہیں۔اس حوالے تفصیل اس ویڈیو رپورٹ میں ملاحظہ کریں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews اسکول افغان حکومت افغانستان بچیاں پڑھائی تعلیم رکاوٹ طالبان طلبا طلبہ لڑکیاں مشکلات یونیورسٹی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسکول افغان حکومت افغانستان بچیاں پڑھائی تعلیم رکاوٹ طالبان لڑکیاں مشکلات یونیورسٹی
پڑھیں:
سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ، خیبرپختونخوا حکومت کا بڑا ریلیف اعلان
پشاور: سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ کے حوالے سے خیبرپختونخوا حکومت نے اہم فیصلہ کرتے ہوئے صوبے کے پنشنرز کی نیٹ پنشن میں 7 فیصد اضافے کی منظوری دے دی ہے۔ اس فیصلے کا اطلاق یکم جولائی 2026 سے ہوگا، جبکہ اس حوالے سے محکمہ خزانہ نے باضابطہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا ہے۔
جاری کردہ اعلامیے کے مطابق یہ اضافہ 30 جون 2026 تک وصول کی جانے والی نیٹ پنشن کی بنیاد پر دیا جائے گا۔ حکومت کے اس اقدام سے لاکھوں ریٹائرڈ سرکاری ملازمین اور ان کے اہل خانہ کو مہنگائی کے موجودہ دور میں مالی سہارا ملنے کی امید ہے۔
نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ یکم جولائی 2026 یا اس کے بعد ریٹائر ہونے والے سرکاری ملازمین بھی اس 7 فیصد اضافے سے مستفید ہوں گے۔ اسی طرح فیملی پنشن حاصل کرنے والے افراد اور کمپیشنٹ الاؤنس لینے والے مستحقین پر بھی یہ اضافہ یکساں طور پر لاگو ہوگا۔
محکمہ خزانہ کے مطابق بیرون ملک مقیم وہ پنشنرز بھی، جو خیبرپختونخوا حکومت کی پنشن کے اہل ہیں، مقررہ قواعد و ضوابط کے تحت اس اضافے سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔
حکومت نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ یہ اضافہ پہلے سے دی جانے والی کسی بھی خصوصی اضافی پنشن پر لاگو نہیں ہوگا، بلکہ صرف بنیادی نیٹ پنشن کی بنیاد پر ادا کیا جائے گا۔
ماہرین کے مطابق سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ کا یہ فیصلہ بڑھتی مہنگائی کے پیش نظر ریٹائرڈ ملازمین کے لیے اہم ریلیف ثابت ہوگا اور ان کے ماہانہ اخراجات پورے کرنے میں مدد فراہم کرے گا۔