رونالڈو کے نام نیا اعزاز؛ 700 فتوحات پانے والے “پہلے فٹبالر”
اشاعت کی تاریخ: 2nd, February 2025 GMT
پرتگال کے اسٹار فٹبالر کرسٹیانو رونالڈو نے النصر کی نمائندگی کرتے ہوئے سعودی پرو لیگ میں ایک اور نیا سنگ میل عبور کرلیا۔
جمعرات کو سعودی پرو لیگ کے اہم معرکے میں کرسٹیانو رونالڈو نے الراید کیخلاف ٹیم کو 2-1 سے فتح دلوائی، اس میچ میں ایک گول اسٹار فٹبالر نے کیا جبکہ ایک اسسٹ کیا تھا۔
اس فتح کیساتھ ہی رونالڈو دنیا کے واحد فٹبالر بن گئے ہیں جنہوں نے مختلف کلبز کی نمائندگی کرتے ہوئے ابتک 700 فتوحات اپنے نام کی ہوں، انکے علاوہ کوئی فٹبالر یہ کارنامہ سرانجام نہیں دے سکا۔
رونالڈو نے النصر کیلئے ابتک 94 میچز میں 85 گول اسکور کیے ہیں۔
قبل ازیں خبریں سامنے آئیں تھی کہ کرسٹیانو رونالڈو جلد ایک منٹ کے 300 پاؤنڈ کمائیں گے، نیا سعودی معاہدہ دنیا کے مہنگا ترین ایتھیلٹ ہونے پر مہر ثبت کر دے گا۔
رونالڈو کو سعودی پرو لیگ کلب النصر کی جانب سے 167.
39 سالہ فٹبالر نے النصر کو جنوری 2023 میں جوائن کیا تھا، تب انھیں 164 ملین پاؤنڈ فی سیزن میچز کیلئے اور اضافی 49 ملین پاؤنڈ آف دی فیلڈ ایونٹس کیلیے دیے گئے تھے، اب وہ دنیا کے سب زیادہ معاوضہ حاصل کرنے والے کھلاڑی بن جائیں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: پاو نڈ
پڑھیں:
سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں جنگلات میں لگنے والی بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں
سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں کے جنگلات میں لگنے والی حالیہ بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں۔
سپارکو کی جانب سے پر جاری کردہ سیٹلائٹ ڈیٹا کے مطابق گرمی کی حالیہ شدید لہر کے باعث جنگلات میں لگنے والی ہولناک آگ نے پنجاب کے ماحولیاتی لحاظ سے حساس علاقے 'کوٹلی ستیاں' کے 25 مقامات پر پھیلے ہوئے تقریباً 3,037 ہیکٹر (7,504.7 ایکڑ) پر مشتمل قدرتی جنگلات کو خاکستر کر دیا ہے۔
9 مئی سے 29 مئی 2026 تک کی سیٹلائٹ تصاویر کا موازنہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آگ لگنے کے بعد 'چِیڑ' کے جنگلات کو شدید نقصان پہنچا ہے، جو کہ دریائے سندھ اور دریائے جہلم کے اہم ذیلی آبی ذخائر کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس کے ماحولیاتی اثرات صرف آگ سے جھلسنے والے فوری نقصانات تک محدود نہیں ہیں؛ بلکہ اس آفت نے مقامی پرندوں اور جنگلی حیات کی افزائشِ نسل کے عروج کے سیزن کو شدید متاثر کیا ہے۔
نئے اگنے والے پودوں اور پنیریوں کو تباہ کر دیا ہے، اور اس متاثرہ زمین پر ایسی جڑی بوٹیوں اور جھاڑیوں کے پھیلنے کی راہ ہموار کر دی ہے جو آگ کو برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
اگرچہ مقامی آبادی اور محکمہ جنگلات کے عملے نے کئی علاقوں میں آگ پر کامیابی سے قابو پا لیا ہے، لیکن تیز اور گرم ہواؤں کے باعث ہمسایہ ڈھلوانوں پر اب بھی آگ پھیل رہی ہے، جس سے ماحول کو مزید نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔