دلت بیٹی کیساتھ درندگی بی جے پی حکومت کی دلت مخالف پالیسیوں کی عکاس ہے، راہل گاندھی
اشاعت کی تاریخ: 2nd, February 2025 GMT
کانگریس لیڈر نے بی جے پی حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس حکومت کی پالیسی خاص طور پر اترپردیش میں دلتوں کے خلاف ظلم و ستم میں اضافے کا سبب بن رہی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایودھیا میں تین دن سے لاپتہ ایک دلت لڑکی کی لاش ایک کھیت سے برآمد ہوئی، جس پر قائد حزب اختلاف اور کانگریس کے رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی نے شدید ردعمل ظاہر کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ واقعہ نہ صرف دل دہلا دینے والا ہے بلکہ انتہائی شرمناک بھی ہے۔ راہل گاندھی نے بی جے پی حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس حکومت کی پالیسی خاص طور پر اتر پردیش میں دلتوں کے خلاف ظلم و ستم میں اضافے کا سبب بن رہی ہے۔ راہل گاندھی نے اس سانحے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اگر انتظامیہ نے بچی کے خاندان کی مدد کی اپیل پر فوری طور پر توجہ دی ہوتی، تو شاید اس بچی کی زندگی بچائی جا سکتی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ایک اور بیٹی کی زندگی اس گھناؤنے جرم کے نتیجے میں ختم ہوگئی۔ راہل گاندھی نے سوال اٹھایا کہ کب تک اور کتنے خاندانوں کو اس طرح کی تکالیف جھیلنی ہوں گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ بی جے پی کی حکومت دلتوں کے خلاف اس طرح کے تشدد کو بڑھاوا دے رہی ہے اور حکومت کو فوری طور پر اس جرم کی تحقیقات کرنی چاہئیں اور مجرموں کو سخت سزا دلانی چاہیئے۔ اس کے علاوہ، پولیس اہلکاروں کے خلاف بھی کارروائی کی جانی چاہیئے جو اس جرم میں کسی بھی طرح ملوث ہیں۔ راہل گاندھی نے کہا کہ دلت کمیونٹی اور ملک کی بیٹیاں انصاف کے لئے حکومت کی طرف دیکھ رہی ہیں۔ ادھر پولیس اس کیس میں تحقیقات میں مصروف ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ درشن نگر چوکی میں ایک اطلاع ملی تھی جس کے مطابق ایک لڑکی نے بتایا تھا کہ 30 جنوری کی رات وہ اپنی بہن کے ساتھ سو رہی تھی اور جب وہ جاگی تو اس کی بہن موجود نہیں تھی۔ پولیس نے فوراً مقدمہ درج کیا اور لڑکی کی تلاش کے لئے دو ٹیمیں تشکیل دیں۔ صبح کے وقت لڑکی کی لاش ایک کھیت سے برآمد ہوئی، تمام شواہد اکٹھے کر لئے گئے ہیں اور ایک مشتبہ شخص کو حراست میں لے کر تفتیش کی جا رہی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: راہل گاندھی نے حکومت کی بی جے پی کے خلاف کہا کہ رہی ہے
پڑھیں:
حکومت کا فوری طور پر 10 لاکھ ٹن گندم درآمد کرنے کا فیصلہ
اسلام آباد: وفاقی حکومت نے ملک میں گندم کی طلب اور دستیاب ذخائر کے درمیان فرق کو مدنظر رکھتے ہوئے فوری طور پر 10 لاکھ ٹن گندم درآمد کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ وزارتِ نیشنل فوڈ سکیورٹی کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد صوبوں کی ضروریات پوری کرنا، گندم کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنانا اور مارکیٹ میں استحکام برقرار رکھنا ہے۔
وزارتِ نیشنل فوڈ سکیورٹی کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق پاکستان ایگریکلچرل اسٹوریج اینڈ سروسز کارپوریشن (پاسکو) کے موجودہ گندم ذخائر ملک بھر کے صوبوں کی مجموعی ضروریات پوری کرنے کے لیے ناکافی ہیں، جس کے باعث ہنگامی بنیادوں پر گندم درآمد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پاسکو کے پاس موجود گندم کے ذخائر کو صوبوں کی ضرورت اور دستیابی کے مطابق تقسیم کیا جائے گا تاکہ کسی بھی علاقے میں قلت پیدا نہ ہو اور مارکیٹ میں سپلائی کا نظام متاثر نہ ہو۔
وزارت کے مطابق وفاقی حکومت نے صوبائی حکومتوں کے ساتھ گندم کی دستیابی، قیمتوں اور سپلائی کی مجموعی صورتحال پر تفصیلی مشاورت کی ہے، جس کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا کہ فوری درآمد کے ذریعے ملکی ضروریات کو پورا کیا جائے۔
اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ حکومت عوام کو سستی، معیاری اور وافر مقدار میں گندم کی فراہمی کے لیے پرعزم ہے اور اس سلسلے میں تمام ضروری انتظامی اور عملی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بروقت گندم درآمد کرنے سے نہ صرف آٹے کی قیمتوں میں استحکام برقرار رکھنے میں مدد ملے گی بلکہ ممکنہ قلت اور ذخیرہ اندوزی جیسے مسائل پر قابو پانے میں بھی معاونت حاصل ہوگی۔
حکومت نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ ملک میں غذائی تحفظ کو یقینی بنانے، سپلائی چین کو مستحکم رکھنے اور عوام کو مناسب قیمت پر بنیادی غذائی اجناس کی فراہمی کے لیے تمام ممکنہ اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔