بھارتی بلے باز ابھیشیک شرما نے ٹی20 میں کئی اہم ریکارڈ اپنے نام کرلیے
اشاعت کی تاریخ: 3rd, February 2025 GMT
کراچی:
بھارتی ٹیم کے اوپنر بلے باز ابھیشیک شرما نے ٹی20 فارمیٹ میں ایک اننگ کے دوران سب سے زیادہ چھکے لگانے سمیت کئی ریکارڈز اپنے نام کر لیے۔
انہوں نے انگلینڈ کے خلاف کھیلے گئے آخری ٹی 20 میچ میں مختلف اعزاز اپنے نام کیے۔
ابھیشیک شرما نے ایک اننگ میں سب سے زیادہ 13 چھکے لگا کر روہت شرما کے 10 چھکوں کا ریکارڈ توڑ دیا۔ یہ کسی بھی انڈین بیٹر کی جانب سے سب سے زیادہ چھکے لگانے کا ریکارڈ ہے۔
اسی طرح، ابھیشیک شرما نے 135 رنز کی اننگز کھیل کر بھارت کی جانب سے سب سے زیادہ اسکور کرنے کا اعزاز بھی اپنے نام کر لیا۔
مزید پڑھیں؛ انگلینڈ کو بھارت کیخلاف ٹی ٹوئنٹی سیریز میں 4-1 سے شکست
اس سے قبل، شبمن گل نے احمد آباد میں نیوزی لینڈ کے خلاف 126 رنز کی اننگز کھیلی تھی جس میں انہوں نے 7 چھکے لگائے تھے۔
بھیشیک شرما نے 37 گیندوں پر تیز ترین سنچری بنا کر سابق پاکستانی آل راؤنڈر اور کپتان شاہد آفریدی کی یاد بھی تازہ کر دی۔
واضح رہے کہ اس میچ میں بھارت نے انگلینڈ کو 150 رنز سے شکست دے کر اپنی دوسری سب سے بڑی جیت حاصل کی۔ انگلینڈ کی ٹیم 278 رنز کے ہدف کا تعاقب میں محض 97 رنز پر پویلین لوٹ گئی تھی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ابھیشیک شرما نے سب سے زیادہ اپنے نام
پڑھیں:
باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ مالی مشکلات یا کسی نجی معاہدے کی بنیاد پر باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا اور یہ ذمہ داری اسلامی تعلیمات کے مطابق مستقل اور قابل نفاذ فریضہ ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے باپ اختر حسین اعوان کی درخواست خارج کر دی اور فیملی کورٹ و اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے۔عدالت نے قرار دیا کہ نابالغ بچے کا نان و نفقہ صرف قانونی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری بھی ہے۔ غیر ادا شدہ نان و نفقہ باپ پر قرض تصور ہوگا جو وقت گزرنے سے ختم نہیں ہو سکتا۔فیصلے میں سور البقرہ، سور الطلاق اور متعدد احادیث نبوی کے حوالے دیتے ہوئے کہا گیا کہ معاہدے یا رضامندی کے ذریعے نابالغ بچے کے حقوق ختم نہیں کیے جا سکتے، خصوصا جب بچہ معذوری کی حالت میں ہو۔(جاری ہے)
درخواست گزار کا موقف تھا کہ 2005 میں فریقین کے درمیان ہونے والے رضامندی نامے کے تحت تاحیات خرچہ طے ہو چکا تھا اور ماضی کے نان و نفقہ کی وصولی قانونا چھ سال سے زائد مدت کے لیے نہیں کی جا سکتی۔عدالت نے ماضی کے نان و نفقہ سے متعلق اسلامی اصولوں کی روشنی میں نئی قانون سازی کی سفارش کرتے ہوئے فیصلے کی نقل لا اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارت قانون و انصاف کو ارسال کرنے کا حکم بھی دیا۔