ایف بی آئی اور نیدرلینڈز پولیس کی جانب سے صائم رضا نیٹ ورک کی انتالیس ویب سائٹس کی بندش کے معاملے پر پی ٹی اے کا ردعمل سامنے آیا ہے۔

پی ٹی اے کے ترجمان نے وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ ان ویب سائٹس کی بلاکنگ میں ان کا کوئی کردار نہیں تھا اور نہ ہی اس حوالے سے کوئی رسمی درخواست موصول ہوئی۔

ترجمان نے مزید کہا کہ نہ تو کسی داخلی اور نہ ہی کسی غیر ملکی ادارے نے پاکستان سے اس معاملے میں رابطہ کیا۔ 

پی ٹی اے کے مطابق ان ویب سائٹس کی ہوسٹنگ پاکستانی سرورز پر نہیں کی گئی تھی اور امریکی محکمہ انصاف کے مطابق یہ نیٹ ورک دراصل نیدرلینڈز سے آپریٹ کر رہا تھا۔

محکمہ انصاف نے بتایا کہ ڈچ حکام کی معاونت سے ان ویب سائٹس کو ضبط کیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں یہ سائٹس عالمی سطح پر آف لائن ہو جائیں گی۔

پی ٹی اے نے اس بات کا بھی ذکر کیا کہ ملک میں سائبر سیکیورٹی کی صورتحال کو مزید مستحکم کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ اس سلسلے میں نیشنل ٹیلی کام کمپیوٹر ایمرجنسی رسپانس ٹیم قائم کی گئی ہے جو سائبر خطرات، فشنگ ای میلز اور آن لائن دھوکہ دہی کی نگرانی کرتی ہے۔

اس کے علاوہ پی ٹی اے عالمی پلیٹ فارمز جیسے گوگل اور فیس بک کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے تاکہ فشنگ ویب سائٹس اور جعلی لنکس کی رپورٹنگ کے ذریعے ان کی بلاکنگ کو یقینی بنایا جا سکے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ویب سائٹس کی پی ٹی اے

پڑھیں:

ایرانی اثاثے ضبط کرنے کی ٹرمپ کی دھمکی خطرناک نظیر ہے، عباس عراقچی کا سخت ردعمل

تہران: ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان پر شدید ردعمل دیا ہے جس میں انہوں نے بحری جہازوں کو ہونے والے ممکنہ نقصانات کا ازالہ ایرانی اثاثوں سے کرنے کی بات کی تھی۔ ایران نے اس مؤقف کو بین الاقوامی قوانین کے لیے ایک خطرناک اور اشتعال انگیز نظیر قرار دیا ہے۔

عباس عراقچی نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ کسی ملک کے اثاثوں کو مستقبل کے غیر متعلقہ دعووں کی بنیاد پر ضبط کرنا ایک ایسا اقدام ہے جو عالمی مالیاتی نظام اور بین الاقوامی قوانین کے لیے سنگین نتائج پیدا کر سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کسی دوسرے ملک کے اثاثے مستقبل کے غیر متعلقہ نقصانات کی ادائیگی کے لیے ضبط کرنا ایک اشتعال انگیز نظیر ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ جو ممالک یا ادارے اس طرح کے ضبط شدہ اثاثوں سے فائدہ اٹھانے یا اس اقدام کی حمایت کرنے کی کوشش کریں گے، انہیں یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ اگر حکومتیں اس طرز عمل کو معمول بنا لیں تو پھر دنیا میں کسی بھی ملک کے اثاثے محفوظ نہیں رہیں گے۔

عباس عراقچی کے مطابق اس طرح کے اقدامات عالمی مالیاتی نظام میں بے یقینی، افراتفری اور قانونی تنازعات کو جنم دے سکتے ہیں، جن کے نتائج نہ صرف غیر خوشگوار بلکہ عالمی امن و استحکام کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہوں گے۔

ان کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی برقرار ہے اور آبنائے ہرمز میں بحری جہاز رانی، اقتصادی پابندیوں اور سفارتی تعلقات کے حوالے سے دونوں ممالک کے درمیان سخت بیانات کا تبادلہ جاری ہے۔

Seizing another nation's assets to pay for unrelated future claims is an incendiary precedent.

Those who celebrate or profit from such funds should remember: once governments normalize confiscation, no one's assets are safe. Ensuing chaos will not be pretty or peaceful.

— Seyed Abbas Araghchi (@araghchi) July 24, 2026

تجزیہ کاروں کے مطابق اگر اثاثوں کی ضبطی جیسے اقدامات عملی شکل اختیار کرتے ہیں تو اس سے عالمی سرمایہ کاری، بین الاقوامی تجارت اور ممالک کے درمیان مالیاتی اعتماد پر بھی منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • بچوں کی آن لائن حفاظت: ٹک ٹاک پر یورپی یونین کی فرد جرم عائد
  • ایران نے عراق کے ذریعے بھیجی گئی امریکی جنگ بندی کی تجویز مسترد کر دی، امریکی اخبار کا دعویٰ
  • آبنائے ہرمز اور باب المندب کا متبادل تیار کرنے میں دہائیاں لگیں گی، عرب ماہر
  • ایران کے بحرین اور اردن میں امریکی فوجی تنصیبات پر ڈرون حملے، طیارہ گرانے کا دعویٰ
  • ایران کا بحرین میں ایمیزون کے ڈیٹا سینٹر کو نشانہ بنانے کا بڑا دعویٰ
  • فیلڈ مارشل عاصم منیر پھر مرکز نگاہ
  • باکو میں بین الاقوامی جوڈیشل ٹریننگ پروگرام، سپریم کورٹ کے جج نے متبادل نظامِ انصاف پر زور
  • ایرانی اثاثے ضبط کرنے کی ٹرمپ کی دھمکی خطرناک نظیر ہے، عباس عراقچی کا سخت ردعمل
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ پی ٹی آئی بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے، علی ظفر