عمران خان کا آرمی چیف کو خط پارٹی پالیسی میں تبدیلی نہ سمجھا جائے، بیرسٹر گوہر
اشاعت کی تاریخ: 3rd, February 2025 GMT
عمران خان کا آرمی چیف کو خط پارٹی پالیسی میں تبدیلی نہ سمجھا جائے، بیرسٹر گوہر WhatsAppFacebookTwitter 0 3 February, 2025 سب نیوز
اسلام آباد:چیئرمین پاکستان تحریک انصاف ( پی ٹی آئی ) بیرسٹر گوہر نے بھی بانی پی ٹی آئی اور سابق وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے آرمی چیف جنرل عاصم منیر کو خط لکھے جانے کی تصدیق کر دی۔
پیر کے روز اڈیالہ جیل راولپنڈی کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ خط کو پارٹی پالیسی میں تبدیلی نہ سمجھا جائے اور عمران خان نے بطور سابق وزیراعظم لکھا ہے کہ کچھ وجوہات کی بنا پر فوج اور عوام کے درمیان فاصلے بڑھ رہے ہیں جبکہ خط میں سپہ سالار سے پالیسیوں پر نظرثانی کی درخواست کی گئی ہے۔
چیئرمین پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ عمران خان کا آرمی چیف کو خط پارٹی پالیسی میں تبدیلی نہیں اور انہوں نے بطور سابق وزیراعظم خط لکھا ہے جس میں فوج اور عوام کے درمیان فاصلے کی وجوہات لکھی ہیں۔
بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی نے خط میں لکھا ہے کہ فوج اور عوام میں خلیج نہیں بڑھنی چاہیئے جبکہ سپہ سالار سے پالیسیوں پر نظرثانی کی درخواست کی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی نے لکھا کہ افواج پاکستان بہت قربانیاں دے رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ فراڈ الیکشن اور 26 ویں آئینی ترمیم فوج اور عوام کے فاصلے کی وجہ ہے اور بانی پی ٹی آئی نے بتایا ہے کہ ساری چیزوں کا نزلہ فوج پر گررہا ہے۔
بیرسٹر گوہر کا مزید کہنا تھا کہ بانی نے کھلے خط میں کہا ہے کہ ہم انتشار نہیں چاہتے فوج ہماری ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: بانی پی ٹی ا ئی کا کہنا تھا کہ فوج اور عوام بیرسٹر گوہر ا رمی چیف
پڑھیں:
امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں 6 جون کو احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ابھیجیت دپکے نے کہا ہے کہ وہ 6 جون کو بھارت واپس آ کر دہلی کے جنتر منتر پر پرامن احتجاج کا آغاز کریں گے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ملک میں مختلف امتحانی تنازعات کے باعث طلبہ کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے، جس پر فوری طور پر ذمے داری طے کی جانی چاہیے۔
دپکے نے مطالبہ کیا ہے کہ نیٹ یو جی پیپر لیک، سی بی ایس ای، سی یو ای ٹی اور ایس ایس سی جی ڈی سمیت مختلف امتحانی بے ضابطگیوں کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔
ان کا دعویٰ ہے کہ امتحانی نظام میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں سے ایک کروڑ سے زائد طلبا متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں طلبا، نوجوانوں اور اپنے حامیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ 6 جون کو دہلی میں ان کے احتجاج میں شریک ہوں۔
دپکے کے مطابق پیپر لیک اور دیگر تنازعات کے باعث طلبا شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے، کئی نوجوانوں کی محنت ضائع ہوئی اور بعض افسوسناک واقعات میں خودکشی جیسے سنگین نتائج بھی سامنے آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں ذمے داروں کا تعین ناگزیر ہو چکا ہے۔
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبے پر اب تک 8 لاکھ سے زائد افراد دستخط کر چکے ہیں جبکہ لکھنؤ، جے پور، دہلی اور مہاراشٹر سمیت مختلف شہروں میں پہلے ہی احتجاجی مظاہرے کیے جا چکے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ مسلسل ناکامیوں کے باوجود اگر احتساب نہ کیا گیا تو عوامی اعتماد مزید متاثر ہوگا اور طلبا بار بار نقصان اٹھاتے رہیں گے، جبکہ متعلقہ ادارے کسی مؤثر کارروائی سے گریز کر رہے ہیں۔
انہوں نے اعلان کیا کہ وہ دہلی پہنچ کر جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت کے لیے حکام سے رابطہ کریں گے اور یہ احتجاج مکمل طور پر پرامن اور آئینی دائرے میں ہوگا۔
دپکے نے یہ بھی کہا کہ انہیں امریکا میں ملازمت کی پیشکش ہوئی تھی، تاہم انہوں نے بیرون ملک جانے کے بجائے بھارت واپس آ کر احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔