چیمپیئنز ٹرافی،پاکستان ٹیم کی نئی کٹ کی رونمائی کب؟ متوقع تاریخ سامنے آگئی
اشاعت کی تاریخ: 3rd, February 2025 GMT
آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی کے لیے پاکستان ٹیم کی نئی کٹ کی رونمائی 7 فروری کو قذافی اسٹیڈیم کی افتتاحی تقریب کے موقع پر کی جائے گی، نئے قذافی اسٹیڈیم کا باقاعدہ افتتاح وزیراعظم شہباز شریف کریں گے۔
تفصیلات کے مطابق آئی سی سی چیمپیئنز ٹرافی 2025 کے لیے پاکستانی کٹ کی رونمائی کی متوقع تاریخ بھی سامنے آگئی۔پی سی بی ذرائع کے مطابق آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی کے لیے پاکستان ٹیم کی نئی کٹ کی رونمائی 7 فروری کو قذافی اسٹیڈیم لاہور کی افتتاحی تقریب کے دوران متوقع ہے۔
وزیر اعظم شہباز شریف 7 فروری کو قذافی اسٹیڈیم کی افتتاحی تقریب کے مہمان خصوصی ہوں گے اور نئے قذافی اسٹیڈیم کا باقاعدہ افتتاح کریں گے۔اس افتتاحی تقریب کے دوران نئی کٹ کی رونمائی بھی کی جائے گی جبکہ قومی اسکواڈ چیمپئنز ٹرافی سے پہلے سہ ملکی سیریز میں نئی کٹ میں میدان میں اترے گی۔
واضح رہے کہ آئی سی سی چیمپیئنز ٹرافی 19 فروری سے شروع ہو کر 9 مارچ تک جاری رہے گی، میگا ایونٹ کے میچز لاہور، کراچی اور راولپنڈی میں کھیلے جائیں گے جبکہ بھارتی ٹیم اپنے میچز یو اے ای میں کھیلے گی۔چیمپیئنز ٹرافی سے قبل 8 فروری سے سہ ملکی کرکٹ سیریز شروع ہوگی جس میں پاکستان کے علاوہ نیوزی لینڈ اور جنوبی افریقا کی ٹیمیں شامل ہیں۔ایونٹ میں 8 اور 10 فروری کے میچز قذافی اسٹیڈیم لاہور میں ہوں گے جبکہ سیریز کا آخری لیگ میچ 12 فروری اور فائنل 14 فروری کو کراچی میں کھیلا جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: نئی کٹ کی رونمائی افتتاحی تقریب کے چیمپیئنز ٹرافی قذافی اسٹیڈیم فروری کو
پڑھیں:
’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران پر اب تک کے سب سے بڑے فوجی حملے کی منظوری دینے کے قریب ہیں۔
امریکی خبر رساں ادارے سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ میں ایران پر ایک بہت بڑے حملے پر غور کر رہا ہوں جو پہلے ہونے والے تمام حملوں سے کہیں بڑا ہوگا۔
انھوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ تمام عسکری آپشنز زیر غور ہیں۔ میں فیصلہ کرنے کے بہت قریب ہوں اور اس کی تمام تیاریاں بھی مکمل ہیں۔
امریکی صدر ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اگر وہ چاہیں تو اسرائیل دو منٹ میں اس کارروائی میں شامل ہو جائے گا تاہم ہمیں کسی کی ضرورت نہیں۔
قبل ازیں ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثیوں کے بحیرہ احمر میں دو سعودی آئل ٹینکروں پر حملے کے بعد امریکی صدر نے ایران اور حوثیوں دونوں کو بڑی فوجی سزا دینے کی دھمکی بھی دی تھی۔
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ اگر حوثیوں نے دوبارہ ایسے حملے کیے تو امریکا انھیں ایران کی کارروائی تصور کرے گا کیونکہ حوثی اس کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔
دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت ایک بار پھر 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہے۔
بحیرہ احمر اور باب المندب میں جہاز رانی کو لاحق خطرات نے عالمی توانائی منڈی میں تشویش بڑھا دی ہے۔
ادھر اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔ خطہ مسلسل وسیع ہوتے تصادم کی لپیٹ میں آ رہا ہے۔ ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے اور ہر نئی کشیدگی اگلی کشیدگی کا سبب بن رہی ہے۔