آپ میری طاقت اور عزت ہیں، نواز شریف کی اراکین پنجاب اسمبلی سے گفتگو
اشاعت کی تاریخ: 3rd, February 2025 GMT
پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر محمد نواز شریف اور وزیراعلی پنجاب مریم نواز سے راولپنڈی، اٹک، مری، چکوال، وزیرآباد، حافظ آباد اور منڈی بہاؤ الدین سے پنجاب اسمبلی کے ارکان نے ملاقات کی۔
پارٹی کی جانب سے جاری بیان کے مطابق ملاقات کے دوران ملک کی مجموعی صورتحال، عوام کے مسائل اور حلقوں میں ترقیاتی کام ملاقات میں زیر ، غور آئے، ارکان اسمبلی نے وزیراعلی مریم نواز شریف کو صوبے میں بہترین کارکردگی پر خراج تحسین کیا۔
انہوں نے کہا کہ مریم نواز شریف نے محمد نواز شریف اور شہباز شریف کے دور اور کارکردگی کی یاد تازہ کر دی ہے، سیاسی تعصبات سے پاک شفافیت اور میرٹ پر ترقیاتی کاموں کی تکمیل خوش آئیند اور مثبت سیاسی روایت ہے، سستی اور وافر کھاد کی دستیابی پر وزیراعلی مریم نواز شریف مبارک اور شاباش کی مستحق ہیں،
ارکان اسمبلی نے کہا کہ کسان کارڈ کی وجہ سے آڑھتیوں سے چھٹکارا ملنے پر کاشتکار خوشحال ہوا، صحت کے پورے نظام کی بہتری، مفت ادویات اور گھر کی دہلیز پرعلاج، ہونہار سکالر شپ کی فراہمی اور ستھرا پنجاب کی سکیمیں قابل تحسین ہیں، اجتماعی شادیوں کے "دھی رانی پروگرام" کو عوام میں بہت پذیرائی ملی ہے۔
اس موقع پر اراکین پنجاب اسمبلی سے گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیراعظم اور مسلم (ن) کے صدر نواز شریف نے کہا کہ آپ سب میری طاقت اور عزت ہیں، الحمدللہ، عوام کی مشکلات میں کمی آ رہی ہے، مریم نواز شریف کی محنت سے پنجاب میں بہتری نظر آ رہی ہے۔
قائد (ن) لیگ نے کہا کہ پنجاب واحد صوبہ ہے جہاں روٹی 12سے 14روپے میں مل رہی ہے۔
ملاقات کے دوارن مریم نواز نے کہا کہ ہماری کارکردگی پر سب سے بڑا چیک عوام اور نوازشریف ہیں، وزیراعلی مریم نواز نے راولپنڈی رنگ روڈ دسمبر تک مکمل کرنے کی ہدایت کی، انہوں نے راولپنڈی اور گوجرانوالہ ڈویژن کے ترقیاتی منصوبے بروقت مکمل کرنے کی بھی ہدایت دی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: مریم نواز شریف نے کہا کہ
پڑھیں:
بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔
علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔
علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔