کراچی، ساڑھے 9 کروڑ کی ڈیجیٹل کرنسی ڈکیتی میں ملوث مرکزی ملزم گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 3rd, February 2025 GMT
گرفتار ملزم سی ٹی ڈی سول لائن میں تعینات تھا۔ پولیس ذرائع کے مطابق علی رضا کو ریلوے اسٹیشن کے قریب سے گرفتار کیا گیا۔ اسلام ٹائمز۔ شہر قائد کے علاقے منگھوپیر میں ارسلان نامی شہری کے اغوا اور ڈیجیٹل کرنسی ڈکیتی کیس میں مفرور مرکزی ملزم علی رضا کو گرفتار کر لیا گیا۔ گرفتار ملزم سی ٹی ڈی سول لائن میں تعینات تھا۔ پولیس ذرائع کے مطابق علی رضا کو ریلوے اسٹیشن کے قریب سے گرفتار کیا گیا۔ ایس ایس پی اے وی سی سی انیل حیدر نے گرفتاری کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ اس کیس میں اب تک 9 ملزمان کو گرفتار کیا جا چکا ہے، جبکہ مزید مفرور ملزمان کی تلاش کیلئے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ واضح رہے کہ جنوری میں سی ٹی ڈی اور ایس پی یو میں تعینات پولیس اہلکاروں سمیت دیگر ملزمان نے منگھوپیر کی ایک رہائشی سوسائٹی سے کرپٹو کرنسی کے کاروبار سے وابستہ شہری ارسلان کو اغوا کیا تھا۔
ملزمان نے شہری کے موبائل اکاؤنٹ سے 3 لاکھ 40 ہزار ڈالرز (9 کروڑ 48 لاکھ پاکستانی روپے سے زائد) دوسرے اکاؤنٹ میں منتقل کیے اور بعد میں اسے مرازِ قائد کے قریب چھوڑ کر فرار ہوگئے تھے۔ اس واقعے کا مقدمہ منگھوپیر تھانے میں درج کیا گیا تھا، جبکہ واردات میں سی ٹی ڈی سول لائن اور اسپیشل پروٹیکشن یونٹ (ایس پی یو) کی سرکاری موبائلیں بھی استعمال کی گئی تھیں۔ پولیس کی جانب سے مزید تحقیقات جاری ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: سی ٹی ڈی
پڑھیں:
کراچی: کیماڑی سے اغواء 7 سالہ بچی کیساتھ قتل سے پہلے زیادتی کی تصدیق
— فائل فوٹوکراچی کے علاقے کیماڑی کے قریب جھاڑیوں سے ملنے والی 7 سالہ بچی کی لاش کی پوسٹ مارٹم رپورٹ سامنے آ گئی۔
پولیس سرجن ڈاکٹر سمیعہ کے مطابق پوسٹ مارٹم میں بچی سے زیادتی کے شواہد ملے ہیں، بچی کو تشدد کا نشانہ بھی بنایا گیا تھا۔
انہوں نے بتایا ہے کہ موت کی وجہ جاننے کے لیے مختلف اعضاء کے نمونے لیب بھجوا دیے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے بابا بھٹ جزیرے سے اغواء 7 سالہ بچی زیادتی کے بعد قتل، ملزم مقابلے میں ہلاکپولیس کے مطابق بچی کے قتل میں ملوث مبینہ ملزم پولیس مقابلے میں گزشتہ روز مارا گیا۔
پولیس نے بتایا ہے کہ بچی کی لاش ملنے کے بعد حاصل کی گئی سی سی ٹی وی ویڈیو میں ملزم کو دیکھا گیا تھا۔
سی سی ٹی وی ویڈیو میں ملزم کو بورا اٹھائے جیٹی سے آتے اور جاتے دیکھا گیا تھا۔
اس حوالے سے ڈی آئی جی ساؤتھ کا کہنا ہے کہ اگر کوئی اور شخص بھی واقعے میں ملوث ہوا تو اس کے خلاف بھی کارروائی کی جائے گی۔