سکندر راجہ انٹرا پارٹی الیکشن کیس سننے کے اہل نہیں، مسرت چیمہ
اشاعت کی تاریخ: 3rd, February 2025 GMT
لاہور : تحریک انصاف ( پی ٹی آئی ) کی رہنما مسرت جمشید چیمہ کاکہنا ہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں 3 ججز کی تعیناتی بذریعہ تبادلہ بدنیتی کی اعلی ترین مثال ہے،سکندر راجہ نے تمام فیصلے تحریک انصاف کے خلاف دیئے ،مقبول ترین جماعت سے بلے کا نشان چھینا،ملازمت مکمل ہونے کے بعد انٹرا پارٹی الیکشن کا کیس سننے کے اہل نہیں ،یہ کیس نئے چیف الیکشن کمیشن کو سننا چاہیے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے رہنما پی ٹی آئی نے کہاکہ جلسے کا اعلان ہوتے ہی وزیر داخلہ کی جانب سے ایک بار پھر عوام کو دھمکیاں دی جا رہی ہیں، پہلے بھی 26 نومبر کو نہتے شہریوں پر گولیاں برسائی گئیں اب بھی دھمکیاں لگائی جا رہی ہیں،یہ ہتھکنڈے عوام کو اپنا حق مانگنے سے نہیں روک سکتے۔
انہوں نے مزید کہاکہ طاقت کے زیر پر کسی کو تاعمر زیر نہیں کیا جا سکتا،آج نہیں تو کل ظلم کی یہ شب ختم ہوگی اور حق کا سورج طلوع ہوگا،تب تک ہم اپنی آواز بلند کرتے رہیں گے اور جب جب خان پکارے گا ہم سب لبیک کہیں گے۔
مسرت جمشید چیمہ کا کہنا تھا کہ مہنگائی کی وجہ سے غریب انسان کی جینا محال ہوگیا ہے، حکومت دعوؤں کے برعکس آئے روز کسی نہ کسی چیز کی قیمتوں میں اضافہ ہورہا ہوتا ہے، پیٹرول کی قیمتوں میں مزید اضافہ کرکے متوسط طبقے کو بے حال کردیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل مزید مہنگا کر دیا، نئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری
حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کرتے ہوئے پیٹرول کی قیمت میں 4 روپے 40 پیسے فی لیٹر اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 3 روپے 62 پیسے فی لیٹر اضافہ کر دیا ہے۔ اس حوالے سے باضابطہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پیٹرول مہنگا ہو تو موٹرسائیکل سوار متاثر نہیں ہوتے، مشیر خزانہ کے بیان پر شدید ردعمل
نوٹیفکیشن کے مطابق اضافے کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 331 روپے 52 پیسے فی لیٹر مقرر کر دی گئی ہے، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں بھی 3 روپے 62 پیسے فی لیٹر کا اضافہ کر دیا گیا ہے۔
نئی قیمتیں نافذجاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اطلاق فوری طور پر کر دیا گیا ہے، جس کے بعد ملک بھر کے پیٹرول پمپوں پر صارفین کو نئی قیمتوں کے مطابق ادائیگی کرنا ہوگی۔
عوام پر مزید مالی دباؤ کا خدشہمعاشی ماہرین کے مطابق پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے سے ٹرانسپورٹ کے اخراجات بڑھنے کا امکان ہے، جس کے نتیجے میں اشیائے خورونوش اور دیگر ضروری اشیا کی قیمتوں پر بھی دباؤ آ سکتا ہے۔
مزید پڑھیں:ایران جنگ کے اثرات: پیٹرول مہنگا، یورپ میں الیکٹرک گاڑیوں کی فروخت میں 51 فیصد اضافہ
ڈیزل کی قیمت میں اضافہ خاص طور پر مال بردار ٹرانسپورٹ اور زرعی شعبے کے اخراجات پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔
حکومت ہر 15 روز بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں، درآمدی لاگت، روپے کی قدر اور ٹیکسوں کی بنیاد پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا جائزہ لیتی تھی لیکن اب روزانہ کی بنیاد پر یہ عمل جاری ہے۔
اسی جائزہ عمل کے تحت تازہ نوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئے پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد نئی قیمتیں ملک بھر میں نافذ العمل ہو گئی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پیٹرول پیٹرولیم مصنوعات درآمدی لاگت ڈیزل روپے کی قدر عالمی منڈی مہنگا